ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا تو ایک کتاب
(لوح محفوظ) لکھی جو اس کے پاس عرش پر موجود ہے۔ اور اس میں لکھا ہے کہ میری رحمت میرے
غضب پر غالب ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: بیشک اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سو حصے ہیں ان میں سے صرف ایک حصہ
کو اللہ تعالیٰ نے (زمین پر) نازل فرمایا ہے جو جن اور انس، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں میں تقسیم
فرمائی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ آپس میں ایک دوسرے سے میل ملاپ رکھتے ہیں اور مہربانی سے
پیش آتے ہیں اور اسی رحمت کی وجہ سے وحشی جانور بھی اپنی اولاد پر مہربانی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ
نے (بقیہ) رحمت کے ننانوے حصوں کو (آخرت کے لئے) اٹھا رکھا ہے جن کے ذریعے سے وہ اپنے
(مومن) بندوں پر قیامت کے دن رحم فرمائیں گے (اور جنت میں داخل فرما دیں گے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
اور مسلم کی ایک روایت میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے بھی اس طرح مروی
ہے کہ اللہ تعالیٰ ننانوے حصوں کی بقیہ رحمت کی تکمیل قیامت کے دن فرمائیں گے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر بندہ مومن یہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس (گناہوں کی کس قدر
سخت) سزا اور عذاب ہے تو کوئی بندہ مومن (اپنے گناہوں کا خیال کر کے) جنت کی تمنا ہی نہ
کرے، اور بندہ کافر کو یہ معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کس قدر (وسیع) ہے تو کوئی کافر بھی
جنت (میں جانے) سے نا امید نہ ہو (اس سے معلوم ہوا کہ بندہ مومن کو رجاء اور خوف کے درمیان
رہنا چاہئے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت تم میں سے ہر ایک کے اتنی قریب ہے جتنا تم سے تمہاری
جوتیوں کا تسمہ قریب ہے اور دوزخ بھی ایسے ہی قریب ہے (اس لئے جو شخص جیسا عمل کرے گا اس
کے مطابق جنت یا دوزخ پا لے گا، یعنی اگر ایمان ہے اور نیک عمل ہے تو وہ بہشت سے قریب ہے اور
اگر کفر اور گناہ ہیں تو دوزخ سے قریب ہے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: (پچھلی امتوں میں سے) ایک شخص کا واقعہ ہے جو بہت گنہگار تھا کہ
جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی کہ جب وہ مر جائے تو اس کو
جلا دیں اور اس کی راکھ کے آدھے حصہ کو جنگل میں اڑا دیں اور آدھے حصہ کو دریا میں بہا دیں (اس
نے یہ وصیت اس خوف سے کی کہ) بخدا اگر اللہ تعالیٰ کو اس پر قابو حاصل ہو جائے تو (اس کے
گناہوں کی وجہ سے) اس پر ایسا عذاب نازل کریں گے کہ آج تک دنیا میں کسی کو نہ دیا گیا ہوگا
(خوف الٰہی نے اس کو اس بات سے بھی غافل کر دیا کہ اللہ تعالیٰ اس پر بھی قادر ہیں کہ اس کے منتشر
اجزاء کو جمع کر کے اس کا حساب لیں گے) پس جب اس کا انتقال ہو گیا تو اس کے بیٹوں نے اس کی
وصیت پر عمل کیا (اس کو جلا کر اس کی راکھ کو اڑا دیا گیا اور دریا میں بہا دیا گیا) پس اللہ تعالیٰ نے دریا کو
حکم دیا کہ اس شخص کے اجزاء کو جمع کر دے اور اسی طرح خشکی کو حکم دیا کہ وہ بھی اس کے اجزاء کو جمع کر
دے (جب وہ اس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوا تو) اللہ تعالیٰ نے اس سے سوال کیا کہ تو نے
ایسی حرکت کیوں کی؟ اس نے جواب دیا خداوندا! (میں بہت گنہگار تھا) تیرے (عذاب کے ڈر سے
ایسا کیا ہوں آپ میری نیت سے) باخبر ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے (خوف الٰہی اور اپنے گناہوں کے
اعتراف کی وجہ سے) اس کو بخش دیا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو منبر پر یہ وعظ فرماتے ہوئے سنا کہ آپ نے (سورۂ رحمن، آیت نمبر:46) کی یہ آیت سنائی
”وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتٰنِ“ (جو اپنے پروردگار کے روبرو قیامت کے دن کھڑے ہونے
سے ڈرتا ہے تو اس کے لئے دو جنتیں ہوں گی)(یہ سن کر ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ)میں
نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کیا یہ خوشخبری ایسے شخص کے لئے بھی ہے)جس نے
زنا کیا ہو اور چوری بھی کی ہو، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بار پھر یہی آیت پڑھی ”وَلِمَنْ
خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتٰنِ“، میں نے تیسری بار پھر عرض کیا کہ: اگرچہ کہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری
بھی کی ہو۔ یارسول اللہ! تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (ہاں وہ جنت میں داخل
ہوگا)اگرچہ کہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو(یعنی تم کو ناگواری ہو اور تمہاری ذلت ہو)۔ اس
حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے
ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت مبارک میں چند قیدی آئے (جن میں کچھ عورتیں اور
بچے بھی تھے)ان میں سے ایک عورت ایسی تھی جس کی چھاتی سے دودھ بہہ رہا تھا(اور وہ اپنے بچہ کی
تلاش میں)ادھر اُدھر دوڑ رہی تھی (تاکہ اس کو دودھ پلائے)قیدیوں میں سے جب وہ کسی بچہ کو دیکھ
لیتی تو اس کو اُٹھا لیتی اور گود میں لے کر اس کو دودھ پلاتی (یہ دیکھ کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے ہم سے دریافت کیا کہ: کیا تمہارے خیال میں یہ عورت (جو دوسروں کے بچوں پر اتنی مہربان
ہے) اپنے بچہ کو آگ میں ڈال دے گی؟ ہم نے عرض کیا: (یارسول اللہ!) اگر وہ آگ میں نہ
ڈالنے پر قادر ہو تو وہ ہرگز اپنے بچہ کو آگ میں نہ ڈالے گی (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: (سنو!)
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے زیادہ مہربان ہے جس قدر یہ عورت اپنے بچہ پر مہربان ہے۔(اس
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: ہم ایک غزوہ میں
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک جماعت پر سے
گزرے تو ان سے دریافت فرمایا: کہ تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم مسلمان ہیں! ان
میں ایک عورت ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہی تھی اور اس کا بچہ اس کے قریب تھا۔ جب آگ کا شعلہ
بلند ہوتا تو وہ عورت اپنے بچہ کو (آگ کے پاس سے دور ہٹاتی پھر وہ عورت (اپنے بچہ کو لے کر) نبی
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور دریافت کی کیا آپ ہی اللہ کے رسول ہیں؟
تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اس نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر سے فدا ہوں! کیا
اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین نہیں؟ آپ نے فرمایا: کیوں نہیں (اللہ تعالیٰ ارحم الراحمین ہیں!) اس نے پھر
عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس ماں سے زیادہ مہربان نہیں ہیں جو اپنے بچوں پر بہت
مہربان ہوتی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں (اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر زیادہ مہربان
ہیں ماں کی بہ نسبت جو اپنے بچوں پر مہربان ہوتی ہے) تو اس نے پھر عرض کیا کہ: ماں تو اپنے بچہ کو
آگ میں نہیں ڈالتی (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سر مبارک کو جھکائے اور رونے
لگے کچھ دیر بعد اپنے سر مبارک کو اوپر اٹھایا اور فرمایا (سنو!) اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر عذاب نہیں
کرتے سوائے ان کے جو ایمان نہ لائیں اور اللہ تعالیٰ سے سرکشی اور بغاوت کرتے ہوں اور ”لَا إِلٰهَ
إِلَّا اللّٰهُ“ کا انکار کرتے ہوں۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
عامر تیر انداز رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: (ایک دفعہ) ہم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک صاحب حاضر ہوئے جو کملی اوڑھے
ہوئے تھے اور ان کے ہاتھ میں کوئی چیز تھی جس کو انہوں نے کملی سے لپیٹ لیا تھا۔ انہوں نے عرض
کیا: یا رسول اللہ میں درختوں کے ایک جھنڈ کے پاس سے گزر رہا تھا کہ مجھے پرندوں کے بچوں کی
آوازیں سنائی دیں تو میں نے ان بچوں کو پکڑ لیا اور ان کو اپنی کملی میں رکھ لیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان کی
ماں آ کر میرے سر پر منڈلانے لگی میں نے جب اس کے سامنے بچوں کو رکھ دیا تو وہ ان پر آن پڑی
تو پھر میں نے ان سب کو اپنی کملی میں لپیٹ لیا پس وہ سب میرے ساتھ ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: تم ان کو (زمین پر) رکھ دو تو میں نے ان کو (زمین پر) رکھ دیا (اور کملی ہٹالی)
تو ان بچوں کی ماں (اپنے بچوں کے ساتھ لگی رہی اور) بچوں سے جدا نہ ہوئی (یہ دیکھ کر) رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ: کیا تم لوگ ان بچوں کی ماں کو اپنے بچوں پر شفقت اور رحم
کرتے دیکھ کر تعجب کرتے ہو؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے نبی برحق بنا کر بھیجا ہے اللہ تعالیٰ
اپنے بندوں پر ان بچوں کی ماں سے زیادہ مہربان اور شفیق ہیں (پھر آپ نے ان صاحب سے فرمایا)
تم ان بچوں کو لے جاؤ اور جہاں سے لائے تھے وہیں ان کی ماں کے ساتھ رکھ آؤ تو وہ صاحب (اسی
وقت) ان بچوں کو ماں سمیت اسی جگہ رکھ آنے کے لئے چلے گئے (اس وجہ سے کہ وہ اپنی جگہ سے
مانوس تھے) اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفقت اور رحمت انسانوں کے علاوہ
جانوروں پر بھی ثابت ہوتی ہے)۔ اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ کسی کو اس کا محض نیک عمل نجات دلانے کے لئے ہرگز کافی نہیں ہوگا
(جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال نہ ہو اس لئے کہ حقیقت میں نجات کا سبب خدا کا
فضل ہے اور نیک عمل توفیق الٰہی سے ہوتا ہے) صحابہ رضی اللہ عنہم نے (یہ سن کر حیرت سے)
دریافت کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا یہ (بات) آپ کے لئے بھی ہے؟ تو حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت مجھے ڈھانک لے۔ پس تم لوگوں کو
چاہئے کہ (اللہ کے فضل پر بھروسہ کر کے اپنے اعمال کو) درست کرتے رہیں اور (افراط و تفریط سے
بچ کر اعمال میں) میانہ روی اختیار کریں اور صبح و شام اور کچھ رات اللہ تعالیٰ کی عبادت (اور یاد) میں
رہا کریں اور دین اور دنیا کے کاموں میں) میانہ روی اختیار کریں (اور اگر اپنے اعمال اور اخلاق کو
درست کرتے رہیں گے) تو اپنے مقصد کو حاصل کر لیں گے۔” اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی
ہے“۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6463 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2816a (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ رحمت خداوندی اور فضل الٰہی جب بندہ کو شامل
حال ہوتی ہے تو بندہ کو نیک عمل کی توفیق ملتی ہے اور بندہ نیک عمل کرتا ہے اور نجات حاصل کرتا ہے ورنہ
محض نیک عمل بطور موجب باعث نجات نہیں، اگر فضل الٰہی شامل حال نہ ہو، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ پر کسی
بندہ کا کچھ زور نہیں ہے، اور نہ اس کے حکم کے سامنے کسی کو چون و چرا کی مجال ہے اور اس کی قدرت
بے حد و بے حساب ہے۔ کسی کی کیا طاقت کہ خود کو جنت کا مستحق خیال کرے اور بندہ کے عمل کا یہ حال
ہے کہ خواہ وہ کیسا ہی اعلیٰ ہو نقص اور کوتاہی سے خالی نہیں ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی اپنے نیک عمل پر نہ
اترائے اور نہ بھروسہ کرے۔
اب رہا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے آپ کو اس میں شامل فرمانا ایک عمومی خطاب کے
طور پر ہے جس میں جواب دینے والا اپنے آپ کو شامل کر کے جواب دیتا ہے تا کہ مسئلہ اچھی طرح
ذہن نشین ہو جائے۔
یہ بات بھی خوب واضح رہے کہ اس حدیث کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ عمل کو ترک کر دیا جائے اور
اس سے پہلو تہی کی جائے بلکہ یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ عمل اس وقت کامل اور مقبول ہو گا جب کہ اللہ
تعالیٰ کا فضل اس میں شامل ہو۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: اعتدال اور
میانہ روی سے نیک عمل کرتے جاؤ تا کہ اپنے مقصد کو حاصل کر سکو۔
(ماخوذ از: مرقات اور اشعۃ اللمعات۔)12
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: تم میں سے کسی کو محض اس کا نیک عمل جنت میں داخل نہیں کر سکتا اور نہ
دوزخ سے بچا سکتا ہے اور نہ مجھے بھی (جب تک کہ) اللہ تعالیٰ (کا فضل) اور اس کی رحمت شامل
حال نہ ہو (اس لئے کہ دخول جنت اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے البتہ جنت کے درجات اعمال
سے ملتے ہیں) (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے12)۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
سے اس آیت (سورۂ فاطر، آیت نمبر:32/33)
پھر ہم نے یہ کتاب یعنی قرآن ان لوگوں (یعنی اہل اسلام) کے ہاتھوں میں پہنچائی جن کو
ہم نے (ایمان کے اعتبار سے) تمام دنیا جہان کے بندوں میں سے پسند فرمایا، پھر ان میں بعض (تو
کچھ گناہ کر کے) اپنی جان پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض میانہ رو ہیں (جو نہ تو گناہ کرتے ہیں اور نہ
عبادتوں میں زیادتی کرتے ہیں) اور بعض ان میں وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی
کرتے جاتے ہیں یہ یعنی (ایسی کتاب کا ان مذکورہ تینوں قسم کے مسلمانوں کے ہاتھوں میں پہنچا
دینا) جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے وہ ایسے باغات ہیں جن میں یہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا
فضل ہے۔ کی تفسیر میں روایت فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ: یہ تینوں
قسم کے لوگ (جن کا ذکر آیت صدر میں ہے) جنتی ہیں۔ اس کی روایت بیہقی نے ”كِتَابُ الْبَعْثِ
وَالنُّشُورِ“ میں کی ہے۔
ف: صاحب مرقات نے اس آیت کی توضیح میں کئی اقوال ذکر کئے ہیں بجملہ ان اقوال کے
ایک قول امام جعفر صادق رضی اللہ عنہ کا ہے آپ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت شریفہ میں
مسلمانوں کی تین قسمیں بیان فرمائیں اور تینوں کو ”عِبَادِنَا“ (ہمارے بندے) فرمایا یعنی تینوں کی
نسبت اپنی طرف کی، اور تینوں کے مراتب میں تفاوت کے باوجود تینوں کو منتخب اور پسندیدہ قرار دیا اور
تینوں کے لئے جنت کی یہ خوشخبری دی اور یہ خوشخبری کلمۂ اخلاص ”لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ
اللّٰهِ“ کی بدولت اہل اسلام کو دی گئی ہے۔ 12
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و
آلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب بندہ اسلام قبول کرے اور اس کا اسلام اچھا ہو (یعنی اس کا ظاہر
اور باطن اچھا ہو) تو اللہ تعالیٰ (ایمان لانے کی وجہ سے اس کے قبل ایمان کے) تمام گناہ معاف
فرما دیتے ہیں اور اسلام قبول کرنے کے بعد ہر نیکی کا بدلہ اس کو (کم از کم) دس گنا ملتا ہے یہاں تک
کہ (اس کے کمال اخلاص کے اعتبار سے اس کو ایک نیکی کا اجر کبھی) سات سو گنا تک بھی ملتا ہے بلکہ
(اللہ تعالیٰ چاہیں تو) اس سے بھی زیادہ (اس کو اجر عطا فرماتے ہیں) لیکن ایک گناہ کا بدلہ ایک ہی دیا
جائے گا (اس میں زیادتی نہیں ہوتی) اور اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس گناہ کو معاف بھی فرما دیتے ہیں۔ اس
کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم فرمائے ہیں کہ: اللہ تعالیٰ نے (فرشتوں سے لوح محفوظ میں میں ان اعمال کو) لکھوا دیا
ہے جن پر (بندہ مومن کو) نیکیاں ملتی ہیں اور ثواب حاصل ہوتا ہے (اسی طرح اللہ تعالیٰ نے لوح
محفوظ ان اعمال کو بھی لکھوا دیا ہے جن کے کرنے پر بندہ مومن کو گناہ ہوتا ہے اور سزا ملتی ہے) پس
اگر کوئی بندہ کسی نیکی کا پکا ارادہ کر لیتا ہے اور (کسی عذر) کی وجہ سے اس کو انجام نہ دے سکا تو بھی اللہ
تعالیٰ (اس کی نیت کی وجہ سے) اس کو پوری نیکی کا ثواب عطا فرماتے ہیں اور جو شخص ارادہ کے ساتھ
ساتھ اس نیک عمل کو کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ (اپنے فضل سے) اس کے لئے (نامہ اعمال میں کبھی)
دس اور (کبھی) سات سو اور (کبھی) اس سے زائد بھی (اس کے خلوص کے مطابق) نیکیاں
لکھوا دیتے ہیں اور اس کے برخلاف جو شخص کسی برائی کا ارادہ کرے اور (اللہ تعالیٰ کے ڈر سے) اس
کو روبہ عمل نہ لائے تو اللہ تعالیٰ (اس کے خوف کی وجہ سے) اس برائی کے معاوضہ میں پوری نیکی لکھ
دیتے ہیں اور جو شخص برائی کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کر لے تو ایک برائی کے بدلہ ایک ہی گناہ (اس
کے نامہ اعمال میں) لکھا جاتا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 6491 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 131a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات نے امام نووی سے نقل کیا ہے کہ: سبحان اللہ! اس حدیث شریف میں اللہ
تعالیٰ کی رحمت بے پایاں کا اظہار ہے کہ برائی کے قصد کو نامہ اعمال میں لکھوایا نہ جائے اور نیکی کے قصد
کو بغیر عمل کئے کے بھی ایک نیکی لکھوا دی جاتی ہے اور برائی کے کرنے کے بعد ایک ہی برائی لکھوائی
جائے اور ایک نیکی کے بدلہ میں دس گنا، سات سو گنا بلکہ اس سے بھی زیادہ نیکیاں لکھوائی جائیں۔ البتہ
کوئی شخص برائی کا قصد کر کے اور خوف کے علاوہ خدا کے کسی اور مجبوری سے اس برائی کو نہ کر سکے تو ایسے
شخص کے لئے ایک برائی کی نیت کے بدلے ایک گناہ لکھا جائے گا۔ جیسے کسی نے رات کو اپنے دل میں
یہ عزم کرلیا کہ فلاں کو قتل کردوں گا اور اسی رات کو وہ مرگیا تو اس پر قتل کے قصد کی وجہ سے قتل کا گناہ لکھا
جائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے (سورہ بنی اسرائیل، آیت نمبر:36) ”اِنَّ السَّمْعَ
وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا“، بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب سے
(قیامت کے دن) پوچھ ہوگی (کہ آنکھ کا استعمال کہاں کیا، کان کا استعمال کہاں کیا اور دل میں بے
دلیل بات کا کیوں خیال جمایا) اور عُجب، کبر اور ریا یہ دل کی بیماریاں ہیں اور ان پر بھی مؤاخذہ ہے۔
یہ مضمون مرقات سے ماخوذ ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: اس (بندۂ مومن) کی مثال جو برائیوں کے بعد نیکیاں کرنے
لگے اس شخص کے مانند ہے جس کے جسم پر ایک تنگ درع تھی جس نے اس (کے جسم) کو دبا رکھا تھا
اس کے نیکیاں کرنے کی وجہ سے اس (درع) کا ایک ایک حلقہ کھلنے لگا یہاں تک کہ ہر نیکی کے بدلہ
میں اس (کی درع) کے حلقے کھلتے چلے گئے اور وہ (ڈھیلی ہوکر) زمین پر گرگئی۔ اس کی روایت شرح
السنہ میں کی گئی ہے۔
ف: اس حدیث شریف کا حاصل یہ ہے کہ: برائی کرنے سے انسان کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے اور
وہ اپنے کاموں پر متحیر رہتا ہے اور لوگ اس کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حدیث شریف میں اس حالت
کو زرع کی تنگی سے تشبیہ دی گئی ہے اس کے برخلاف نیکیاں کرنے سے سینہ کشادہ ہوتا ہے اور کام
آسان ہوتے ہیں اور لوگ اس کو محبت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور حدیث شریف میں اس حالت کو درع
کے کھلنے سے تشبیہ دی گئی ہے۔ مرقات۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
روایت فرماتے ہیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ: بندہ (مومن مختلف قسم کی عبادتوں کے ذریعہ) اللہ تعالیٰ
کی رضامندی اور خوشنودی کی تلاش میں لگا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام سے
فرماتے ہیں کہ میرا فلاں بندہ میری خوشنودی کی فکر میں لگا ہوا ہے (جبرئیل! تم) سن لو کہ میری رحمت
(کاملہ) اسی پر نازل ہے پس جبرئیل علیہ السلام ندا فرما دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت فلاں بندہ
پر ہے اور اسی (دعاء کے کلمہ) کو حاملینِ عرش اور ان کے اطراف والے فرشتے کہتے جاتے ہیں
یہاں تک کہ ساتوں آسمان کے فرشتے اس شخص کے حق میں دعاء کرتے ہیں پھر (اللہ تعالیٰ کی
رحمت) اس شخص کے حق میں زمین والوں تک پہنچتی ہے (کہ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو پسند فرمایا
ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ ہے تو زمین والے بھی اس کو چاہنے لگتے ہیں)۔ اس حدیث کی
روایت امام احمد نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
حدیث سے ارحم الراحمین کا مطلب سمجھ میں آتا ہے اور رحمت الٰہی کی وسعت کا بھی اندازہ ہوتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔