Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
Say, 'Call upon Allah...'
(1) His statement: "Say, 'Call upon Allah...'" – The word "call" here means naming rather than supplication, and it takes two objects, the first of which is omitted as it is understood. The word "or" indicates choice and equivalence. Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah mentions this.
Note 2
Allah the Exalted has...
(2) His statement: "Allah the Exalted has..." – It is recommended to say, "Allah the Exalted said," and not merely "Allah said" without adding a glorifying description. Al-Wajiz by Al-Kurdi mentions this. If a person hears one of Allah’s names, he must glorify Him and say, "SubhanAllah" or similar. If he hears the name of Allah repeatedly, he must glorify Him each time by saying, "SubhanAllah" and "TabarakAllah." Khazinat al-Fatawa and Al-'Alamgiriyyah mention this.
Chapter-heading commentary
قوله
(۱) قوله: قل ادعوا إلخ والدعاء بمعنى التسمية دون النداء، وهو يتعدى إلى مفعولين، حذف أولهما استغناء عنه و«أو» للتخير والتسوية. كذا في التفسيرات الأحمدية».
Note 2
قوله
(۲) قوله: إن الله تعالى إلخ ويستحب أن يقول: «قال الله تعالى ، ولا يقول: «قال الله بلا تعظيم بإرداف وصف صالحللتعظيم. كذا في الوجيز للكردري. رجل سمع اسما من أسماء الله تعالى يجب عليه أن يعظمه ويقول: «سبحان الله» وما أشبه ذلك، لو سمع اسم الله مرارًا يجب عليه أن يعظم، ويقول: «سبحان الله» و «تبارك الله» عند كل سماع. كذا في خزانة الفتاوى». قاله في العالمكيرية».
Note 1
ف (1): واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیری میں خزانۃ الفتاویٰ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ
کے نام مبارک کی تعظیم کا تقاضہ ہے کہ جب بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا نام لے تو مستحب یہ ہے کہ صرف ”اللہ“
نہ کہے بلکہ نام مبارک کے ساتھ کوئی ایسی صفت لائے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ظاہر ہوتی ہو جیسے
اللہ کے بعد تعالیٰ یا ”عزوجل“ یا ”جلالہ“ وغیرہ بڑھا کر اس طرح سے نام لیا کرے: اللہ تعالیٰ، اللہ
عزوجل جلالہ، اللہ جل جلالہ چاہے کتنی بار اس نام مبارک کو سنے یا یہ نام لے اتنی ہی بار مذکورہ
طریقہ پر ادا کرے۔12
ف(2):
اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نانوے (99) نام ہیں اس بارے میں
صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام بے شمار ہیں اس لئے کہ صفات الٰہی کی کوئی حد نہیں
ہے چنانچہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے ناموں میں ربّ، مولیٰ، نصیر، محیط اور کافی وغیرہ مذکور
ہیں۔ اور حدیث شریف میں حنّان، منّان، الدائم اور الجمیل وغیرہ وارد ہیں تو مطلب اس
حدیث شریف کا یہ ہوا کہ اسمائے حسنیٰ انہیں نانوے (99) ناموں میں منحصر نہیں ہیں بلکہ انہیں نانوے
ناموں کو یاد کر لینے کی فضیلت اور تاثیر یہ ہے کہ بہشت حاصل ہو جاتی ہے۔
ف(3):
واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں ان میں صرف ایک نام اللہ اسم علم یا اسم ذات ہے اور اس
نام کے سوا جتنے نام ہیں وہ اسمائے صفات ہیں جو صفات الٰہی کے مظہر ہیں اور یہ جتنے اسمائے صفات
ہیں ان سب کی نسبت اسم ذات یعنی اللہ کی طرف ہوتی ہے چنانچہ کہا جائے گا کہ: اللہ کریم ہے یہ نہیں
کہا جائے گا کہ: کریم اللہ ہے۔
اور ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے: تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ اللّٰهِ ”اللہ تعالیٰ کے صفات اپنے
میں پیدا کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اسمائے صفات ہیں جیسے رحیم کریم وغیرہ تو ان
صفات کا پرتو بندہ پر پڑتا ہے تو بندہ ان صفات کا حامل ہو جاتا ہے البتہ اسم اللہ ایک ایسا اسم ہے جو اللہ
تعالیٰ کی ذات عالی سے خاص ہے، اس اسم سے بندہ متخلق نہیں ہوسکتا، صرف تعلق اور نسبت قائم کر سکتا
ہے، اس لئے اسم اللہ کے سوائے جتنے اسماء ہیں وہ تخلّق کے لئے ہے۔
(مرقات اور اشعۃ اللمعات)
اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے لیکن شرط یہ ہے
کہ جب تم اللہ کہو تو تمہارے دل میں اللہ کے سوا کچھ اور نہ ہو۔ (مرقات۔12)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(4) الْمَلِكُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بادشاہ حقیقی۔
(5) الْقُدُّوسُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) نہایت پاک۔
(6) السَّلَامُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بے عیب اور سلامتی دینے والا۔
(7) الْمُؤْمِنُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) امان دینے والا۔
(8) الْمُهَيْمِنُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) نگہبان۔
(9) الْعَزِيزُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) عزت وغلبہ والا۔
(10) الْجَبَّارُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بگڑی کا بنانے والا۔
(11) الْمُتَكَبِّرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بڑائی اور تکبر کے لائق۔
(12) الْخَالِقُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) مخلوقات کو پیدا کرنے والا۔
(13) الْمُصَوِّرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) شکل وصورت عطا کرنے والا۔
(14) الْغَفَّارُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) گناہوں کو بخشنے والا۔
(15) الْقَهَّارُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) غالب کہ جس کے جلال وغلبہ کے سامنے جن وانس سب
عاجز ہیں۔
(16) الْبَارِئُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) پروردگار۔
(17) الْوَهَّابُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بغیر بدلہ کے بہت بدلہ دینے والا۔
(18) الرَّزَّاقُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) رزق کا پیدا کرنے والا، رزق دینے والا۔
(19) الْفَتَّاحُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) رحمت اور نصرت کے دروازے کھولنے والا۔
(20) الْعَلِيمُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ظاہر وباطن کا جاننے والا۔
(21) الْقَابِضُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) روزی، دل اور روح کا بند کرنے والا۔
(22) اَلْبَاسِطُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) روزی، دل اور روح کا کھولنے والا۔
(23) اَلْخَافِضُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) مغرور کافر اور متکبرین کو پست کرنے والا۔
(24) اَلرَّافِعُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) مومنین اور محسنین کو بلند کرنے والا۔
(25) اَلْمُعِزُّ (جَلَّ جَلَالُهٗ) عزت کا دینے والا۔
(26) اَلْمُذِلُّ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ذلت کا دینے والا۔
(27) اَلسَّمِيعُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ہر چیز کا سننے والا۔
(28) اَلْبَصِيرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ہر چیز کا دیکھنے والا۔
(29) اَلْحَكَمُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) حکم کرنے والا کہ جس کے فیصلہ کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔
(30) اَلْعَدْلُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) انصاف کرنے والا۔
(31) اَللَّطِيفُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) اپنے بندوں پر لطف و مہربانی کرنے والا اور باریک بین
(32) اَلْخَبِيرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ہر چیز کی خبر رکھنے والا۔
(33) اَلْحَلِيمُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بردبار اور تحمل کرنے والا۔
(34) اَلْعَظِيمُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ایسی بڑائی اور عظمت والا جس کا کوئی ہمسر نہ ہو۔
(35) اَلْغَفُورُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بہت بخشنے والا۔
(36) اَلشَّكُورُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) تھوڑے عمل پر بہت ثواب دینے والا قدردان
(37) اَلْعَلِيُّ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بلند و برتر۔
(38) اَلْكَبِيرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) سب سے بڑا کہ اس سے بڑا کوئی نہیں۔
(39) اَلْحَفِيظُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) آفتوں سے محفوظ رکھنے والا۔
(40) اَلْمُقِيتُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) اجسام اور ارواح کو غذا دینے والا۔
(41) اَلْحَسِيبُ (جَلَّ جَلالُهٗ) قیامت کے روز بندوں کا حساب لینے والا۔
(42) اَلْجَلِيلُ (جَلَّ جَلالُهٗ) عظمت و جلال والا۔
(43) اَلْكَرِيمُ (جَلَّ جَلالُهٗ) بڑا سخی کہ جس کے دینے کی کوئی انتہا نہیں۔
(44) اَلرَّقِيبُ (جَلَّ جَلالُهٗ) ظاہر و باطن کی نگہبانی کرنے والا۔
(45) اَلْمُجِيبُ (جَلَّ جَلالُهٗ) دعاؤں کو قبول کرنے والا۔
(46) اَلْوَاسِعُ (جَلَّ جَلالُهٗ) نعمتوں کا بڑھانے والا۔
(47) اَلْحَكِيمُ (جَلَّ جَلالُهٗ) بڑی حکمتوں والا۔
(48) اَلْوَدُودُ (جَلَّ جَلالُهٗ) نیکیوں کا چاہنے والا۔
(49) اَلْمَجِيدُ (جَلَّ جَلالُهٗ) اپنی ذات اور صفات میں بزرگی اور شرف والا۔
(50) اَلْبَاعِثُ (جَلَّ جَلالُهٗ) قیامت میں مردوں کو قبروں سے اٹھانے والا۔
(51) اَلشَّهِيدُ (جَلَّ جَلالُهٗ) ہر چیز کو دیکھنے والا۔
(52) اَلْحَقُّ (جَلَّ جَلالُهٗ) ایسی ذات جو ثابت ہے اور جس کی ذات و صفات ہر شک
و شبہ سے پاک ہے۔
(53) اَلْوَكِيلُ (جَلَّ جَلالُهٗ) کارساز حقیقی۔
(54) اَلْقَوِيُّ (جَلَّ جَلالُهٗ) کمال قوت اور طاقت والا ہر قسم کے ضعف و عجز سے پاک ہو۔
(55) اَلْمَتِينُ (جَلَّ جَلالُهٗ) وقار اور متانت والا۔
(56) اَلْوَلِيُّ (جَلَّ جَلالُهٗ) مومنین کو دوست رکھنے والا۔
(57) اَلْحَمِيدُ (جَلَّ جَلالُهٗ) ہر قسم کی تعریف کا مستحق۔
(58) اَلْمُحْصِي (جَلَّ جَلالُهٗ) ہر چیز کا احاطہ کرنے والا کہ کوئی چیز اس کے علم اور
قدرت سے باہر نہیں۔
(59) الْمُبْدِئُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) عالم کو پہلی بار پیدا کرنے والا۔
(60) الْمُعِيدُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) عالم کو دوبارہ پیدا کرنے والا۔
(61) الْمُحْيِي (جَلَّ جَلَالُهٗ) زندہ کرنے والا۔
(62) الْمُمِيتُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) مارنے والا۔
(63) الْحَيُّ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ازلی اور ابدی زندگی والا۔
(64) الْقَيُّومُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) اپنی ذات اور بات سے قائم رہ کر مخلوقات کو قائم رکھنے والا۔
(65) الْوَاجِدُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ایسا غنی جو کسی چیز میں کسی کا محتاج نہ ہو۔
(66) الْمَاجِدُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) صاحب عظمت و مجد۔
(67) الْوَاحِدُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ذات و صفات میں تنہا اور یگانہ۔
(68) الصَّمَدُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) سب سے بے نیاز اور سب اس کے محتاج۔
(69) الْقَادِرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) کامل قدرت والا۔
(70) الْمُقْتَدِرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) قدرت کو ظاہر کرنے والا۔
(71) الْمُقَدِّمُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) دوستوں کو آگے بڑھانے والا۔
(72) الْمُؤَخِّرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) دشمنوں کو پیچھے کر ڈالنے والا۔
(73) الْأَوَّلُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) وہ ذات جو تمام موجودات میں سب سے پہلے ہے۔
(74) الْآخِرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) وہ ذات جو تمام موجود کے فنا ہونے کے بعد باقی رہنے
والی ہے۔
(75) الظَّاهِرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) اپنے وجود کی نشانیوں سے آشکار۔
(76) الْبَاطِنُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ایسا پوشیدہ کہ اس سے بڑھ کر کوئی قریب نہیں۔
(77) الْوَالِي (جَلَّ جَلَالُهٗ) سارے کاموں کا بنانے والا۔
(78) الْمُتَعَالِي (جَلَّ جَلَالُهٗ) اعلیٰ صفات والا۔
(79) الْبَرُّ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بہت احسان اور بھلائی کرنے والا۔
(80) التَّوَّابُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) خوب توبہ قبول کرنے والا۔
(81) الْمُنْتَقِمُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بدلہ لینے والا اور سرکشوں کو سزا دینے والا۔
(82) الْعَفُوُّ (جَلَّ جَلَالُهٗ) درگزر کرنے والا۔
(83) الرَّؤُوْفُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) نہایت مہربان۔
(84) مَالِكُ الْمُلْكِ (جَلَّ جَلَالُهٗ) سارے جہان کا مالک جو چاہے سو کرے
(85) ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بزرگی اور بخشش والا۔
(86) الْمُقْسِطُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) عدل اور انصاف کرنے والا۔
(87) الْجَامِعُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) قیامت میں ساری مخلوقات کو جمع کرنے والا۔
(88) الْغَنِيُّ (جَلَّ جَلَالُهٗ) سب سے بے نیاز۔
(89) الْمُغْنِي (جَلَّ جَلَالُهٗ) اپنے بندوں میں جس کو چاہے بے نیاز بنا دینے والا
(90) الْمَانِعُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بندوں کو نقصان اور ہلاکت سے بچانے والا
(91) الضَّارُّ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ضرر کی قدرت رکھنے والا۔
(92) النَّافِعُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) فائدہ پہنچانے والا۔
(93) النُّوْرُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) بذات خود ظاہر اور دوسروں کو ظاہر کرنے والا۔
(94) الْهَادِي (جَلَّ جَلَالُهٗ) ہدایت دینے والا۔
(95) اَلْبَدِيعُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) نادر چیزوں کا پیدا کرنے والا۔
(96) اَلْبَاقِي (جَلَّ جَلَالُهٗ) ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والا۔
(97) اَلْوَارِثُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) فنائے عالم کے بعد باقی رہنے والا۔
(98) اَلرَّشِيدُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) عالم کی رہنمائی کرنے والا۔
(99) اَلصَّبُورُ (جَلَّ جَلَالُهٗ) ایسا بردبار جو عذاب دینے میں جلدی نہ کرے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے اور بیہقی نے دعوات کبیرہ میں اس کی روایت کی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
O Allah, I ask You...
(1) His statement: "O Allah, I ask You..." – Other narrations mention similar supplications containing names not in this hadith, but the name "Allah" is present in all of them. This indicates that it is the Greatest Name. Mirqat al-Mafatih mentions this.
Note 1
قوله
(۱)قوله: اللهم إلخ : وقد ذكر في أحاديث أخر مثل ذلك، وفيها أسماء ليست في هذا الحديث إلا أن لفظ الله مذكور في الكل، فيستدل بذلك على أنه الاسم الأعظم. قاله في «المرقاة».
(2) His statement: "From Abu Hanifah..." – In Sharh Tahreer Ibn Hammad by Ibn Hajj, it is narrated from Abu Hanifah that the Greatest Name is the word "Allah" when uttered sincerely from the heart, free from associating anything with Allah. Al-'Urf al-Shadhi mentions this.
Note 2
قوله
(۲) قوله : عن أبي حنيفة إلخ : وفي شرح تحرير ابن همام لابن حاج عن أبي حنيفة أن الاسم الأعظم هو لفظ الله إذا قلته من أصل قلبك وأنت صاف عن غير الله. قاله في العرف الشذي».
Note 1
الآثار میں بیان کیا ہے اور امام طحاوی نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسم اعظم کے
بارے میں جو حدیثیں مروی ہیں کہ ان سب میں اس بات پر اتفاق ہے کہ اللہ تعالیٰ کا لفظ ان تمام
روایتوں میں مشترک ہے لہٰذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسم اعظم لفظ اللہ ہی ہے۔ تو معلوم ہوا کہ احادیث
نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حضرت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کی تائید ہوتی ہے۔ اور عرف
شذی میں ابن حاج کی شرح تحریر ابن ہمام کے حوالے سے لکھا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے
ہیں کہ: اسم اعظم صرف لفظ اللہ ہی ہے۔ بشرطیکہ تم اس کو خالص دل کے ساتھ اس طرح کہو کہ تمہارا دل
غیر اللہ سے پاک و صاف ہو۔
Commentary and footnotes (5)
Chapter-heading commentary
(1) His statement: "Say, 'Call upon Allah...'" – The word "call" here means naming rather than supplication, and it takes two objects, the first of which is omitted as it is understood. The word "or" indicates choice and equivalence. Al-Tafsirat al-Ahmadiyyah mentions this.
Note 2
(2) His statement: "Allah the Exalted has..." – It is recommended to say, "Allah the Exalted said," and not merely "Allah said" without adding a glorifying description. Al-Wajiz by Al-Kurdi mentions this. If a person hears one of Allah’s names, he must glorify Him and say, "SubhanAllah" or similar. If he hears the name of Allah repeatedly, he must glorify Him each time by saying, "SubhanAllah" and "TabarakAllah." Khazinat al-Fatawa and Al-'Alamgiriyyah mention this.
Chapter-heading commentary
(۱) قوله: قل ادعوا إلخ والدعاء بمعنى التسمية دون النداء، وهو يتعدى إلى مفعولين، حذف أولهما استغناء عنه و«أو» للتخير والتسوية. كذا في التفسيرات الأحمدية».
Note 2
(۲) قوله: إن الله تعالى إلخ ويستحب أن يقول: «قال الله تعالى ، ولا يقول: «قال الله بلا تعظيم بإرداف وصف صالحللتعظيم. كذا في الوجيز للكردري. رجل سمع اسما من أسماء الله تعالى يجب عليه أن يعظمه ويقول: «سبحان الله» وما أشبه ذلك، لو سمع اسم الله مرارًا يجب عليه أن يعظم، ويقول: «سبحان الله» و «تبارك الله» عند كل سماع. كذا في خزانة الفتاوى». قاله في العالمكيرية».
Note 1
ف (1): واضح ہو کہ فتاویٰ عالمگیری میں خزانۃ الفتاویٰ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام مبارک کی تعظیم کا تقاضہ ہے کہ جب بھی کوئی اللہ تعالیٰ کا نام لے تو مستحب یہ ہے کہ صرف ”اللہ“ نہ کہے بلکہ نام مبارک کے ساتھ کوئی ایسی صفت لائے جس سے اللہ تعالیٰ کی عظمت ظاہر ہوتی ہو جیسے اللہ کے بعد تعالیٰ یا ”عزوجل“ یا ”جلالہ“ وغیرہ بڑھا کر اس طرح سے نام لیا کرے: اللہ تعالیٰ، اللہ عزوجل جلالہ، اللہ جل جلالہ چاہے کتنی بار اس نام مبارک کو سنے یا یہ نام لے اتنی ہی بار مذکورہ طریقہ پر ادا کرے۔12 ف(2): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نانوے (99) نام ہیں اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نام بے شمار ہیں اس لئے کہ صفات الٰہی کی کوئی حد نہیں ہے چنانچہ قرآن میں اللہ تعالیٰ کے ناموں میں ربّ، مولیٰ، نصیر، محیط اور کافی وغیرہ مذکور ہیں۔ اور حدیث شریف میں حنّان، منّان، الدائم اور الجمیل وغیرہ وارد ہیں تو مطلب اس حدیث شریف کا یہ ہوا کہ اسمائے حسنیٰ انہیں نانوے (99) ناموں میں منحصر نہیں ہیں بلکہ انہیں نانوے ناموں کو یاد کر لینے کی فضیلت اور تاثیر یہ ہے کہ بہشت حاصل ہو جاتی ہے۔ ف(3): واضح ہو کہ اللہ تعالیٰ کے جتنے نام ہیں ان میں صرف ایک نام اللہ اسم علم یا اسم ذات ہے اور اس نام کے سوا جتنے نام ہیں وہ اسمائے صفات ہیں جو صفات الٰہی کے مظہر ہیں اور یہ جتنے اسمائے صفات ہیں ان سب کی نسبت اسم ذات یعنی اللہ کی طرف ہوتی ہے چنانچہ کہا جائے گا کہ: اللہ کریم ہے یہ نہیں کہا جائے گا کہ: کریم اللہ ہے۔ اور ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے: تَخَلَّقُوا بِاَخْلَاقِ اللّٰهِ ”اللہ تعالیٰ کے صفات اپنے میں پیدا کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو اسمائے صفات ہیں جیسے رحیم کریم وغیرہ تو ان صفات کا پرتو بندہ پر پڑتا ہے تو بندہ ان صفات کا حامل ہو جاتا ہے البتہ اسم اللہ ایک ایسا اسم ہے جو اللہ تعالیٰ کی ذات عالی سے خاص ہے، اس اسم سے بندہ متخلق نہیں ہوسکتا، صرف تعلق اور نسبت قائم کر سکتا ہے، اس لئے اسم اللہ کے سوائے جتنے اسماء ہیں وہ تخلّق کے لئے ہے۔ (مرقات اور اشعۃ اللمعات) اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمة اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اللہ اسم اعظم ہے لیکن شرط یہ ہے کہ جب تم اللہ کہو تو تمہارے دل میں اللہ کے سوا کچھ اور نہ ہو۔ (مرقات۔12)