Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1001 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ امام اور مقتدی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں
اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب امام ختم نماز پر اپنے سیدھے طرف سلام پھیرے تو سیدھے طرف
کے مقتدیوں اور فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے اور جب امام بائیں طرف سلام پھیرے تو بائیں
طرف کے مقتدیوں اور فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے یہ امام کے سلام کی کیفیت ہے، اب رہا
مقتدی کا سلام تو اس کی تین حالتیں ہوں گی، (1) ایک امام کے سیدھے جانب والے مقتدی،
(2) دوسرے امام کے بائیں جانب والے مقتدی، اور (3) تیسرے وہ مقتدی جو امام کے بالکل پیچھے
محاذی ہوں ہر ایک کے سلام کی صورت اس طرح ہوگی۔
(1) امام کے سیدھے جانب والے مقتدی جب اپنے سیدھے طرف سلام پھیریں تو اپنے
ساتھ سیدھے جانب کے نماز پڑھنے والوں اور سیدھے جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کریں
اور جب یہ اپنے بائیں جانب سلام پھیریں تو اپنے ساتھ بائیں جانب کے نماز پڑھنے والوں اور بائیں
جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کے ساتھ امام کے سلام کا جواب دینے کی بھی نیت کریں۔
(2)امام کے بائیں جانب والے مقتدی جب اپنے سیدھے جانب سلام پھیریں تو امام کے
سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ اپنے سیدھے جانب کے نماز پڑھنے والوں کی اور سیدھے جانب
کے فرشتوں پر بھی سلام کرنے کی نیت کریں اور جب یہ اپنے بائیں جانب سلام پھیریں تو اپنے ساتھ
بائیں جانب کے نماز پڑھنے والوں اور بائیں جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کریں۔
(3)اور جو مقتدی امام کے بالکل پیچھے محاذی ہوں وہ اپنے سیدھے جانب سلام پھیرتے وقت
امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ اپنے سیدھے جانب کے نماز پڑھنے والوں اور سیدھے
جانب کے فرشتوں پر بھی سلام کی نیت کریں اور اسی طرح جب وہ اپنے بائیں جانب سلام پھیریں تو
اس وقت بھی امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ ساتھ اپنے بائیں جانب کے نماز پڑھنے
والوں اور بائیں جانب کے فرشتوں پر بھی سلام کی نیت کریں۔
اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی امام کے پیچھے محاذی ہونے کی صورت میں پہلی دو صورتوں کے
برخلاف ہر دو جانب سلام پھیرتے وقت امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کرے گا، یہ تفصیل اس نماز
کی ہے جو جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اور جو تنہا نماز پڑھنے والا ہے اس کو چاہیے کہ ختم نماز پر
دونوں جانب سلام پھیرتے وقت کراماً کاتبین اور حافظ فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے
۔(مرقات، ردالمحتار، اشعۃ اللمعات۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 709a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نمازیں جن کے بعد سنتیں نہیں ہیں جیسے فجر اور عصر،
ان میں امام کو اختیار ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد داہنی جانب پلٹ کر بیٹھ جائے یا بائیں جانب پلٹ کر
بیٹھے اور مستحب یہ ہے کہ جس جانب امام کو جانے کی حاجت ہو اس جانب پلٹ کر بیٹھ جائے اور اگر
دونوں جانب برابر ہوں تو پھر داہنی جانب افضل ہے اور ایک ہی جانب پلٹ کر بیٹھ جانے کو واجب جاننا
بدعت اور مکروہ ہے اور بلا اعتقاد وجود ایک ہی جانب پلٹ کر بیٹھ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جن
نمازوں کے بعد سنتیں ہیں جیسے ظہر، مغرب، اور عشاء تو امام کو چاہئے کہ سلام پھیرنے کے بعد بہت دیر
تک دعا نہ مانگے بلکہ مختصر دعا، مانگ کر سنتوں کے پڑھنے میں مشغول ہو جائے۔ (اعلاء السنن۔
عالمگیری۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اکثر اہل علم صحابہ اور تابعین اور ان کے بعد کے علماء کا اتفاق ہے۔