العربية
Typed, pending editorial approval
۷۸۷ - وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ ﷺ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ لَهُ: «أَبْرِدْ» ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ ، فَقَالَ لَهُ: «أَبْرِدْ»، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ لَهُ: «أَبْرِدُ»، حَتَّى سَاوَى الظِلُّ التَّلُوْلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ : إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 539 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
مثل ہو گیا (حدیث شریف کے الفاظ ”حَتّٰى سَاوَى الظِّلُّ التُّلُولَ“ (یہاں تک کہ ٹیلوں کا سایہ ٹیلوں کے ایک مثل ہو گیا ہے) سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ظہر کا وقت ایک مثل کے اور بھی باقی رہتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اشیاء منبسطہ (بچھی چیزیں جو پھیلی ہوئی ہوں جیسے ٹیلہ وغیرہ) کا سایہ جب ایک مثل ہوتا ہے تو اشیاء مُنْتَصِبَہ (یعنی ایسی چیزیں جو کھڑی ہوئی ہوں جیسے لاٹھی وغیرہ) کا سایہ دو مثل کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ (ماخوذ از اعلاء السنن۔12)(یعنی عام چیزوں کا سایہ ان کے دو مثل کے قریب پہنچا اور اس وقت ظہر ادا کی گئی) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی بھاپ سے ہوتی ہے۔ (اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔)