العربية
Typed, pending editorial approval
۹۸۳ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ (رضي الله عنهمس)، وَزَادَ فِيْهِ: «قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فِي الْكَفَّارَاتِ، وَالْكَفَّارَاتُ الْمُكْثُ فِي الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، وَالْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجَمَاعَاتِ، وَإِبْلَاغُ الْوُضُوْءِ فِي الْمَكَارِهِ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ، وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمٍ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ. وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ: اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، فَإِذَا أَرَدْتَ بِعِبَادِكَ فِتْنَةً فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ غَيْرَ مَفْتُوْنٍ. قَالَ: وَالدَّرَجَاتُ: إِفْشَاءُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامُ».
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 726 (unverified) 85% confidence
Mishkat (candidate) 726
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”رَأَيْتُ رَبِّي فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ“ میں نے اللہ عزوجل کو نہایت حسین صورت میں دیکھا۔ واضح ہو کہ یہ اور اسی قسم کے مضامین جو اس حدیث میں اور اس حدیث کے بعد والی حدیث میں مذکور ہیں، ان کا شمار متشابہات میں ہے اور متشابہات کے بارے میں اہل سنت والجماعت کا مسلک یہ ہے کہ ان پر ایمان رکھا جائے اور ان کی کیفیت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے، چنانچہ قرآن حکیم کے سورہ آل عمران کی وہ آیت جس میں محکمات اور متشابہات کا ذکر ہے، اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے : ”وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا“ (سورہ آل عمران، پ:3، ع:1، آیت نمبر:7) (جو لوگ علم دین میں پختہ کار اور (”فہیم“) ہیں (وہ متشابہات کے بارے میں) اتنا ہی کہہ کر رہ جاتے ہیں کہ اس پر ہمارا ایمان ہے، یہ سب کچھ ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے)۔ الغرض متشابہات کے درپے ہونا دینداری کے خلاف اور گمراہ ہونے کی نشانی ہے۔ (مرقات۔)