Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الصَّلَاةِ

Hadith 788

بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلَوَاتِ وَتَعْجِيْلِهَا

In this book

Current reading

كِتَابُ الصَّلَاةِ

بَابُ تَأْخِيرِ الصَّلَوَاتِ وَتَعْجِيْلِهَا

Zujajat al-Masabih 788Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۸۸ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي مَنْزِلٍ، فَأَذَّنَ بِلَالُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «مَهُ يَا بِلَالُ»، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ ، فَقَالَ: «مَهُ يَا بِلَالُ»، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ: مَهُ يَا بِلَالُ، حَتَّى رَأَيْنَا فِي التَّلُوْلِ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ إِذَا اشْتَدَّ الْخُرُّ». رَوَاهُ الطَّحَاوِيُّ، وَرَوَى التَّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ. وَقَالَ: مَعْنَى مَنْ ذَهَبَ إِلَى تَأْخِيرِ الظُّهْرِ فِي شِدَّةِ الحَرِّ هُوَ أَوْلَى وَأَشْبَهُ بِالاتِّبَاعِ. وَأَمَّا مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ أَنَّ الرُّخْصَةَ لِمَنْ يَنْتَابُ مِنَ الْبُعْدِ وَلِلْمَشَقَّةِ عَلَى النَّاسِ، فَإِنَّ فِي حَدِيْثِ أَبِي ذَرٍّ مَا يَدُلُّ عَلَى خِلَافِ مَا قَالَ الشَّافِعِيُّ. فَلَوْ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ الشَّافِعِيُّ، لَمْ يَكُنْ لِلْإِبْرَادِ فِي ذَلِكَ الْوَقْتِ مَعْنَى لِاجْتِمَاعِهِمْ فِي السَّفَرِ، وَكَانُوْا لَا يَحْتَاجُوْنَ أَنْ يَنْتَابُوْا مِنَ الْبُعْدِ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 158 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ترمذی نے وضاحت کی ہے کہ جن ائمہ نے (جیسے امام اعظم، امام احمد اور ابن مبارک وغیرہم رحمہم اللہ) نے یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ سخت گرمی میں نماز ظہر میں تاخیر کی جائے یہ قول پیروی کیلئے مُرَجَّح اور اولیٰ ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے جو مسلک اختیار کیا ہے کہ گرمی کے موسم میں تاخیر ظہر کی رخصت ان لوگوں کیلئے ہے جو دور سے آتے ہیں اس لئے ان کی مشقت دور کرنے کیلئے تاخیر کا حکم دیا گیا حالانکہ ابوذر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں جو واقعہ مذکور ہے وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کی تائید نہیں کرتا کیونکہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جس مسلک کو اختیار کیا ہے اگر وہ درست ہوتا تو سفر کی حالت میں ابراد (یعنی ٹھنڈے وقت میں) نماز ظہر پڑھنا ایک بے معنی بات ہو جاتی، کیونکہ نماز ادا کرنے والے حالت سفر میں تھے اور ایک جگہ جمع تھے اور ان کو اس بات کی ضرورت نہیں تھی کہ دور سے آکر اکٹھے ہوں۔ (یہ پورا مضمون ترمذی میں مذکور ہے۔)