Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6251 (unverified) 98% confidence
Candidate: Jami al-Tirmidhi 303 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
And they were not commanded except...
(1) The statement: "And they were not commanded except..." indicates that prayer is also an act of worship, and worship requires complete sincerity to Allah. Sincerity cannot be achieved without intention, so it is necessary to have the intention for prayer. This is mentioned in Ta'liq I'la as-Sunan.
Note 2
Teach me
(2) The statement: "Teach me" – In the original text of the author: "Inform me."
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: وما أمروا إلا إلخ : أن الصلاة عبادة أيضًا، والعبادة إخلاص العمل بكليته الله تعالى، والإخلاص لا يحصل إلا بالنية، فوجب اشتراطها لها. قاله في تعليق إعلاء السنن».
Note 2
قوله
( ۲) قوله: فعلمني وفي أصل المؤلف: «فأعلمني».
Note 1
ف(1): ترمذی کی اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ تعدیل ارکان واجب ہے اور تعدیل
ارکان یہ ہے کہ نماز کے جملہ ارکان کو اطمینان کے ساتھ ادا کیا جائے اور ان کے ادا کرنے میں جلدی نہ
کی جائے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ رکوع کو پورے اطمینان کے ساتھ ادا کریں، رکوع سے اٹھنے کے بعد
قومہ میں بھی اطمینان سے کھڑے رہیں، اسی طرح سجدہ کو بھی اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور دونوں
سجدوں کے درمیان جلسہ میں بھی جلدی نہ کریں بلکہ اطمینان سے بیٹھیں الغرض اسی طرح پوری نماز کو
ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور اگر اس طرح تعدیل ارکان کے بغیر نماز ادا کی جائے تو نماز
ناقص ہو جاتی ہے اور اس کا اعادہ لازم آجاتا ہے۔
اس حدیث میں جلدی جلدی نماز پڑھنے کی مذمت ہے جیسا کہ آج کل بعض نمازی کیا کرتے
ہیں، گویا جلدی جلدی ٹھونگیں مار کر سر سے ایک بوجھ اتارتے ہیں۔(شرح وقایہ، ترجمہ ترمذی۔)
ف(2): بخاری کی مذکور الصدر حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”اِقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ
الْقُرْآنِ“ (جتنا قرآن تم کو یاد ہو اس میں سے جو بہ سہولت پڑھ سکتے ہو پڑھ لو) حدیث کے ان الفاظ
سے نماز میں مطلق قرأت کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے۔
بخاری کی اسی مذکور الصدر حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا
،ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِيَ قَائِمًا‘‘ (دوسرا سجدہ کرو، یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ پھر
دوسرے سجدے سے اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرا سجدہ اور
قیام کے درمیان جلسہ استراحت نہیں ہے، اگر یہاں جلسہ استراحت ہوتا تو اس کا ذکر فرمایا جاتا اور یہی
مذہب حنفی ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 498 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
پنجوں کو اس طرح کھڑا کیا جائے جیسے سجدہ میں کھڑا کرتے ہیں اور پھر دونوں سرین کو ایڑیوں پر ٹکا کر
ان پر بیٹھ جائے، نماز میں اس طرح بیٹھنا مکروہ ہے۔ یہ علامہ طیبی اور کرخی کا قول ہے جس کو ابن الہمام
نے فتح القدیر میں ذکر کیا ہے اور اشعۃ اللمعات نے بھی اس کو ذکر کر کے لکھا ہے کہ لفظ عقبہ کو اسی معنی
سے زیادہ مناسبت ہے، اس وجہ سے کہ عقب ایڑی کو کہتے ہیں، اور نہایہ میں بھی یہی مذکور ہے) اور
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے بھی منع فرماتے تھے کہ مرد سجدہ میں اپنی دونوں باہیں (نیچے) اور
کہنی کی درمیانی ہڈی) درندوں کی طرح زمین پر بچھائے (یہ حکم مردوں کے لئے ہے، عورتوں کو
چاہئے کہ سجدہ میں اپنی باہیں بچھایا کریں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کو سلام پھیر کر ختم فرماتے
تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
ف: امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے ”شرح معانی الآثار“ میں ”باب الخفض في الصلوة
هل فيه تكبير“ کے تحت ابن عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث بیان کر کے لکھا ہے کہ
ایک جماعت کا عمل رہا ہے کہ وہ نماز میں خفض یعنی رکوع اور سجدہ میں جانے کے لئے جھکتے وقت اللہ
اکبر نہیں کہتے ہیں، اور بنو امیہ کا بھی یہی عمل تھا لیکن متعدد متواتر احادیث جن کو امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ
نے اسی باب میں بیان فرمایا ہے، ان سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کسی رکن
میں جانے کے لئے جھکتے وقت ایسے ہی اللہ اکبر کہتے جیسے اس رکن سے اٹھتے وقت اللہ اکبر فرمایا کرتے
تھے، حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کا عمل بھی یہی تھا اور ائمہ مذہب امام ابوحنیفہ،
امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہم اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
واضح رہے کہ امام طحاوی کی مذکورہ بالا حدیث اور ذیل کی بخاری کی دونوں حدیثیں اس کا بیّن
ثبوت ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 796 (unverified) 82% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث میں صرف پہلے سجدہ سے اٹھتے وقت اور دوسرے سجدہ میں جاتے وقت اور قعدہ
اولی سے اٹھتے وقت تکبیروں کے بلند آواز سے کہنے کا ذکر ہے اور دیگر ارکان میں جاتے وقت تکبیر کہنے کا
ذکر نہیں ہے اس لئے کہ اس وقت یہی تین مذکورہ موقعوں میں تکبیر کہنے پر بحث ہو رہی تھی، لہذا اس سے
یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر تکبیرات نہ کہی گئی ہوں، چنانچہ اسماعیل کی روایت میں باقی اور تکبیرات کا ذکر
موجود ہے۔ (اشعۃ اللمعات)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 724 (unverified) 72% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز شروع کرتے وقت تکبیر تحریمہ کہنے کے قبل اپنے
ہاتھوں کے انگوٹھوں کو کانوں کی لوکیوں کے مقابل رکھا جائے پھر اس کے بعد اللہ اکبر کہے اور حنفی مذہب
یہی ہے۔ (اشعۃ اللمعات۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 803 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: تکبیر تحریمہ کے وقت کانوں تک ہاتھ اٹھانے کا حکم مردوں سے متعلق ہے اس کے برخلاف
عورتیں نماز کی نیت کر کے اللہ اکبر کہتے وقت اپنے دونوں ہاتھ کندھے تک اٹھاویں، لیکن ہاتھ دوپٹے
سے باہر نہ نکالیں۔ (طحاوی۔)
Allah Almighty says: "Restrain your hands and establish prayer." (Quran 4:77) The author of Al-Kanz al-Madfun and Al-Fulk al-Mashhun said: "This indicates that raising the hands is not done during transitions in prayer."
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اللہ عزّ وجلّ کا ارشاد ہے: ”كُفُّوْا اَيْدِيَكُمْ وَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ“ (سورۃ نساء،پ:5،
ع:11،آیت نمبر:77) یعنی تم اپنے ہاتھوں کو روکو اور نماز کے پابند ہوجاؤ۔ صاحب
”الكنز المدفون والفلك المشحون“ نے کہا ہے کہ اس قول باری تعالیٰ میں اس بات کی دلیل ہے
کہ شروع نماز کی تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں تکبیرات انتقالات کے وقت رفع یدین (یعنی کانوں
تک ہاتھ اٹھانے کو) ترک کیا جائے۔ (تاکہ ”كُفُّوْا اَيْدِيَكُمْ“ کے حکم کی تکمیل ہو۔)12
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اور علامہ ہاشم مدنی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب ”كشف الرين عن مسئلة رفع اليدين“
میں لکھا ہے کہ نسائی کی مذکورہ حدیث کی سند بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے اس لئے نسائی کی یہ
حدیث بخاری اور مسلم کی حدیثوں کی طرح صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 430a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
ف(1): جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس کی روایت مسلم نے کی ہے اس کے آخر میں
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”اسْكُنُوا فِى الصَّلَاةِ“ (نماز میں سکون اور اطمینان سے رہا
کرو)۔
اس ارشاد گرامی سے یہ مقصود ہے کہ درمیان نماز میں ایسا عمل نہ کیا جائے جس سے نماز کے
سکون و اطمینان میں خلل ہوتا ہو اس لئے ہر وہ عمل جس سے نماز کے سکون میں خلل ہوتا ہو ممنوع ہوگا اور
ظاہر ہے کہ درمیان نماز میں بار بار رفع یدین سے نماز کے سکون اور اطمینان میں خلل واقع ہوتا ہے، اس
وجہ سے اس حدیث میں درمیان نماز میں رفع یدین سے منع کیا گیا ہے۔
ف(2): اسی مذکور الصدر حدیث میں ارشاد ہوا ہے: ”مَا لِى أَرَاكُمْ رَافِعِى أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا
أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، اسْكُنُوا فِى الصَّلَاةِ“۔
(کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ (درمیان نماز میں رفع یدین کر کے) اپنے
ہاتھوں کو شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح بار بار ہلاتے رہتے ہو، (ایسا مت کرو) اور نماز میں سکون و
اطمینان سے رہا کرو)۔
حدیث کے ان الفاظ سے درمیان نماز میں رفع یدین کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے
برعکس وہ حضرات جن کے پاس درمیان نماز میں رفع یدین جائز ہے انہوں نے ”مَا لِى أَرَاكُمْ
رَافِعِى أَيْدِيكُمْ ......الخ“ سے قعدہ میں سلام پھیرتے وقت ہاتھ ہلا کر اشارہ کرنا مراد لیا ہے جس پر
بعض لوگوں کا عمل تھا، حالانکہ جس حدیث میں سلام پھیرتے وقت ہاتھ ہلا کر اشارہ کرنے سے منع کیا گیا
وہ دوسری حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں:
”مَا لِهَؤُلَاءِ يُؤْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ
يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ“۔
(ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہلا ہلا کر اشارہ
کرتے ہیں، ان کو چاہئے کہ ہاتھوں کو اپنے رانوں پر رکھیں پھر سیدھے اور بائیں جانب اپنے بھائی کو سلام
کریں) یہی وہ حدیث ہے جس سے قعدہ میں بوقت سلام ہاتھوں کو ہلا کر اشارہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
ان دونوں حدیثوں کے تقابل سے حسب ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں:
صدر کی پہلی حدیث کے یہ الفاظ ہیں ”مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ
شُمْسٍ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ ۔۔“ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ درمیان نماز میں رفع یدین نہ کیا جائے
کیوں کہ درمیان نماز میں بار بار رفع یدین سے نماز میں خلل واقع ہوتا ہے۔
اس حدیث کے ان ہر دو جملوں سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہوتی ہے کہ رفع یدین کی ممانعت کا
تعلق درمیان نماز سے ہے نہ کہ آخر نماز سے اگر ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ“ کے حکم کو نماز کے آخری
حصہ سلام کے وقت سے متعلق کیا جائے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے تو ”اسْكُنُوا“ کا حکم بے محل
ہوجائے گا کیوں کہ سلام سے تو نماز ہی ختم ہوجاتی ہے اور نماز ختم ہوجانے کے بعد سکون و اطمینان سے
رہنے کا کیا موقع ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ صدر کی حدیث جس میں ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ“ مذکور
ہے اس حدیث کو درمیان نماز میں رفع یدین کی ممانعت ہی سے متعلق کیا جائے، اس کے برخلاف
دوسری حدیث میں ”رَافِعِي أَيْدِيكُمْ“ کے بجائے ”يُؤْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ“ کے الفاظ ہیں جس کے معنی
ہاتھوں سے اشارہ کرنے کے ہیں اور اسی طرح اس دوسری حدیث کے آخر میں ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ
“ کی بجائے ”إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ......الخ“ کے الفاظ ہیں جس کے
معنی ہیں ہاتھوں کو اپنے رانوں پر رکھ کر سلام کیا جائے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں حدیثیں اپنے
اپنے الفاظ اور معانی کے لحاظ سے بالکل جدا ہیں۔ صدر کی پہلی حدیث کا تعلق بالکلیہ درمیان نماز میں
رفع یدین کی ممانعت سے ہے اور دوسری حدیث کا تعلق بوقت سلام قعدہ میں ہاتھوں کو ہلا کر اشارہ
کرنے کی ممانعت سے ہے۔
دونوں حدیثوں کے اس تقابل سے یہ واضح ہوگیا کہ ہر دو حدیثیں اپنے اپنے موقع کے لحاظ
سے علیحدہ ہیں اور دونوں کا جدا جدا حکم ہے اور اس طرح ایک حدیث کے حکم کو دوسرے حدیث کے حکم
سے متعلق کرنا قیاس مع الفارق ہے جو کسی حیثیت سے درست نہیں۔ (مرقات۔)12
Note 2
اگرچہ ابن عمر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف صحبت حاصل ہے اور ان کے لئے صحابی
ہونے کی فضیلت ہے، اب رہے اسود تو ان کے بھی بہت سے فضائل ہیں اور عبداللہ بن مسعود تو
عبداللہ بن مسعود ہی ہیں ان کا کیا کہنا یہ سن کر امام اوزاعی نے سکوت اختیار فرمایا۔
(اس کی روایت سفیان بن عیینہ نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مسند میں کی ہے۔)
ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا پھر خود انہوں نے رفع یدین کو
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترک کردیا۔ پس ابن عمر کا رفع یدین کو ترک کرنا اس وجہ سے ہے کہ جس
رفع یدین کو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا اس کا منسوخ ہونا ان کے پاس
ثابت ہے اور رفع یدین کے منسوخ ہونے کی دلیل ان کے پاس قائم ہوچکی ہے، (ورنہ وہ رفع یدین
کو درمیان نماز میں کبھی ترک نہ کرتے۔)
اور علامہ عینی نے کہا ہے کہ جس رفع یدین کے متعلق رفع یدین کے قائلین دلیل لاتے ہیں وہ
اس بات پر محمول ہے کہ رفع یدین پر عمل ابتدائی اسلام میں ہوتا تھا پھر منسوخ ہوگیا اور رفع یدین
منسوخ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ
Note 2
رفع یدین کر رہا ہے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کر رہا ہے تو اس سے عبداللہ بن زبیر
نے کہا کہ رکوع کو جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین مت کیا کر، یہ ایسی چیز ہے جس
کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کیا کرتے تھے اور پھر اس کو ترک فرما دیئے ہیں۔
اور علامہ عینی نے یہ بھی کہا ہے کہ تکبیر تحریمہ کے سوا باقی پوری نماز میں رفع یدین کا منسوخ ہونا
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت ہو چکا تھا جب ہی تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع
یدین کرتے ہوئے دیکھنے کے باوجود پھر بھی تکبیر تحریمہ کے سوا باقی پوری نماز میں رفع یدین ترک فرمایا
اگر رفع یدین کا منسوخ ہونا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ثابت نہ ہوتا تو آپ خود اپنی طرف سے
رفع یدین ہرگز ترک نہ کرتے۔
ف: واضح ہو کہ یہاں رفع یدین سے متعلق دو طرح کی حدیثیں آتی ہیں، ایک وائل حضرمی رضی
اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع اور بعد رکوع رفع یدین
فرماتے تھے اور دوسری حدیث عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے، جس میں مذکور ہے کہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع بعد رکوع رفع یدین نہیں فرماتے تھے اور دوسری حدیث عبداللہ بن مسعود
رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے۔ جس میں مذکور ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم قبل رکوع بعد رکوع رفع
یدین نہیں فرماتے تھے۔ اس طرح رفع یدین سے متعلق احادیث میں تعارض پایا جاتا ہے۔
امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ رفع یدین کے بارے میں اُن احادیث کو ترجیح حاصل
ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں جن میں قبل رکوع اور بعد رکوع حضور صلی اللہ علیہ وسلم
سے رفع یدین ثابت نہیں ہے۔
وائل حضرمی رضی اللہ عنہ وفد بن کر حضرموت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر
ہوئے تھے اور آپ کو صرف چند دن صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا موقع ملا، اس کے برخلاف عبداللہ بن مسعود
رضی اللہ عنہ ہمیشہ صحبت بابرکت میں اس طرح حاضر رہتے تھے کہ اجنبی حضرات آپ کی اس حاضر باشی کی وجہ
آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بیت میں شمار کرنے لگے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن مسعود رضی
اللہ عنہ صحبت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے لحاظ سے وائل حضرمی رضی اللہ عنہ سے زیادہ قدیم ہیں، اس لئے ابن
مسعود رضی اللہ عنہ کے احادیث کو وائل رضی اللہ عنہ کی حدیثوں پر ترجیح حاصل ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیثیں اس لئے بھی قابل ترجیح ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا شمار
جیسا کہ ابھی ذکر کیا جا چکا ہے ان جلیل القدر مہاجرین صحابہ میں ہے جو سفر و حضر میں ہمیشہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کی صحبت فیض درجت میں حاضر رہتے تھے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے اس تقرب کے سبب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے بارے میں
ارشاد فرمایا ہے، جس کو خود صاحب مشکوٰۃ نے اپنے رسالہ ”الاكمال في اسماء الرجال“ میں ذکر
کیا ”رضيت لامتى مارضى بها ابن ام عبد“ (میری امت کے لئے ابن ام عبد یعنی ابن مسعود
رضی اللہ عنہ جن باتوں کو پسند کریں مجھے بھی وہ باتیں پسند ہیں) یہی وہ امتیاز ہے جس کی بناء پر امام طحاوی
رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ وائل حضرمی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں حضور صلی اللہ
علیہ وسلم کے افعال کو زیادہ سمجھنے والے ہیں اسی وجہ سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیثوں کو وائل حضرمی
رضی اللہ عنہ کی حدیثوں پر ترجیح حاصل ہے۔ (شرح معانی الآثار)۔
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(1) The statement: "And they were not commanded except..." indicates that prayer is also an act of worship, and worship requires complete sincerity to Allah. Sincerity cannot be achieved without intention, so it is necessary to have the intention for prayer. This is mentioned in Ta'liq I'la as-Sunan.
Note 2
(2) The statement: "Teach me" – In the original text of the author: "Inform me."
Note 1
This footnote could not be resolved in the source.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: وما أمروا إلا إلخ : أن الصلاة عبادة أيضًا، والعبادة إخلاص العمل بكليته الله تعالى، والإخلاص لا يحصل إلا بالنية، فوجب اشتراطها لها. قاله في تعليق إعلاء السنن».
Note 2
( ۲) قوله: فعلمني وفي أصل المؤلف: «فأعلمني».
Note 1
ف(1): ترمذی کی اس روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ تعدیل ارکان واجب ہے اور تعدیل ارکان یہ ہے کہ نماز کے جملہ ارکان کو اطمینان کے ساتھ ادا کیا جائے اور ان کے ادا کرنے میں جلدی نہ کی جائے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ رکوع کو پورے اطمینان کے ساتھ ادا کریں، رکوع سے اٹھنے کے بعد قومہ میں بھی اطمینان سے کھڑے رہیں، اسی طرح سجدہ کو بھی اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور دونوں سجدوں کے درمیان جلسہ میں بھی جلدی نہ کریں بلکہ اطمینان سے بیٹھیں الغرض اسی طرح پوری نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اطمینان کے ساتھ ادا کریں اور اگر اس طرح تعدیل ارکان کے بغیر نماز ادا کی جائے تو نماز ناقص ہو جاتی ہے اور اس کا اعادہ لازم آجاتا ہے۔ اس حدیث میں جلدی جلدی نماز پڑھنے کی مذمت ہے جیسا کہ آج کل بعض نمازی کیا کرتے ہیں، گویا جلدی جلدی ٹھونگیں مار کر سر سے ایک بوجھ اتارتے ہیں۔(شرح وقایہ، ترجمہ ترمذی۔) ف(2): بخاری کی مذکور الصدر حدیث میں یہ الفاظ ہیں: ”اِقْرَأْ بِمَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ“ (جتنا قرآن تم کو یاد ہو اس میں سے جو بہ سہولت پڑھ سکتے ہو پڑھ لو) حدیث کے ان الفاظ سے نماز میں مطلق قرأت کا فرض ہونا ثابت ہوتا ہے۔ بخاری کی اسی مذکور الصدر حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”ثُمَّ اسْجُدْ حَتّٰى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ،ثُمَّ ارْفَعْ حَتّٰى تَسْتَوِيَ قَائِمًا‘‘ (دوسرا سجدہ کرو، یہاں تک کہ سجدہ کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ پھر دوسرے سجدے سے اٹھو یہاں تک کہ سیدھے کھڑے ہو جاؤ) اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دوسرا سجدہ اور قیام کے درمیان جلسہ استراحت نہیں ہے، اگر یہاں جلسہ استراحت ہوتا تو اس کا ذکر فرمایا جاتا اور یہی مذہب حنفی ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات)۔