Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to supplicate in prayer, saying: "O Allah, I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trial of the False Messiah, and I seek refuge in You from the trials of life and death. O Allah, I seek refuge in You from sin and debt." Someone said to him, "Why do you so frequently seek refuge from debt?" He replied, "When a person is in debt, he speaks and lies, and he makes a promise and breaks it."
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں (تشہد اور درود کے بعد سلام پھیرنے سے قبل) یہ دعاء پڑھا کرتے تھے،
الْمَغْرَمِ“ (اے اللہ! میں عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں (مجھے اس سے بچائیے) اور میں
کانے دجال کے فتنہ سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں (مجھے اس سے بچائیے) اور میں آپ کی پناہ میں
آتا ہوں زندگی کے فتنوں سے اور موت کے فتنوں سے۔ (مجھے ان سے بچائیے) الٰہی! میں آپ کی
پناہ میں آتا ہوں گناہوں میں مبتلا ہونے سے اور قرض میں پھنسنے سے (مجھے ان سے بچائیے۔)
ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ قرض سے بہت پناہ مانگا کرتے ہیں
اس کی کیا وجہ ہے؟ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: بات یہ ہے کہ آدمی جب قرض میں مبتلا
ہو جاتا ہے تو ادائی میں جو دیری ہوتی ہے اس کی وجہ سے جھوٹ بولنے لگتا ہے اور قرض کی ادائی کا جو
وعدہ کرتا ہے اس کو پورا نہیں کرتا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When one of you finishes the final Tashahhud, let him seek refuge in Allah from four things: from the punishment of Hell, from the punishment of the grave, from the trials of life and death, and from the evil of the False Messiah."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص (نماز کے آخری قعدہ میں) تشہد (اور درود سے
فارغ ہو جائے) تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگے کہ وہ اس کو ان چار چیزوں میں مبتلا ہونے سے بچائے۔
(1) جہنم کے عذاب سے، (2) قبر کے عذاب سے، (3) زندگی اور موت کے فتنوں سے
اور (4) کانے دجال کے شر سے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) used to teach them this supplication just as he taught them a chapter of the Quran. He would say: "Say: O Allah, I seek refuge in You from the punishment of Hell, and I seek refuge in You from the punishment of the grave, and I seek refuge in You from the trial of the False Messiah, and I seek refuge in You from the trials of life and death."
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح صحابہ
کرام کو قرآن کی سورتیں سکھایا کرتے تھے اسی طرح یہ دعا بھی سکھاتے تھے۔ (تاکہ قعدہ اخیرہ میں تشہد
اور درود کے بعد اس کو پڑھا کریں۔)
میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں جہنم کے عذاب سے (مجھے اس سے بچائیے) اور میں آپ کی پناہ میں آتا
ہوں قبر کے عذاب سے (مجھے اس سے بچائیے) اور میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں کانے دجال کے
فتنہ سے (مجھے اس سے بچائیے) اور میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے۔
(مجھے ان سے بھی بچائیے۔)
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Abu Bakr As-Siddiq (may Allah be pleased with him) said: I said, "O Messenger of Allah, teach me a supplication to say in my prayer." He said: "Say: O Allah, I have wronged myself greatly, and no one forgives sins except You, so forgive me with forgiveness from You and have mercy on me. Indeed, You are the Forgiving, the Merciful."
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ ایک
مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے
ایسی کوئی دعاء سکھلائیے جس کو میں نماز میں (تشہد اور درود کے بعد پڑھا کروں) تو حضور علیہ الصلوٰۃ
الرَّحِيمُ“ اے اللہ! میں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کر کے گناہ کیا ہے اور آپ کے سوا کوئی گناہوں کا
معاف کرنے والا نہیں ہے، اس لئے آپ سے عرض کر رہا ہوں کہ آپ اپنے محض اپنے فضل و کرم سے
میرے گناہ معاف فرما دیجئے اور مجھ پر رحم کیجئے، یہ آپ کی شان سے بعید نہیں کیونکہ آپ بہت مغفرت
کرنے والے ہیں اور بہت رحم کرنے والے ہیں۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Mu'adh ibn Jabal (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) took his hand and said: "O Mu'adh, I truly love you." I said, "And I love you, O Messenger of Allah." He said: "Do not forget to say after every prayer: O Lord, help me to remember You, to thank You, and to worship You in the best manner."
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا سنو معاذ! اس میں کچھ شک نہیں کہ مجھے تم سے بہت محبت ہے تو
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان) مجھے بھی سب سے زیادہ
حضور سے ہی محبت ہے، اس پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا معاذ! میں تم کو بتقاضائے
محبت ایک دعاء سکھلاتا ہوں) اس کو تم نماز کے اخیر میں (تشہد اور درود کے بعد ضرور پڑھا کرو اور کبھی
اے میرے پروردگار میری مدد کیجئے کہ میں آپ کا ذکر اور شکر ہمیشہ کیا کروں اور آپ کی عبادت ایسی
کیا کروں کہ گویا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں اگر ایسا نہ ہوسکے تو کم از کم اس خیال سے عبادت کیا کروں
کہ آپ مجھے دیکھ رہے ہیں۔ (اس کی روایت امام احمد، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔)
Shaddad ibn Aws (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to say in his prayer: "O Allah, I ask You for steadfastness in faith, determination in guidance, gratitude for Your blessings, and excellence in worship. I ask You for a sound heart and a truthful tongue. I ask You for the best of what You know, and I seek refuge in You from the worst of what You know. I seek Your forgiveness for what You know."
شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم نماز میں (تشہد اور درود کے بعد) یہ دعاء پڑھا کرتے تھے ”اللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَسْئَلُكَ
شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَ اَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ“ اے اللہ! میں آپ سے مانگتا ہوں کہ آپ مجھ کو دین پر
استقامت اور ثابت قدمی عطا کیجئے اور آپ سے یہ بھی مانگتا ہوں کہ ہدایت اور سیدھی راہ پر خوب
ہمت سے جما رہوں اور یہ بھی مانگتا ہوں کہ آپ کی نعمتوں پر شکر کی توفیق ہو اور آپ کی عبادت ایسی
کروں جس کو آپ پسند فرمائیں، اے میرے اللہ! میں آپ سے قلب سلیم مانگتا ہوں جو برے عقائد
اور برے اخلاق سے پاک ہو، اور ایسی زبان مانگتا ہوں کہ جب کہے سچ کہے، اے اللہ! میں کچھ نہیں
جانتا آپ کو ہر چیز کی خبر ہے آپ جس کو میرے لئے خیر سمجھتے ہیں وہ دیجئے اور جس چیز کو آپ میرے
لئے شر سمجھتے ہیں مجھے اس سے بچایئے، اے میرے اللہ! میں گناہ کیا اور بھول گیا میرے سب گناہوں
کی آپ کو خبر ہے ان سب گناہوں کو جن کو آپ جانتے ہیں بخش دیجئے۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے اور امام احمد نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔)
Jabir (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (peace be upon him) used to say in his prayer after Tashahhud: "The best of speech is the speech of Allah, and the best of guidance is the guidance of Muhammad."
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے نماز میں تشہد (اور درود کے) بعد (بعض وقت) یہ الفاظ بھی پڑھے ہیں؛ ”اَحْسَنُ الْكَلَامِ كَلَامُ
اللّٰهِ وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ (صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) ”سب کلاموں سے بہتر کلام،
اللہ کا کلام ہے اور سب طریقوں سے بہتر طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے۔
(اس کی روایت نسائی نے کی ہے۔)
Amir ibn Sa'd, from his father (may Allah be pleased with him), reported: "I used to see the Messenger of Allah (peace be upon him) turning to his right and left when saying the Salam until I could see the whiteness of his cheeks."
عامر بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے کہا
کہ (ختم نماز پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پھیرنا میری نظروں کے سامنے ہے مجھے خوب یاد
ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے طرف اور پھر بائیں طرف سلام کے وقت چہرہ مبارک کو اتنا
پھیرتے تھے کہ پیچھے والوں کو آپ کے رخسار مبارک کی سفیدی نظر آجاتی تھی۔ (اس کی روایت مسلم
نے کی ہے۔)
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) used to turn to his right and say, 'Peace be upon you and the mercy of Allah,' until the whiteness of his right cheek could be seen, and to his left, 'Peace be upon you and the mercy of Allah,' until the whiteness of his left cheek could be seen." [Narrated by Abu Dawud, Al-Nasa’i, and Al-Tirmidhi, though Al-Tirmidhi did not mention, "until the whiteness of his cheek could be seen."]
Ibn Majah also narrated it from Ammar ibn Yasir. Al-Tirmidhi said: "The most authentic narrations from the Prophet (peace be upon him) are two Salam, and this is the view of the majority of the scholars among the companions of the Prophet (peace be upon him), the Tabi'in, and those after them."
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم (ختم نماز پر) اپنی داہنی طرف چہرہ مبارک پھیرتے ہوئے ”السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ
اللّٰهِ“، فرماتے تھے یہاں تک کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سیدھے رخسار مبارک کی سفیدی پیچھے
والوں کو دکھائی دیتی تھی اور پھر بائیں جانب چہرہ مبارک پھیرتے ہوئے السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ
اللّٰهِ فرماتے تھے یہاں تک کہ (پیچھے والوں کو) آپ کے بائیں رخسار مبارک کی سفیدی نظر آجاتی تھی
(اس کی روایت ابوداؤد، نسائی اور ترمذی نے کی ہے۔)
اور ابن ماجہ نے بھی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور ترمذی نے
کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کو سلام سے ختم کرنے کے بارے میں جتنی روایتیں آئی ہیں ان
میں سب سے زیادہ صحیح حدیث یہ ہے کہ نماز کے ختم پر دو سلام ہیں اور اسی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے
Samurah (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (peace be upon him) commanded us to respond to the Imam, to love one another, and to greet one another." [Narrated by Abu Dawud]
In the narration of Al-Bazzar: "And to greet our Imams and to greet one another in prayer."
سَمُرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ہمیں (یعنی مقتدیوں کو) حکم دیا ہے کہ ہم (ختم نماز پر سلام پھیرتے وقت) یہ نیت کریں کہ ہم امام
کے سلام کا جواب دے رہے ہیں اور یہ بھی حکم دیا ہے کہ ہم نمازی ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے
رہیں (اور آپس میں محبت پیدا ہوتی ہے سلام سے) اس لئے امام اور مقتدی آپس میں ایک دوسرے کو
سلام کریں۔ (تا کہ آپس میں محبت پیدا ہو۔) اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
اور بزار کی ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ہم مقتدی (نماز کے ختم پر) نیت
کریں کہ ہم امام کے سلام کا جواب دے رہے ہیں اور یہ بھی نیت کریں کہ ہم آپس میں ایک دوسرے
کو سلام کر رہے ہیں۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1001 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ امام اور مقتدی آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں
اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب امام ختم نماز پر اپنے سیدھے طرف سلام پھیرے تو سیدھے طرف
کے مقتدیوں اور فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے اور جب امام بائیں طرف سلام پھیرے تو بائیں
طرف کے مقتدیوں اور فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے یہ امام کے سلام کی کیفیت ہے، اب رہا
مقتدی کا سلام تو اس کی تین حالتیں ہوں گی، (1) ایک امام کے سیدھے جانب والے مقتدی،
(2) دوسرے امام کے بائیں جانب والے مقتدی، اور (3) تیسرے وہ مقتدی جو امام کے بالکل پیچھے
محاذی ہوں ہر ایک کے سلام کی صورت اس طرح ہوگی۔
(1) امام کے سیدھے جانب والے مقتدی جب اپنے سیدھے طرف سلام پھیریں تو اپنے
ساتھ سیدھے جانب کے نماز پڑھنے والوں اور سیدھے جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کریں
اور جب یہ اپنے بائیں جانب سلام پھیریں تو اپنے ساتھ بائیں جانب کے نماز پڑھنے والوں اور بائیں
جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کے ساتھ امام کے سلام کا جواب دینے کی بھی نیت کریں۔
(2)امام کے بائیں جانب والے مقتدی جب اپنے سیدھے جانب سلام پھیریں تو امام کے
سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ اپنے سیدھے جانب کے نماز پڑھنے والوں کی اور سیدھے جانب
کے فرشتوں پر بھی سلام کرنے کی نیت کریں اور جب یہ اپنے بائیں جانب سلام پھیریں تو اپنے ساتھ
بائیں جانب کے نماز پڑھنے والوں اور بائیں جانب کے فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کریں۔
(3)اور جو مقتدی امام کے بالکل پیچھے محاذی ہوں وہ اپنے سیدھے جانب سلام پھیرتے وقت
امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ اپنے سیدھے جانب کے نماز پڑھنے والوں اور سیدھے
جانب کے فرشتوں پر بھی سلام کی نیت کریں اور اسی طرح جب وہ اپنے بائیں جانب سلام پھیریں تو
اس وقت بھی امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کے ساتھ ساتھ اپنے بائیں جانب کے نماز پڑھنے
والوں اور بائیں جانب کے فرشتوں پر بھی سلام کی نیت کریں۔
اس سے معلوم ہوا کہ مقتدی امام کے پیچھے محاذی ہونے کی صورت میں پہلی دو صورتوں کے
برخلاف ہر دو جانب سلام پھیرتے وقت امام کے سلام کا جواب دینے کی نیت کرے گا، یہ تفصیل اس نماز
کی ہے جو جماعت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے اور جو تنہا نماز پڑھنے والا ہے اس کو چاہیے کہ ختم نماز پر
دونوں جانب سلام پھیرتے وقت کراماً کاتبین اور حافظ فرشتوں پر سلام کرنے کی نیت کرے
۔(مرقات، ردالمحتار، اشعۃ اللمعات۔)
Samurah ibn Jundub (may Allah be pleased with him) narrated: "When the Messenger of Allah (peace be upon him) finished his prayer, he would turn his face towards us."
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جب رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہو جاتے تو پلٹ کر، ہماری جانب رخ کر کے بیٹھ جاتے تھے۔(اس
کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Abdullah ibn Mas'ud (may Allah be pleased with him) narrated: "Let none of you assign a portion of his prayer to Satan by thinking that it is obligatory to turn only to the right. I have often seen the Messenger of Allah (peace be upon him) turning to his left."
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے
کوئی شخص یہ اعتقاد کر کے شیطان کو اپنی نماز کا حصہ دار بنا لے کہ سلام کے بعد مجھے سیدھی جانب ہی
پلٹنا چاہئے (کیوں کہ کسی غیر لازم امر کو اپنے اوپر لازم قرار دینے کا اعتقاد کرنا شیطان کے تابع ہونا
ہے) حالانکہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بسا اوقات بائیں جانب بھی پلٹتے دیکھا
ہے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وسلم سلام کے بعد اکثر اوقات اپنی بائیں جانب حجرہ مبارک کی طرف رخ فرما کر بیٹھا کرتے
تھے۔ (اس کی روایت امام بغوی نے شرح السنہ میں کی ہے۔)
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
(سلام کے بعد) کبھی اپنے سیدھے جانب پلٹا کرتے تھے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Al-Bara' (may Allah be pleased with him) said: When we prayed behind the Messenger of Allah ﷺ, we loved to be on his right side so that he would face us. He said: I heard him say, "O Lord, protect me from Your punishment on the Day You resurrect or gather Your servants."
براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری خواہش رہتی تھی کہ ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے داہنے جانب
رہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (سلام کے بعد) سیدھی جانب پلٹ کر ہماری جانب رخ
فرماتے تھے، حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دعا فرماتے
ہوئے سنا ہے ”رَبِّ قِنِيْ عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ“ اے پروردگار! جس دن آپ لوگوں کو
قبروں سے اٹھا کر میدان قیامت میں جمع کریں گے تو مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچائے رکھئے۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 709a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نمازیں جن کے بعد سنتیں نہیں ہیں جیسے فجر اور عصر،
ان میں امام کو اختیار ہے کہ سلام پھیرنے کے بعد داہنی جانب پلٹ کر بیٹھ جائے یا بائیں جانب پلٹ کر
بیٹھے اور مستحب یہ ہے کہ جس جانب امام کو جانے کی حاجت ہو اس جانب پلٹ کر بیٹھ جائے اور اگر
دونوں جانب برابر ہوں تو پھر داہنی جانب افضل ہے اور ایک ہی جانب پلٹ کر بیٹھ جانے کو واجب جاننا
بدعت اور مکروہ ہے اور بلا اعتقاد وجود ایک ہی جانب پلٹ کر بیٹھ جانے میں کوئی حرج نہیں ہے اور جن
نمازوں کے بعد سنتیں ہیں جیسے ظہر، مغرب، اور عشاء تو امام کو چاہئے کہ سلام پھیرنے کے بعد بہت دیر
تک دعا نہ مانگے بلکہ مختصر دعا، مانگ کر سنتوں کے پڑھنے میں مشغول ہو جائے۔ (اعلاء السنن۔
عالمگیری۔)
Al-Mughirah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said, "The imam should not pray in the same place where he led the prayer until he moves to another spot."
مغیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
نے ارشاد فرمایا کہ جس جگہ امام فرض نماز پڑھ چکا ہو، وہاں کوئی اور نماز (سنن و نوافل) نہ پڑھے جب
تک وہ جگہ تبدیل نہ کرے۔ (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) said: The Messenger of Allah ﷺ said, "Is any one of you unable to step forward, step back, move to his right, or move to his left in prayer?"—meaning in voluntary prayer.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص فرض نماز پڑھنے کے بعد اس بات سے عاجز ہے کہ نوافل
ادا کرنے کیلئے فرض نماز کی جگہ سے ہٹ کر آگے بڑھے یا پیچھے ہٹے یا اپنی دائیں بائیں جانب کھڑا
ہوجائے حالانکہ یہ کچھ ایسا مشکل کام نہیں ہے کہ جس کے کرنے سے عاجز ہو، لہذا ہر شخص کو اس کا
اہتمام کرنا چاہئے۔) (اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Umm Salamah (may Allah be pleased with her) said: During the time of the Messenger of Allah ﷺ, when the women completed their obligatory prayer, they would leave, while the Messenger of Allah ﷺ remained seated. The men who had prayed as much as Allah willed would also remain seated. When the Messenger of Allah ﷺ stood up, the men would then stand.
ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم کے زمانہ میں عورتیں فرض نماز کا سلام پھیرنے کے بعد کھڑی ہوجاتی تھیں (اور مردوں سے پہلے
مسجد سے چلی جاتی تھیں) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معہ دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کے جب تک اللہ
تعالیٰ کو منظور ہوتا اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہتے تھے (تاکہ مرد اور عورتیں مسجد سے نکلتے وقت ایک دوسرے
سے مل نہ جائیں) (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کی مقدار معین نہ تھی بلکہ حالات کے لحاظ سے
نمازوں کے بعد بیٹھنے کی مقدار مختلف ہوا کرتی تھی، جن نمازوں کے بعد سنتیں ہوں اس میں حضور صلی
مقدار بیٹھتے اور جن نمازوں کے بعد سنتیں نہ ہوں ان میں بقدر دعا یا احکام الٰہی بیان کرنے کی مقدار
تشریف رکھتے اور فجر کی نماز میں سورج کے طلوع ہونے تک تشریف فرما ہوتے تھے) پھر جس وقت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوتے تو لوگ بھی کھڑے ہوجاتے تھے۔ (اس سے معلوم ہوا کہ
مقتدیوں کیلئے مستحب یہ ہے کہ وہ امام کے اٹھنے سے پہلے نہ اٹھیں۔) (اس کی روایت بخاری نے کی
ہے۔)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Prophet (peace be upon him) encouraged them to pray and forbade them from leaving before he finished the prayer.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ کو
ہمیشہ جماعت سے نماز پڑھنے کی ترغیب دلاتے اور سلام کے بعد (ذکر اور دعاء میں شرکت کئے بغیر)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے اٹھ کر (مسجد سے) چلے جانے سے منع فرماتے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
اکثر اہل علم صحابہ اور تابعین اور ان کے بعد کے علماء کا اتفاق ہے۔