Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6463 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2816a (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ رحمت خداوندی اور فضل الٰہی جب بندہ کو شامل
حال ہوتی ہے تو بندہ کو نیک عمل کی توفیق ملتی ہے اور بندہ نیک عمل کرتا ہے اور نجات حاصل کرتا ہے ورنہ
محض نیک عمل بطور موجب باعث نجات نہیں، اگر فضل الٰہی شامل حال نہ ہو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ پر کسی
بندہ کا کچھ زور نہیں ہے، اور نہ اس کے حکم کے سامنے کسی کو چون و چرا کی مجال ہے اور اس کی قدرت
بے حد و بے حساب ہے۔ کسی کی کیا طاقت کہ خود کو جنت کا مستحق خیال کرے اور بندہ کے عمل کا یہ حال
ہے کہ خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ ہو نقص اور کوتاہی سے خالی نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی اپنے نیک عمل پر نہ
اترائے اور نہ بھروسہ کرے۔
اب رہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے آپ کو اس میں شامل فرمانا ایک عمومی خطاب کے
طور پر ہے جس میں جواب دینے والا اپنے آپ کو شامل کر کے جواب دیتا ہے تا کہ مسئلہ اچھی طرح
ذہن نشین ہو جائے۔
یہ بات بھی خوب واضح رہے کہ اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عمل کو ترک کر دیا جائے اور
اس سے پہلو تہی کی جائے بلکہ یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ عمل اس وقت کامل اور مقبول ہو گا جب کہ اللہ
تعالیٰ کا فضل اس میں شامل ہو۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اعتدال اور
میانہ روی سے نیک عمل کرتے جاؤ تا کہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکو۔
(ماخوذ از: مرقات اور اشعۃ اللمعات۔)12
ف: صاحب مرقات نے اس آیت کی توضیح میں کئی اقوال ذکر کئے ہیں بجملہ ان اقوال کے
ایک قول امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا ہے آپ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ میں
مسلمانوں کی تین قسمیں بیان فرمائیں اور تینوں کو ”عِبَادِنَا“ (ہمارے بندے) فرمایا یعنی تینوں کی
نسبت اپنی طرف کی، اور تینوں کے مراتب میں تفاوت کے باوجود تینوں کو منتخب اور پسندیدہ قرار دیا اور
تینوں کے لئے جنت کی یہ خوشخبری دی اور یہ خوشخبری کلمۂ اخلاص ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ
اللّٰهِ“ کی بدولت اہل اسلام کو دی گئی ہے۔ 12
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6491 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 131a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات نے امام نووی سے نقل کیا ہے کہ: سبحان اللہ! اس حدیث شریف میں اللہ
تعالیٰ کی رحمت بے پایاں کا اظہار ہے کہ برائی کے قصد کو نامہ اعمال میں لکھوایا نہ جائے اور نیکی کے قصد
کو بغیر عمل کئے کے بھی ایک نیکی لکھوا دی جاتی ہے اور برائی کے کرنے کے بعد ایک ہی برائی لکھوائی
جائے اور ایک نیکی کے بدلہ میں دس گنا، سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھوائی جائیں۔ البتہ
کوئی شخص برائی کا قصد کر کے اور خوف کے علاوہ خدا کے کسی اور مجبوری سے اس برائی کو نہ کر سکے تو ایسے
شخص کے لئے ایک برائی کی نیت کے بدلے ایک گناہ لکھا جائے گا۔ جیسے کسی نے رات کو اپنے دل میں
یہ عزم کرلیا کہ فلاں کو قتل کردوں گا اور اسی رات کو وہ مرگیا تو اس پر قتل کے قصد کی وجہ سے قتل کا گناہ لکھا
جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (سورہ بنی اسرائیل، آیت نمبر:36) ”اِنَّ السَّمْعَ
وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا“، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے
(قیامت کے دن) پوچھ ہوگی (کہ آنکھ کا استعمال کہاں کیا، کان کا استعمال کہاں کیا اور دل میں بے
دلیل بات کا کیوں خیال جمایا) اور عُجب، کبر اور ریا یہ دل کی بیماریاں ہیں اور ان پر بھی مؤاخذہ ہے۔
یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔
ف: اس حدیث شریف کا حاصل یہ ہے کہ: برائی کرنے سے انسان کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور
وہ اپنے کاموں پر متحیر رہتا ہے اور لوگ اس کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں اس حالت
کو زرع کی تنگی سے تشبیہ دی گئی ہے اس کے برخلاف نیکیاں کرنے سے سینہ کشادہ ہوتا ہے اور کام
آسان ہوتے ہیں اور لوگ اس کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حدیث شریف میں اس حالت کو درع
کے کھلنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مرقات۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
حدیث سے ارحم الراحمین کا مطلب سمجھ میں آتا ہے اور رحمت الٰہی کی وسعت کا بھی اندازہ ہوتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔