Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

كِتَابُ الطَّهَارَةِ · Chapter 14

بَابُ الْمُسْتَحَاضَةِ

7 narrations · In source reading order

Hadith 721

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٢١ - عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ (رضي الله عنها) قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً كَانَتْ تُهْرَاقُ الدَّمَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ ﷺ فَاسْتَفْتَتْ لَهَا أُمُّ سَلَمَةَ النَّبِيَّ ، فَقَالَ: «لِتَنْظُرْ عَدَدَ اللَّيَالِي وَالأَيَّامِ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُهُنَّ مِنَ الشَّهْرِ قَبْلَ أَنْ يُصِيبَهَا الَّذِي أَصَابَهَا، فَلْتَتْرُكِ الصَّلَاةَ قَدْرَ ذَلِكَ مِنَ الشَّهْرِ، فَإِذَا خَلَّفَتْ ذَلِكَ فَلْتَغْتَسِلْ، ثُمَّ لْتَسْتَغْفِرُ بِثَوْبٍ، ثُمَّ لْتُصَلِّ». رَوَاهُ مَالِكُ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه وَالدَّارَقُطْنِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَرَوَى النَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ، وَقَالَ النَّوَوِيُّ: إِسْنَادُ أَبِي دَاوُدَ عَلَى شَرْطِهِمَا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 274 (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 623 (unverified) 90% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 722

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٢٢ - وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيْهِ قَالَ: لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَحَاضَةِ أَنْ تَغْتَسِلَ إِلَّا غُسْلًا وَاحِدًا، ثُمَّ تَتَوَضَّأُ بَعْدَ ذَلِكَ لِلصَّلَاةِ. رَوَاهُ مُحَمَّدُ عَنْ مَالِكٍ فِي الْمُوَطَّأ». وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ نَحْوَهُ مَرْفُوعًا، وَكَذَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالطَّحَاوِيُّ وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ عَنْ عَائِشَةَ مَوْقُوْفًا.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Muwatta Malik 138 (unverified) 30% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 723

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٢٣ - وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ ﷺ عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَ: «تَدَعُ الصَّلَاةَ أَيَّامَهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا ، ثُمَّ تَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ. رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي صَحِيحِهِ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ.

Hadith 724

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٢٤ - وَعَنْهَا : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِفَاطِمَةَ بِنْتِ أَبِي حُبَيْشٍ: تَوَضَّنِي لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ». رَوَاهُ إِمَامُنَا أَبُو حَنِيفَةَ. وَرَوَى مُحَمَّدٌ مِثْلَهُ فِي الْأَصْلِ». وَفِي رِوَايَةٍ لِلْبُخَارِيّ وَالتَّرْمِذِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِلْمُسْتَحَاضَةِ: «ثُمَّ تَوَضَّنِي لِكُلِّ صَلَاةٍ حَتَّى يَجِيْءَ ذَلِكَ الْوَقْتُ».
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث میں ”ثُمَّ تَوَضَّئِي لِكُلِّ صَلٰوةٍ“ جو مذکور ہے اس کے معنی محاورۂ عرب کے لحاظ سے (لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ) یعنی ہر نماز کے وقت وضو کیا کرو چنانچہ کہا جاتا ہے کہ (أَتَيْتُكَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ أَيْ وَقْتَهَا) یعنی میں تمہارے پاس نماز ظہر کے وقت آؤں گا، اس محاورہ سے معلوم ہوا کہ لام بمعنی وقت کے ہے جس پر امام ابو حنیفہ اور امام محمد رحمہما اللہ کی روایت کردہ حدیث دلیل ہے، جس میں (بِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ) مذکور ہے علاوہ ازیں بعض حدیثوں میں (عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ) بھی وارد ہے جس سے وقت کی طرف ہی اشارہ ہوتا ہے، چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا یہی مذہب ہے۔ (فتح القدیر)12

Hadith 725

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٢٥ - وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ: أَنَّ أُمَّ حَبِيْبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ كَانَتْ تُهْرَاقُ الدَّمَ وَأَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللهِ ﷺ فَأَمَرَهَا أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَتُصَلَّيْ. رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ. وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ نَحْوَهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِابْنِ مَاجَه: «ثُمَّ اغْتَسَلِي وَتَوَضَّنِي لِكُلِّ صَلَاةٍ. وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَهُ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 334a (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 726

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
٧٢٦ - وَعَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ أُمَّ حَبِيْبَةَ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ فَتَمْكُثُ السِّنِينَ وَأَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ الْمِرْكَنَ حَتَّى يَعْلُوَ الدَّمُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَيْسَتْ بِالْخَيْضَةِ، إِنَّمَا هُوَ عِرْقُ». وَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ. رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ. وَرَوَى الطَّحَاوِيُّ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ نَحْوَهُ. وَقَالَ فُقَهَاؤُنَا: فَيُسْتَفَادُ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ أَنَّ الْمُعْتَادَةَ تُرَدُّ لِعَادَتِهَا، وَتَغْتَسِلُ غُسْلًا وَاحِدًا إِذَا مَضَتْ أَيَّامُ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَتَوَضَّأُ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ، وَتُصَلِّي إِلَى الْوَقْتِ الْآخِرِ وَإِنْ سَالَ دَمُهَا. وَأَمَّا الْمُعْتَادَةُ الَّتِي اسْتَمَرَّ دَمُهَا وَاشْتَبَهَ عَلَيْهَا كُلُّ مِنْ عَدَدِ أَيَّامِ الْخَيْضِ وَالْمَكَانِ، فَتَتَحَرَّى، وَمَضَتْ عَلَى مَا اسْتَقَرَّ رَأْيُّهَا عَلَيْهِ. وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا رَأْيِّ لَا يُحْكَمُ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَيْضِ وَالظُّهْرِ عَلَى التَّعْبِيْنِ، بَلْ تَأْخَذُ بِالْأَحْوَطِ، فَتَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ. وَإِنِ اشْتَبَهَ عَلَيْهَا الْبَعْضُ، فَإِنْ تَرَدَّدَتْ بَيْنَ الظُّهْرِ وَبَيْنَ دُخُولِ الْخَيْضِ صَلَّتْ بِالْوُضُوْءِ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ، وَإِنْ تَرَدَّدَتْ بَيْنَ الظُّهْرِ وَبَيْنَ الْخُرُوجِ مِنَ الْحَيْضِ اغْتَسَلَتْ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ.
Commentary and footnotes (1)

Note 1

کی روایت سعید بن منصور نے کی ہے اور امام طحاوی اور عبدالرزاق نے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔) ہمارے فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ نے ان مذکورہ حدیثوں کے پیش نظر یہ صراحت کی ہے کہ جس عورت کو استحاضہ کا خون ہمیشہ جاری رہتا ہو جس کی وجہ سے اس کے لئے حیض اور استحاضہ میں فرق کرنا دشوار ہو چکا ہے تو ایسی صورت میں اس عورت کے ایام حیض کے بارے میں اگر ایک معینہ عادت ہے تو ایسی عورت اپنی عادت کی طرف پلٹائی جائے گی یعنی ایام عادت تو حیض میں شمار ہوں گے اور ایام عادت سے جتنے دن زائد خون جاری رہے گا وہ استحاضہ ہوں گے، تو ایسی عورت کے جب ایام حیض ختم ہو جائیں تو وہ ختم حیض پر صرف ایک دفعہ غسل کر لے اور بعد ازاں ہر نماز کے وقت وضو کرتی جائے اور دوسری نماز کے وقت تک اسی وضوء سے جو نماز چاہے پڑھ لے اگر چیکہ خون بہہ رہا ہو۔ اور وہ عادت والی عورت کہ جس کو استحاضہ کا خون ہمیشہ جاری رہتا ہو لیکن اس پر ایام حیض کی تعداد اور ایام حیض کی تاریخیں مشتبہ ہو چکی ہوں تو وہ تحرّی کرے کہ اس کا ظن غالب حیض کے دنوں کے متعلق کیا ہے تو جتنے دن اس کے خیال میں حیض کے ثابت ہوں اتنے دنوں کو حیض سمجھے اور باقی کو استحاضہ۔ اور اگر ایسی عورت کا خیال کسی بات پر نہیں جمتا ہو تو حیض یا طہر میں سے کسی کا تصفیہ معین طور پر نہیں کیا جائے گا بلکہ ایسی عورت احتیاط پر عمل کرے اور احتیاط یہ ہے کہ ہر نماز کے وقت غسل کیا کرے۔ اور بعض حالات میں مستحاضہ کو شبہ ہو جائے کہ جو دن گزر رہے ہیں وہ طہر کے تھے اور اب حیض شروع ہو رہا ہے تو ایسی حالت میں ہر نماز کے وقت وضوء کر کے نماز ادا کیا کرے اور اگر مستحاضہ کو اس بارے میں شبہ ہو کہ جو دن گزر رہے ہیں وہ حیض کے تھے اور اب طہر شروع ہو رہا ہے تو ایسی صورت میں ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز ادا کی جائے۔12۔ (1) معینہ عادت والی مستحاضہ: ایسی مستحاضہ پر حکم یہ ہے کہ اس کے ایام عادت حیض میں شمار ہوں گے اور جو ایام اس کی عادت سے زائد ہوں ان کا شمار استحاضہ میں ہوگا اس لئے یہ ایام حیض کے ختم پر ایک دفعہ غسل کرے اور اس کے بعد ہر نماز کے وقت وضوء کرے اور اس کا وضوء دوسری نماز کے وقت تک باقی رہے گا اور یہ اپنے اس وضوء سے جملہ عبادات ختم وقت تک ادا کر سکے گی۔ (2) ایسی مستحاضہ جس کا خون جاری ہو، اور اس پر ایام حیض کی تعداد اور ایام حیض کی مقررہ تاریخ مشتبہ ہو جائے تو ایسی مستحاضہ پر حکم یہ ہے کہ تحری (ظن غالب) یعنی ایام حیض کی تعداد اور تاریخ کے بارے میں اپنے گمان غالب پر عمل کرے۔ (3) ایسی مستحاضہ جس کا خون جاری ہو اور اس کا خیال کسی بات پر جمتا نہ ہو تو اس کا حکم یہ ہے کہ وہ احوط پر عمل کرے اور احوط یہ ہے کہ وہ ہر نماز کے لئے غسل کر لیا کرے۔ (4) ایسی مستحاضہ جس پر بعض حالات میں حیض اور طہر مشتبہ ہو جائیں اور اس کو تردّد ہو کہ موجودہ ایام طہر کے ہیں یا حیض شروع ہو گیا ہے تو ایسی صورت میں ہر نماز کے وقت وضوء کر کے نماز ادا کرے۔ (5) اگر مستحاضہ کو یہ تردّد رہے کہ وہ حالت استحاضہ یعنی طہر میں ہے یا حیض سے فارغ ہو چکی ہے تو اس صورت میں وہ ہر نماز کے وقت غسل کر کے نماز ادا کرے، اس لئے کہ حیض سے فارغ ہونے کے بعد غسل ضروری ہے اور چونکہ حیض سے فارغ ہونے کا یقین نہیں بلکہ اس میں تردّد ہے، اس لیے اس پر ہر نماز کے وقت غسل کرنا ضروری ہے۔

Hadith 727

Volume 1

العربية

Typed, pending editorial approval
۷۲۷ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: الْمُسْتَحَاضَةُ لَا بَأْسَ أَنْ يُجَامِعَهَا زَوْجُهَا. رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ. وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيِّ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ : أَنَّهَا كَانَتْ مُسْتَحَاضَةً، وَكَانَ زَوْجُهَا يُجَامِعُهَا. وَسَكَتَ أَبُو دَاوُدَ عَنْهُ، وَقَالَ النَّوَوِيُّ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 310 (unverified) 80% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

اور ابوداؤد نے اس حدیث کے اسناد کے متعلق سکوت اختیار کیا ہے جو صحت حدیث کی دلیل ہے اور امام نووی نے بھی وضاحت کی ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہے۔