And the statement of Allah, the Almighty: "O mankind, there has come to you an instruction from your Lord, a healing for what is in the breasts, and a guidance and mercy for the believers." [Yunus: 57]
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5027 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
The best among you...
(1) The statement: "The best among you..." If it is asked: Which is better—learning the Qur’an or learning Fiqh (jurisprudence)? The answer is: The one occupied with Fiqh is better. This depends on a person’s need, because Fiqh is superior to mere recitation. However, in the time of the Prophet (ﷺ), the reciter was the most knowledgeable in Fiqh, which is why the reciter led the prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari’.
Note 1
قوله
(۱) قوله : خيركم إلخ فإن قلت: أيهما أفضل ؟ تعلم القرآن أو تعلم الفقه ؟ قلت: المتشاغل بالفقه أفضل. ذلك راجع إلى حاجة الإنسان؛ لأن الفقه أفضل من القراءة، وإنما كان القارئ في زمن النبي الله هو الأفقه، فلذلك قام القارئ في الصلاة. قاله في عمدة القاري».
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ حسد کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو نعمتوں میں دیکھ کر
اس کو برداشت نہ کرسکے اور یہ تمنا کرے کہ اس کی نعمتیں چھن جائیں اور مجھ کو مل جائیں ایسی تمنا حرام
ہے اور حسد کی دوسری قسم جس کو غبطہ کہتے ہیں یہ ہے کہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر یہ آرزو کرے کہ خدا
ہم کو بھی ایسی ہی نعمتوں سے سرفراز کرے اور دوسرے کی نعمتوں کے زوال کی تمنا نہ کرے اور یہ جائز
ہے اور حدیث شریف میں حسد سے مراد یہی غبطہ مراد ہے۔ (مرقات)
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: واضح ہو کہ جنت کے درجات قرآن کے آیات کے مطابق ہیں اور صاحب مرقات نے
علامہ دوانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ قرآن کی متفق علیہ آیتیں چھ ہزار ہیں تو اس طرح جنت کے
درجات بھی چھ ہزار ہوں گے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے ”جس کے دل میں کچھ بھی
قرآن نہ“، ہو تو اس سے مراد قرآن کا صرف وہ حصہ نہیں جو نمازوں میں پڑھا جاتا ہو بلکہ اس کے سوا
مسلمان کو کچھ نہ کچھ قرآن یاد کرنا چاہئے اگر یاد نہ کر سکتا ہو تو کم از کم ناظرہ ہی پڑھتا رہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”جس نے قرآن کے سوا کسی اور چیز میں ہدایت تلاش
کی تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کر دیں گے‘‘۔
اس ارشاد سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے صرف
قرآن ہی کافی ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ شیخ ابو اسحاق کازرونی رحمۃ اللہ علیہ
سے پوچھا گیا کہ گمراہ فرقے جیسے خوارج، قدریہ، جبریہ وغیرہ سنت کی طرح قدریہ قرآن ہی سے
استدلال کرتے ہیں؟ اس پر علامہ کازرونی نے قرآن کی آیت پڑھی: ’’يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي
بِهِ كَثِيرًا‘‘۔ (سورۃ بقرہ، آیت نمبر:26)
(اللہ تعالیٰ قرآن ہی سے اکثر کو گمراہ کرتے ہیں اور قرآن ہی سے اکثر کو ہدایت دیتے ہیں)
اور علامہ ممدوح نے یہ بھی فرمایا کہ گمراہ فرقے کامل طور پر قرآن سے استدلال نہیں کرتے کیونکہ انھوں
نے ان حدیثوں کو چھوڑ دیا جو حقیقت میں مقاصد قرآنی کی تفسیر ہیں حالانکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے
کہ ’’وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا‘‘
(سورۃ حشر، آیت نمبر:7)
(رسول جو کچھ تم کو دیں تم اس کو لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو باز رکھیں تم اس سے باز رہو)۔ تو
ان فرقوں نے قرآن کی معرفت کا حق ادا نہیں کیا؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی جو
قرآن کی معرفت میں کامل ہیں جس کے نتیجہ میں انھوں نے احادیث کا انکار کیا۔ چنانچہ امام الصوفیہ
حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے جو قرآن حفظ نہ کرے اور حدیث نبوی نہ لکھے تو وہ اتباع
کے لائق نہیں ہے اور جو ہمارے طریقہ یعنی تصوف میں بغیر علم کے داخل ہوا اور اپنی جہالت پر اڑا رہا تو
وہ شیطان کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائے گا کیونکہ ہمارا طریقہ کتاب اور سنت کے ساتھ مقید ہے۔
مرقات کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔
قرآن کے ساتھ احادیث نبوی مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے حجت اور ماخذ قرار
دینے کے لئے محدثین کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں متعدد حدیثیں روایت کی ہیں جن میں سے یہاں
بطور مثال کے ابوداؤد کی ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس کو حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ
نے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے
کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے یہ خیال کرتا ہے کہ
اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام کی ہے وہ تو صرف قرآن ہی میں موجود ہے (اب حدیث کی کیا ضرورت
ہے) سن رکھو خدا کی قسم میں نے جن جن چیزوں (کے کرنے کا) کا حکم دیا ہے اور نصیحت کی ہے اور جن
چیزوں سے منع کیا ہے (یعنی میری احادیث) وہ بھی (اپنی نوعیت میں) قرآن کی طرح ہیں بلکہ
(بعض صورتوں میں جہاں قرآن مجمل ہو یا ساکت ہو قرآن سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اعلی
آخر الحدیث۔ اس سے ثابت ہوا کہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرنے والا منکر اور کافر
ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو انکار حدیث کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ“ جو قرآن پڑھے۔ اس بارے میں
صاحب مرقات نے ابن حجر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہاں قَرَأَ الْقُرْآنَ سے مراد حفظ قرآن ہے اس
سے حافظ قرآن کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہے مطلب یہ ہے کہ جس جسم میں قرآن رہے گا اس کو دوزخ کی آگ نہیں جلائے گی۔ (جیسا کہ
مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے)۔ اس حدیث کی روایت دارمی نے کی ہے۔
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ قرآن کو دیکھ کر پڑھنے کا ثواب یاد سے قرآن پڑھنے
سے زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کو دیکھنا بھی عبادت ہے اور قرآن کو دیکھ کر پڑھنے میں قرآن کو
اٹھاتے ہیں اور اس کو مس کرتے ہیں اور اس کے معانی میں تفکر کرتے ہیں ان وجوہ سے قرآن کو دیکھ کر
پڑھنے کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کو دیکھ کر پڑھتے تھے اور
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کے بکثرت دیکھ کر قرآن پڑھنے سے دو
قرآن مجید کے اوراق شکستہ ہو گئے ہیں۔ (مرقات اور اشعۃ اللمعات)
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 4474 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (5)
Note 1
Respond to Allah and the Messenger...
(1) The statement: "Respond to Allah and the Messenger..." Al-Hafiz said in Al-Fath: "The scholars ‘Abdul Wahhab and Abu al-Walid from the Malikis held that responding to the Prophet (ﷺ) during prayer is obligatory, and neglecting it is sinful—a ruling specific to the Prophet (ﷺ). The Shafi’is also hold this view, though they differ on whether the prayer becomes invalid or not."
I say: As for the Hanafis, al-Tahtawi said in Hashiyat Maraqi al-Falah: "It is obligatory for the one praying to respond to the Prophet (ﷺ), and there is no disagreement that the prayer becomes invalid if he does not, as mentioned by Badr in his Tafsir of Surah Al-Anfal."
Note 2
Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin
(2) The statement: "Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin" indicates that the Basmalah is not part of Surah Al-Fatihah, otherwise he would have said, "Bismillahir-Rahmanir-Rahim, Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin."
Note 1
قوله
(۱) قوله: استجيبوا إلخ: قال الحافظ في «الفتح»: والذي تأوّل القاضيان عبد الوهاب وأبو الوليد أن إجابة النبي ﷺ في الصلاة فرض، يعصي المرء بتركه، وإنه حكم يختص بالنبي ﷺ ، وما جنح إليه القاضيان من المالكية هو قول الشافعية على اختلاف عندهم بعد قولهم بوجوب الإجابة، هل تبطل الصلاة أم لا؟ انتهى.
قلت: وأما عند الحنفية فقال الطحطاوي في حاشية مراقي الفلاح: يفترض على المصلي إجابة النبي ﷺ لا خلاف في بطلانها حينئذ، كذا ذكره البدر في تفسير سورة الأنفال. قاله في بذل المجهود».
Note 2
قوله
(۲) قوله : قال الحمد لله رب العالمين بدل على أن التسمية ليست بجزء من سورة الفاتحة، وإلا قال: بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين.
Note 1
(ف 1): اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ فاتحہ کی ابتداء ”الحمد
لله رب العالمين “ سے فرمائی ہے اور ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سے سورہ فاتحہ کی ابتدا نہیں
کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے بلکہ ایک
مستقل آیت ہے۔
(ف 2): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ فاتحہ کو
اعظم سورة من القرآن: قرآن شریف کی سب سے عظمت والی سورت ارشاد فرمایا ہے) اس بارے
میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ قرآن شریف کی اس سورت میں جو جامعیت ہے وہ کسی اور سورت
میں نہیں ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء سے اس کی ابتداء کی گئی ہے پھر الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں صالحین کے
لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ کے وعدہ کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد ”مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ“ میں
نافرمان بندوں کے لئے آخرت میں سزا اور ان کے لئے وعید کا ذکر ہے پھر عبادت و استعانت کا اللہ
تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص ہونے کا بیان ہے اس کے بعد بندوں کے لئے سوال کرنے کا طریقہ بتایا
گیا ہے۔ ان کا بہترین سوال ہدایت کی طلب ہے۔ اور ان لوگوں کے راستہ کی طلب ہے جن پر انعام
ہو۔ جیسے انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین اور آخر میں گمراہوں اور مغضوبین کے راستہ اور پیروی سے
نجات کی طلب کا بھی بیان ہے اس طرح سے سورہ فاتحہ میں سارے سالکین کے سارے معاملات اور
منازل کا ذکر ہے۔ اور حدیث شریف میں اس سورت کو قرآن ”عظیم“ جو فرمایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے
کہ جو مطالب پورے قرآن میں مفصل مذکور ہیں ان کا بیان سورہ فاتحہ میں مجمل موجود ہے۔
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
The greatest...
(1) The statement: "The greatest..." It is mentioned in Al-‘Alamgiriyyah: "Some Surahs and verses are superior, like Ayat al-Kursi, in that their recitation carries greater reward and awakens the heart. However, it is best not to prefer some parts of the Qur’an over others at all—this is the preferred view."
Note 1
قوله
(۱) قوله : أعظم وقال في العالمگيرية: يفضل بعض السور والآيات كآية الكرسي ونحوها، ومعنى الأفضلية أن ثواب قراءته كثير وقليل بأنه للقلب أيقظ، وهذا أقرب إلى الصواب، وبهذا المعنى يقال: إن القرآن أفضل من سائر الكتب المنزلة، والأفضل أن لا يفضل بعض القرآن على بعض أصلا، وهو المختار . كذا في جواهر الأخلاطي».
Note 1
ف: فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ قرآن کی بعض سورتوں کو دوسری سورتوں پر اور بعض آیتوں
کو دوسری آیتوں پر فضیلت ہے۔ جیسے آیہ الکرسی وغیرہ۔ اور افضل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان کے
پڑھنے کا ثواب زیادہ ملتا ہے اور افضل ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ایسی سورتیں اور آیتیں اپنے معنی
اور مضامین کے اعتبار سے دل کو زائد متنبہ کرنے والی ہیں۔ اور فضیلت کا یہی مفہوم زیادہ قرین صواب
ہے۔ یہ جواہر الاخلاطی میں مذکور ہے۔ اس بارے میں دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یوں تو پورا قرآن کلام
اللہ کی حیثیت سے مساوی مرتبہ کا حامل ہے۔ اس لیے اس کے کسی جزو کو کسی جزو پر فضیلت ہرگز نہ دی
جائے اور یہی مسلک مختار اور مفتی بہ ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 806 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کو نورین دو نور فرمایا گیا
ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ یہ دونوں آیتیں پڑھنے والے لئے قیامت کے دن
روشنی کی صورت میں آگے آگے چلیں گے اور جنت کے راستہ کی رہبری کرینگے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "The best among you..." If it is asked: Which is better—learning the Qur’an or learning Fiqh (jurisprudence)? The answer is: The one occupied with Fiqh is better. This depends on a person’s need, because Fiqh is superior to mere recitation. However, in the time of the Prophet (ﷺ), the reciter was the most knowledgeable in Fiqh, which is why the reciter led the prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari’.
Note 1
(۱) قوله : خيركم إلخ فإن قلت: أيهما أفضل ؟ تعلم القرآن أو تعلم الفقه ؟ قلت: المتشاغل بالفقه أفضل. ذلك راجع إلى حاجة الإنسان؛ لأن الفقه أفضل من القراءة، وإنما كان القارئ في زمن النبي الله هو الأفقه، فلذلك قام القارئ في الصلاة. قاله في عمدة القاري».