Hadith 1035
Volume 1العربية
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 973 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
كِتَابُ الصَّلَاةِ · Chapter 10
18 narrations · In source reading order
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Mishkat (candidate) 782
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "At a distance of a stone's throw" – In An-Nihayah: The correct view is that if one prays with full humility, keeping their gaze fixed on the place of prostration during the standing position and not looking at those passing by, it is not disliked. This is the preferred opinion of Fakhr al-Islam. Ibn al-Humam favored what is mentioned in An-Nihayah without distinguishing between the mosque and an open space, as stated in Al-Mirqat.
(۱) قوله: على قذفة بحجر وفي النهاية»: الأصح أنه لوصلى صلاة الخاشعين بأن يكون بصره حال قيامه إلى موضع سجوده لا يقع بصره على المار: لا يكره، وهو مختار فخر الإسلام. ورجح ابن الهمام ما ذكره في النهاية» من غير تفصيل بين المسجد والصحراء، كذا في «المرقاة».
ف: واضح ہو کہ ابوداؤد کی اس حدیث میں ”قذف حجر“ کے الفاظ ہیں اور علماء نے قذف حجر سے مراد ”رمی جمار“ لیا ہے۔ حج کے موقع پر منٰی میں جو کنکریاں ماری جاتی ہیں اس کو ”رمی جمار“ کہا جاتا ہے، اور یہ کنکریاں تین ہاتھ کے فاصلے سے ماری جاتی ہیں اس لئے حدیث کے الفاظ ”قذف حجر“ کا ترجمہ تین ہاتھ پر سے گزرنا کیا گیا ہے۔ (مرقات، اشعۃ اللمعات۔)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Mishkat (candidate) 789
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: شرح منیہ میں مذکور ہے کہ جب نمازی کے سامنے سے گزرنے والا نمازی کے سجدہ کی جگہ یا نمازی اور اس کے سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو نماز پڑھنے والا اس کو اشارہ کر کے یا ”سُبْحَانَ اللّٰه“ کہہ کر روکے لیکن بیک وقت ان دونوں سے نہ روکے کیونکہ یہ بھی عمل کثیر ہے اور قاضی عیاض نے نقل کیا ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ گزرنے والے کو روکنے کے لئے نمازی عمل کثیر کا مرتکب نہ ہو۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "Repel as much as you can" – In Sharh al-Munyah: "One should repel the passerby if they intend to pass in front of the place of prostration or between the worshipper and the Sutrah by gesturing or saying 'Subhanallah,' but not both together." Al-Qadi 'Iyad has conveyed the consensus that it is not permissible to engage in excessive actions to repel them, as mentioned in Al-Mirqat.
(۱) قوله: وادرؤوا ما استطعتم وفي شرح المنية ويدرأ المار إذا أراد أن يمر في موضع سجوده أو بينه وبين السترة بالإشارة أو التسبيح، لا بهما معا. وقد نقل القاضي عياض الاتفاق على أنه لا يحل له العمل الكثير في مدافعته، قاله في المرقاة».
ف: شرح منیہ میں مذکور ہے کہ جب نمازی کے سامنے سے گزرنے والا نمازی کے سجدہ کی جگہ یا نمازی اور اس کے سترہ کے درمیان سے گزرنا چاہے تو نماز پڑھنے والا اس کو اشارہ کر کے یا سبحان اللہ کہہ کر روکے لیکن بیک وقت ان دونوں سے نہ روکے کیونکہ یہ بھی عمل کثیر ہے، اور قاضی عیاض نے نقل کیا ہے کہ ائمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ گزرنے والے کو روکنے کے لئے نمازی عمل کثیر کا مرتکب نہ ہو۔ (یہ مرقات میں مذکور ہے۔)
العربية
(2) The statement: "Repel from it as much as you can" – Muhammad (Imam Malik) said in Al-Muwatta: "It is disliked for a person to pass in front of a praying person. If someone intends to pass in front of them, they should repel them as much as possible without fighting. If they fight, the disturbance caused by fighting during the prayer is worse than the passerby crossing in front of them. We do not know of anyone who reported fighting except what was narrated from Abu Sa'id al-Khudri, and this is not the general practice. Rather, it is as I have described to you." End quote.
(۲) قوله: وادرؤوا عنها ما استطعتم: قال محمد في الموطأ» يكره أن يمر الرجل بين يدي المصلي، فإن أراد أن يمر بين يديه فليدراً ما استطاع، ولا يقاتله. فإن قاتله كان ما يدخل عليه في صلاته من قتاله إياه أشد عليه من تمر هذا بين يديه، ولا نعلم أحدا روى قتاله إلا ما روي عن أبي سعيد الخدري، وليست العامة عليها، ولكنها على ما وصفت لك. انتهى
ف: امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے موطاء میں کہا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کے لئے مکروہ تحریمی ہے، اگر کوئی نمازی کے سامنے سے گزرنا چاہے تو نمازی جہاں تک ہوسکے اس کو روکے لیکن اس آدمی سے نہ لڑے۔ اگر نمازی گزرنے والے سے لڑ پڑے تو نمازی کا لڑنا گناہ میں گزرنے والے کے گناہ سے زیادہ سخت ہوگا اس لئے کہ نمازی کے سامنے سے گزرنا گزرنے والے کے لئے مکروہ ہے فاسد نماز نہیں، اس کے برخلاف نمازی کا اس آدمی سے لڑنا عمل کثیر ہونے کی وجہ سے خود اس کی نماز کے لئے مفسد ہوگا، اب رہا یہ کہ حدیث شریف میں نمازی کے سامنے سے گزرنے والے نمازی کو ”فَلْيُقَاتِلْهُ “ فرما کر (لڑنے) کا جو حکم ہوا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ روکنے میں مبالغہ کیا جائے نہ کہ ایسی حقیقی لڑائی اختیار کی جائے کہ جس سے اس کی نماز فاسد ہو جائے۔ عامۃ العلماء کا یہی قول ہے۔ (التعلیق الممجد.)
العربية
ف: ہمارے علماء نے کہا ہے کہ یہ مذکورہ بالا حدیثیں اور آئندہ آنے والی حدیثیں اس حدیث کی ناسخ ہیں جس میں یہ مذکور ہے کہ نمازی کے سامنے سے عورت، کتا یا گدھا وغیرہ گزر جائیں تو نماز فاسد ہوجاتی ہے۔ اس کو ابن الملک نے ذکر کیا ہے، اور حلیہ کی تحقیق بھی یہی ہے کہ ان ہی مذکورہ حدیثوں سے وہ تمام حدیثیں منسوخ ہیں جن میں عورت، کتا، گدھا وغیرہ گزرنے سے نماز فاسد ہونے کا ذکر ہے۔ اور امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ وہ حدیث بھی منسوخ ہے جس میں ”فَلْيُقَاتِلْهُ“ فرما کر نمازی کو اس کے سامنے سے گزرنے والے سے لڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ نیز امام موصوف نے یہ بھی کہا ہے کہ ”فَلْيُقَاتِلْهُ“ والی حدیث میں نمازی کے سامنے سے گزرنے والے سے لڑنے کا جو حکم مذکور ہے وہ اسلام کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ حالت نماز میں عمل کثیر کی ممانعت نہ تھی۔12
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نمازی کے سامنے عورت ہونے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔ (اشعۃ اللمعات۔)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
(1) The statement: "No one objected to this" – Ibn al-Malik said: "The purpose is to show that the passing of a donkey in front of someone praying does not invalidate the prayer," as mentioned in Al-Mirqat.
(۱) قوله: فلم ينكر ذلك علي أحد قال ابن الملك والغرض منه أن مرور الحمار بين يديه لا يقطع الصلاة، كذا في «المرقاة».
ف: اس حدیث کے پیش نظر ابن الملک نے کہا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گدھا گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہے، مقتدی کو علیحدہ سترہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اسی وجہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے صف کے سامنے گزرنے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ (مرقات۔)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ف: ابن عابدین رحمہ اللہ علیہ نے ردالمحتار میں کہا ہے کہ سترہ کے لئے لکڑی یا سترہ کے قائم مقام کسی چیز کے نہ ہونے کی صورت میں نمازی اپنے سامنے سترہ کے مقدار کی کوئی چیز زمین پر رکھ لے اور یہ بھی نہ ہو تو زمین پر خط کھینچ لے تو یہ سترے کے قائم مقام ہیں اور اس سے سنت پر عمل ہو جاتا ہے، چنانچہ قدوری نے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت کی ہے کہ زمین پر کسی چیز کو سترے کے لئے رکھنا سنت ہے واضح ہو کہ جس چیز کو بطور سترہ زمین پر رکھا جائے اس کو طول میں رکھے عرض میں آڑا نہ رکھے تا کہ اس کا طول میں رکھنا نصب کرنے کے اس طرح قائم مقام ہو جائے جس طرح کھڑے ہوئے سترہ کا سایہ طول میں گرتا ہے اگر سترہ کھڑا کرنے کے لئے لکڑی یا کوئی اور چیز نہ ہو کہ جس کو سترہ کی بجائے رکھا جا سکے تو ابو داؤد کی مذکور الصدر حدیث کی وجہ سے امام محمد رحمة اللہ علیہ سے دوسری روایت یہ آئی ہے کہ نمازی کا اپنے سامنے طول میں خط کھینچ لینا بھی مسنون ہے۔ (مرقات، عمدة الرعایہ۔)
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
العربية
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ نمازی کے لئے بوقت نماز سترہ قائم کرنا واجب نہیں ہے اگر عوام کی گزرگاہ ہو تو سترہ کا قائم کرنا مستحب ہے اور عوام کی گزرگاہ نہ ہونے کی صورت میں بھی سترہ کا قائم کرنا اولیٰ ہے۔ (عمدۃ الرعایۃ، اشعۃ اللمعات۔)