Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

the Virtues of the Qur’an · Chapter 1

Opening narrations

76 narrations · In source reading order

Hadith 2564

Volume 2

English

Uthman (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The best among you is the one who learns the Qur’an and teaches it."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٦٤ - عَنْ عُثْمَانَ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «خَيْرُكُمْ 1 مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3036
امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: تم میں سے بہترین وہ شخص ہے جو قرآن کو خود سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔

Qur’an-related source paragraphs

And the statement of Allah, the Almighty: "O mankind, there has come to you an instruction from your Lord, a healing for what is in the breasts, and a guidance and mercy for the believers." [Yunus: 57]

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5027 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2109 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 2109

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (2)

Note 1

The best among you...

(1) The statement: "The best among you..." If it is asked: Which is better—learning the Qur’an or learning Fiqh (jurisprudence)? The answer is: The one occupied with Fiqh is better. This depends on a person’s need, because Fiqh is superior to mere recitation. However, in the time of the Prophet (ﷺ), the reciter was the most knowledgeable in Fiqh, which is why the reciter led the prayer. This is mentioned in ‘Umdat al-Qari’.

Note 1

قوله

(۱) قوله : خيركم إلخ فإن قلت: أيهما أفضل ؟ تعلم القرآن أو تعلم الفقه ؟ قلت: المتشاغل بالفقه أفضل. ذلك راجع إلى حاجة الإنسان؛ لأن الفقه أفضل من القراءة، وإنما كان القارئ في زمن النبي الله هو الأفقه، فلذلك قام القارئ في الصلاة. قاله في عمدة القاري».

Hadith 2565

Volume 2

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Learn the Qur’an and recite it, for the example of one who learns the Qur’an, recites it, and stands by it is like a bag full of musk whose fragrance spreads everywhere. And the example of one who learns it but sleeps while it is in his heart is like a bag tied upon musk."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٦٥ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه)قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ : تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَاقْرَؤُوْهُ فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَ، فَقَرَأَ بِهِ وَقَامَ كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٌّ مِسْكًا تَفُوْحُ رِيحُهُ كُلَّ مَكَانٍ وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَرَقَدَ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ كَمَثَلِ جِرَابٍ أَوْكِي عَلَى مِسْكِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَه.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3037
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کو (لفظ اور معنی کے ساتھ) پڑھنا سیکھو پھر اس کی تلاوت ہمیشہ جاری رکھو (اور اس کے احکام پر عمل کرتے جاؤ) کیونکہ جس نے قرآن کو سیکھا پھر پڑھا اور تہجد میں اس کو پڑھتا رہا اس کی مثال چمڑے کی اس تھیلی کی طرح ہے جس میں مشک بھرا ہوا ہو اور اس کی خوشبو مکان کے گوشہ گوشہ میں پہنچ جاتی ہے (یعنی اس کی برکت پڑھنے اور سننے والوں کو حاصل ہو جاتی ہے) اور اس شخص کی مثال جس نے قرآن کو سیکھا اور اس کو سینہ میں لئے سوتا رہا (یعنی نہ تو خود ورد کرتا ہے اور نہ دوسروں کو سکھاتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے) اس تھیلی جیسی ہے جس میں مشک تو بھرا ہوا ہو لیکن اس کا منہ باندھ دیا گیا ہو۔ اس کی روایت ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 217 (unverified) 95% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2876 (unverified) 88% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2566

Volume 2

English

Abu Musa al-Ash’ari (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The example of a believer who recites the Qur’an is like a citron—its fragrance is pleasant, and its taste is pleasant. The example of a believer who does not recite the Qur’an is like a date—it has no fragrance, but its taste is sweet. The example of a hypocrite who does not recite the Qur’an is like a colocynth—it has no fragrance, and its taste is bitter. And the example of a hypocrite who recites the Qur’an is like a basil—its fragrance is pleasant, but its taste is bitter." [Agreed upon] In another narration: "The believer who recites the Qur’an and acts upon it is like a citron, and the believer who does not recite the Qur’an but acts upon it is like a date."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٦٦ - وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الْأَتْرُجَّةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ، وَطَعْمُهَا طَيِّبُ. وَمَثَلُ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ التَّمْرَةِ، لَا رِيحَ لَهَا وَطَعْمُهَا حُلُو. وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَمَثَلِ الْحَنْظَلَةِ لَيْسَ لَهَا رِيحٌ، وَطَعْمُهَا مُرٌّ وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ مَثَلُ الرَّيْحَانِةِ، رِيحُهَا طَيِّبٌ وَطَعْمُهَا مُرَّ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: الْمُؤْمِنُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالْأُتْرُجَّةِ، وَالْمُؤْمِنُ الَّذِي لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَعْمَلُ بِهِ كَالتَّمْرَةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3038Noor 3039
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو مسلمان قرآن پڑھتا رہتا ہے اس کی مثال ترنج کے پھل جیسی ہے جس کی خوشبو اچھی ہوتی ہے اور مزہ بھی عمدہ ہوتا ہے (یعنی قرآن پڑھنے والے مسلمان کا ظاہر و باطن دونوں اچھے ہوتے ہیں) اور اس مسلمان کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا ہے کھجور کی طرح ہے کہ اس میں خوشبو نہیں ہوتی لیکن اس کا مزہ شیریں ہوتا ہے (یعنی اس کا باطن ایمان کی وجہ سے تو اچھا ہے لیکن قرآن نہ پڑھنے کی وجہ سے ایمان کا اثر اس پر ظاہر نہیں ہے) اور جو منافق قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن کے پھل کی طرح ہے جس میں خوشبو بھی نہیں ہوتی اور اس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے۔ (یعنی منافق کا نہ ظاہر اچھا ہے اور نہ باطن) اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبودار پھول کی طرح ہے کہ بو تو اس کی اچھی ہے لیکن مزہ اس کا کڑوا ہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔ اور بخاری و مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ وہ مسلمان جو قرآن پڑھ کر عمل کرتا ہو وہ ترنج کی طرح ہے اور وہ مسلمان جو قرآن تو نہیں پڑھتا ہے لیکن اس پر عمل کرتا ہے کھجور کی طرح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 797a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5020 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2567

Volume 2

English

Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: The Messenger of Allah (ﷺ) came out to us while we were in the Suffah and said: "Who among you would love to go every morning to Buthan or Aqiq and bring back two large she-camels without committing any sin or severing ties of kinship?" We said, "O Messenger of Allah, we would all love that." He said: "Why does not one of you go to the mosque and learn or recite two verses from the Book of Allah? That would be better for him than two she-camels, three verses better than three, four verses better than four, and so on with the number of camels."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٦٧ - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ (رضي الله عنه)قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ ، وَنَحْنُ فِي الصُّفَةِ، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يَعْدُ وَ كُلَّ يَوْمٍ إِلَى بُطْحَانَ أَوِ الْعَقِيقِ، فَيَأْتِيَ مِنْهُ بِنَاقَتَيْنِ كَوْمَا وَيْنِ فِي غَيْرِ إِثْمٍ وَلَا قَطْعِ رَحِمٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، كُلُّنَا يُحِبُّ ذَلِكَ. قَالَ: «أَفَلَا يَغْدُوْ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَيَعْلَمَ أَوْ يَقْرَأَ آيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ نَاقَتَيْنِ، وَثَلَاثُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثٍ، وَأَرْبَعُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَرْبَعٍ، وَمِنْ أَعْدَادِهِنَّ مِنَ الْإِبِلِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3040
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صُفّہ پر (جو مسجد نبوی میں ایک سایہ دار چبوترہ ہے) بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ارشاد فرمائے کہ تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز بُطحان یا عقیق کے بازاروں میں جائے (بُطحان اور عقیق دو مقام ہیں جو مدینہ منورہ سے دو یا تین میل کے فاصلے پر ہیں جہاں اونٹوں کی خرید و فروخت ہوا کرتی تھی) اور وہاں سے بغیر گناہ اور قطع رحمی کے دو بڑے کوہان والی اونٹنیاں لائے؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں۔ یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جب ایسا ہے تو کیا وجہ ہے کہ پھر تم میں سے کوئی مسجد جا کر قرآن کی دو آیتیں نہیں سکھاتا اور خود نہیں پڑھتا جو اس کے لئے (دو بڑی) اونٹنیوں سے بہتر ہے اور اسی طرح تین آیتیں تین اونٹنیوں سے اور چار آیتیں چار اونٹنیوں کے ملنے سے بہتر ہیں (بہرحال قرآن کی جتنی زیادہ آیتیں سکھائے گا) وہ اونٹنیوں کی (اتنی ہی زیادہ) تعداد سے (ثواب و اجر میں) بہتر ہیں اس لئے کہ قرآن پڑھنے اور پڑھانے کا ثواب دنیا کے تمام نفیس مال سے بہتر ہے کیونکہ آخرت کا ثواب باقی رہنے والا ہے اور دنیا کا اسباب فنا ہونے والا ہے)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 803 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2568

Volume 2

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Would any of you like, upon returning to his family, to find three large, fat pregnant she-camels?" We said, "Yes." He said: "Then three verses that one of you recites in his prayer are better for him than three large, fat pregnant she-camels."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٦٨ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه)، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ أَنْ يَجِدَ فِيْهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ ؟ قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: «فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَأُ بِهِنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3041
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہے کہ تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر واپس جائے اس کو تین فربہ گابھن بڑی اونٹنیاں ملیں؟ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ ہم سب اس کو پسند کرتے ہیں۔ حضور نے فرمایا: کہ تم میں سے کسی کا نماز میں قرآن کی تین آیتوں کا پڑھنا ثواب اور اجر میں تین فربہ گابھن بڑی اونٹنیوں کے ملنے سے بہتر ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 802 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2569

Volume 2

English

Al-Hasan reported in a mursal narration that the Prophet (ﷺ) said: "Whoever recites one hundred verses in a night, the Qur’an will not argue against him that night. Whoever recites two hundred verses in a night, it will be recorded for him as if he stood in prayer the entire night. And whoever recites between five hundred and a thousand verses in a night, he will wake up with a qintar of reward." They asked, "What is a qintar?" He said: "Twelve thousand."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٦٩ - وَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «مَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَةَ آيَةٍ لَمْ يُحَاجَهُ الْقُرْآنُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ مِائَتِيْ آيَةٍ كُتِبَ لَهُ قُنُوْتُ لَيْلَةٍ، وَمَنْ قَرَأَ فِي لَيْلَةٍ خَمْسَ مِائَةٍ إِلَى الْأَلْفِ أَصْبَحَ وَلَهُ قِنْطَارُ مِنَ الْأَجْرِ»، قَالُوا: وَمَا الْقِنْطَارُ؟ قَالَ: «اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا». رَوَاهُ الدَّارِميُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3042
حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مرسلاً سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص رات میں کم سے کم قرآن کی سو(100) آیتیں پڑھے تو قرآن اس کے لئے (اپنے حق تلاوت) کے بارے میں جھگڑا نہیں کرے گا۔ اور جو شخص ایک رات میں دو سو(200) آیتیں پڑھے تو اس کو رات بھر کی عبادت کا ثواب ملے گا۔ اور جو شخص رات بھر میں پانچ سو سے ہزار آیتوں تک کی تلاوت کرے گا تو وہ صبح کو اس طرح اٹھے گا کہ اس کو ایک قنطار ثواب مل چکا ہے۔ صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ یہ قنطار کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: بارہ ہزار (درہم یا دینار)۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2143 (unverified) 40% confidence

Mishkat (candidate) 2143

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2570

Volume 2

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The one who is skilled in the Qur’an will be with the noble and obedient scribes (angels), and the one who recites the Qur’an with difficulty, stammering through it, will have a double reward."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٠ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها)قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، وَالَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَيَتَتَعْتَعُ فِيْهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌ، لَهُ أَجْرَانِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3043
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ فرماتی ہے کہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن کا ماہر (جو قرآن کے حفظ و تجوید میں مہارت رکھتا ہو اور قرآن کے احکام کا عالم ہو اور ان پر پوری طرح عمل کرنے والا ہو تو اس کا حشر) ان مقرب اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا جو لوح محفوظ سے کتب الٰہیہ کو لکھتے ہیں اور وہ شخص جو قرآن کو (عدم مہارت کی وجہ سے دشواری کے ساتھ) دوہرا دوہرا کر رک رک کر پڑھتا ہے تو اس کو دو اجر ملتے ہیں۔ (قرآن کی تلاوت کا بھی اجر اور پڑھنے کی مشقت کا بھی اجر اس فضیلت سے مشقت سے قرآن پڑھنے والے کی دلجوئی مقصود ہے تاکہ وہ قرآن کے سیکھنے میں کم ہمت نہ ہو۔ یوں تو ماہر بالقرآن کی فضیلت ظاہر ہے کہ اس کا حشر ملائکہ مقربین انبیاء اور مرسلین اور صحابہ کرام کے ساتھ ہوگا)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4937 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 798a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2571

Volume 2

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "There should be no envy except for two: a man whom Allah has given the Qur’an, so he recites it day and night, and a man whom Allah has given wealth, so he spends from it day and night."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧١ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَا حَسَدَ إِلَّا عَلَى اثْنَيْنِ، رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ». مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3044
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ حسد صرف دو شخصوں پر جائز ہے: ایک اس شخص پر جس کو اللہ نے قرآن (یعنی ذوق تلاوت) عطا فرمایا ہو اور رات دن اس کی تلاوت میں مشغول رہتا ہو اور دوسرا وہ شخص (جس پر حسد جائز ہے وہ ہے) کہ جس کو اللہ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اس کو (نیک کاموں میں) دن رات خرچ کیا کرتا ہو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5025 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 815a (unverified) 97% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2113 (unverified) 89% confidence

Mishkat (candidate) 2113

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ حسد کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کو نعمتوں میں دیکھ کر اس کو برداشت نہ کرسکے اور یہ تمنا کرے کہ اس کی نعمتیں چھن جائیں اور مجھ کو مل جائیں ایسی تمنا حرام ہے اور حسد کی دوسری قسم جس کو غبطہ کہتے ہیں یہ ہے کہ دوسروں کی نعمتوں کو دیکھ کر یہ آرزو کرے کہ خدا ہم کو بھی ایسی ہی نعمتوں سے سرفراز کرے اور دوسرے کی نعمتوں کے زوال کی تمنا نہ کرے اور یہ جائز ہے اور حدیث شریف میں حسد سے مراد یہی غبطہ مراد ہے۔ (مرقات)

Hadith 2572

Volume 2

English

Umar ibn al-Khattab (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Verily, Allah elevates some people by this Book and lowers others by it."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٢ - وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ (رضي الله عنه)قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِﷺ: «إِنَّ اللَّهَ يَرْفَعُ بِهَذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِيْنَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3045
حضرت امیر المؤمنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب (یعنی قرآن ) پر ایمان لانے اس کی تعظیم کرنے اور اس پر عمل کرنے سے بعضوں (کے مراتب) کو بلند فرماتے ہیں (یعنی دنیا میں ان کو حیات طیبہ سے سرفراز فرماتے ہیں اور آخرت میں ان کا حشر انبیاء اور صدیقین کے ساتھ فرماتے ہیں) اور بعضوں کو (جو قرآن ریاکاری سے پڑھے اور اس پر عمل نہ کرے) قرآن ہی سے پست (اور ذلیل) کرتے ہیں۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 817a (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2573

Volume 2

English

Abdur-Rahman ibn Awf (may Allah be pleased with him) reported from the Prophet (ﷺ) who said: "Three will be under the shade of the Throne on the Day of Judgment: the Qur’an—which will argue on behalf of the servants, having an outward and inward meaning—the trust (Amanah), and kinship, which will call out, ‘Whoever maintained me, Allah will maintain him, and whoever severed me, Allah will sever him.’"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٣ - وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ (رضي الله عنه)عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: «ثَلَاثَةُ تَحْتَ الْعَرْشِيَوْمَ الْقِيَامَةِ الْقُرْآنُ يُحَاخُ الْعِبَادَ، لَهُ ظَهْرُ وَبَطْنُ، وَالْأَمَانَةُ، وَالرَّحِمُ تُنَادِي: أَلَا مَنْ وَصَلَنِي وَصَلَهُ اللهُ ، وَمَنْ قَطَعَنِي قَطَعَهُ اللهُ». رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3046
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن تین چیزیں عرش کے نیچے ہوں گی۔ (جو شخص ان کے حقوق ادا کرے گا اس کے حق میں ان کی شفاعت اللہ کے پاس مقبول ہوگی۔ اور جو ان کے حقوق ضائع کرے گا تو ان کی گرفت سے بچ نہ سکے گا ان میں سے (1) ایک تو قرآن ہے کہ بندوں کے لئے جھگڑے گا (اگر انہوں نے اس کے حقوق کی حفاظت کی ہے اور اس کے احکام پر عمل کیا ہے تو ان کے فائدے کے لئے اللہ تعالیٰ سے شفاعت کے لئے اڑ جائے گا۔ اور اگر انہوں نے قرآن کا حق ضائع کیا ہے اور اس کے احکام پر عمل نہیں کیا ہے تو ان کے خلاف حجت کرے گا) اور قرآن کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے (ظاہر سے مراد تلاوت ہے جس میں سارے مسلمان شریک ہیں) اور باطن اس کے معانی میں تدبر ہے جو علمائے امت کا حصہ ہے۔ اور (2) دوسری وہ چیز جو عرش کے نیچے ہوگی وہ) امانت ہے (کہ اس سے مراد لوگوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کے اموال کی نگہداشت ہے (3) تیسری وہ چیز جو عرش کے نیچے ہوگی) وہ صلہ رحمی ہے (یعنی قرابت داروں کے حقوق کی حفاظت ہے) اور ان تینوں میں سے ہر ایک قیامت کے روز آواز دے گا کہ آگاہ ہو جاؤ کہ جو مجھ سے ملا (یعنی میرے حقوق کی حفاظت کی) اللہ تعالیٰ بھی اس سے اپنی رحمت سے ملیں گے اور (سرفراز کریں گے) اور جو مجھ سے ٹوٹا (یعنی میرے حقوق کو ضائع کیا) اللہ تعالیٰ بھی اس کو اپنی رحمت سے دور کریں گے۔ اس کی روایت شرح السنہ میں کی ہے۔

Hadith 2574

Volume 2

English

Abdullah ibn Amr (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "It will be said to the companion of the Qur’an: ‘Recite and ascend, and recite with deliberation as you used to recite in the world, for your rank will be at the last verse you recite.’"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٤ - وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو (رضي الله عنهما)قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِﷺ: «يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ: اِقْرَأْ وَارْتَقِ، وَرَتَّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا، فَإِنَّ مَنْزِلَكَ مِنْهُ آخِرَ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3047
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ صاحب قرآن سے (جو قرآن کا حافظ ہو اور اس کی تلاوت کرتا ہو اور اس کے احکام پر عمل بھی کرتا ہو جب وہ جنت میں داخل ہوگا تو کہا جائے گا کہ (قرآن) پڑھتا جا اور جنت کے درجوں پر چڑھتا جا اور جس طرح تو دنیا میں ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھتا تھا اسی طرح ترتیل کے ساتھ پڑھتا جا اس لئے کہ تیرا انتہائی درجہ جنت میں (قرآن کی) آخری آیت پر ہوگا جس کو تو پڑھے گا۔ اس کی روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1464 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2914 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2134 (unverified) 93% confidence

Mishkat (candidate) 2134

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: واضح ہو کہ جنت کے درجات قرآن کے آیات کے مطابق ہیں اور صاحب مرقات نے علامہ دوانی کے حوالے سے لکھا ہے کہ قرآن کی متفق علیہ آیتیں چھ ہزار ہیں تو اس طرح جنت کے درجات بھی چھ ہزار ہوں گے۔

Hadith 2575

Volume 2

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The one who has nothing of the Qur’an in his heart is like a ruined house." [Narrated by Tirmidhi and al-Darimi] Tirmidhi said: "This is a Sahih Hadith."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٥ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنه)، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الْخَرِبِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالدَّارِميُّ. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثُ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3048
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں کچھ بھی قرآن نہ ہو (یعنی اس کو کچھ بھی قرآن یاد نہ ہو) تو اس کی مثال ویران گھر کی طرح ہے (اس لئے کہ دلوں کی آبادی اور باطن کی زینت ایمان باللہ اور تلاوت قرآن ہے)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2913 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2135 (unverified) 92% confidence

Mishkat (candidate) 2135

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ اس حدیث شریف میں مذکور ہے ”جس کے دل میں کچھ بھی قرآن نہ“، ہو تو اس سے مراد قرآن کا صرف وہ حصہ نہیں جو نمازوں میں پڑھا جاتا ہو بلکہ اس کے سوا مسلمان کو کچھ نہ کچھ قرآن یاد کرنا چاہئے اگر یاد نہ کر سکتا ہو تو کم از کم ناظرہ ہی پڑھتا رہے۔

Hadith 2576

Volume 2

English

Abu Sa’id (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "The Lord, Blessed and Exalted, says: ‘Whoever is preoccupied with the Qur’an from remembering Me and asking Me, I will give him better than what I give to those who ask. And the superiority of Allah’s speech over all other speech is like the superiority of Allah over His creation.’" [Narrated by Tirmidhi, al-Darimi, and al-Bayhaqi in Shu’ab al-Iman] Tirmidhi said: "This is a Hasan Gharib Hadith."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٦ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ : يَقُولُ الرَّبُّ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ شَغَلَهُ الْقُرْآنُ عَنْ ذِكْرِي وَمَسْأَلَتِي أَعْطَيْتُهُ أَفْضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ، وَفَضْلُ كَلَامِ اللهِ عَلَى سَائِرِ الْكَلَامِ كَفَضْلِاللهِ عَلَى خَلْقِهِ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ». وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3049
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ بزرگ اور برتر ارشاد فرماتے ہیں کہ جس شخص کو قرآن (کی تلاوت اور اس کے معانی میں تدبر اور اس کے احکام پر عمل کی مشغولیت) نے میرے ذکر اور مجھ سے دعا مانگنے سے باز رکھا تو میں ایسے شخص کو مانگنے والوں سے بہتر دوں گا۔ (یعنی جو شخص دوسرے اذکار و اوراد کو چھوڑ کر صرف قرآن مجید کو اپنا وظیفہ بنائے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو مرادیں اصحابہ! اوراد و اذکار سے بڑھ کر بر لائیں گے کیونکہ یہ اللہ کے کلام کے ساتھ مشغول ہے جو سارے اذکار و اوراد سے افضل ہے سچ ہے: ”كلام الملوك ملوك الكلام“ اور اللہ کے کلام کی فضیلت دوسرے کلاموں پر ایسی ہے جیسے اللہ عزوجل کی بزرگی اس کی تمام مخلوق پر۔ اس کی روایت ”ترمذی“ اور ”دارمی“ نے کی ہے اور ”بیہقی“ نے ”شعب الایمان“ میں اس کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2926 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2136 (unverified) 93% confidence

Mishkat (candidate) 2136

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2577

Volume 2

English

Ibn Mas’ud (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites a letter from the Book of Allah will receive one good deed, and each good deed is multiplied tenfold. I do not say that ‘Alif Lam Mim’ is one letter; rather, Alif is a letter, Lam is a letter, and Mim is a letter." [Narrated by Tirmidhi and al-Darimi] Tirmidhi said: "This is a Hasan Sahih Gharib Hadith in its chain."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٧ - وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ كِتَابِ اللهِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشَرِ أَمْثَالِهَا . لَا أَقُولُ: المَ حَرْفٌ، أَلِفٌ حَرْفٌ، وَلَامٌ حَرْفٌ، وَمِيمٌ حَرْفٌ. رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ. وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيْثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ إِسْنَادًا.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3050
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص اللہ کی کتاب یعنی قرآن کا ایک حرف بھی پڑھا تو اس کے لئے ہر حرف کے بدلہ ایک نیکی لکھی جائے گی اور ہر نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ملتا ہے (زیادہ کی کوئی حد نہیں) میں نہیں کہتا کہ الٓمٓ ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے میم ایک حرف ہے (اس طرح الٓمٓ پڑھنے سے کم از کم تیس نیکیاں ملتی ہیں)۔ اس حدیث کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2910 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2137 (unverified) 96% confidence

Mishkat (candidate) 2137

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2578

Volume 2

English

Al-Harith al-A’war narrated: "I passed by the mosque, and people were engaged in idle talk. I went to Ali (may Allah be pleased with him) and informed him. He said, ‘Have they really done so?’ I said, ‘Yes.’ He said, ‘I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: "There will indeed be trials." I asked, ‘What is the way out of them, O Messenger of Allah?’ He said: ‘The Book of Allah. In it is the news of what came before you, the information of what will come after you, and the judgment between you. It is decisive, not frivolous. Whoever abandons it out of arrogance, Allah will break him, and whoever seeks guidance elsewhere, Allah will misguide him. It is Allah’s strong rope, the Wise Reminder, and the Straight Path. It is that by which desires are not swayed, tongues are not confused, scholars are never satiated, it does not wear out despite repetition, and its wonders never cease. It is that which the jinn did not hesitate to declare when they heard it: ‘Indeed, we have heard an amazing Qur’an that guides to righteousness, so we have believed in it.’ (Al-Jinn: 1-2) Whoever speaks by it speaks the truth, whoever acts by it is rewarded, whoever judges by it is just, and whoever calls to it is guided to the Straight Path.’"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٨ - وَعَنِ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ قَالَ: مَرَرْتُ فِي الْمَسْجِدِ، فَإِذَا النَّاسُ يَخُوضُوْنَ فِي الْأَحَادِيثِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَلَى الله فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَوَ قَدْ فَعَلُوْهَا؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَمَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ يَقُولُ: «أَلَا إِنَّهَا سَتَكُوْنُ فِتْنَةٌ، فَقُلْتُ: مَا الْمَخْرَجُ مِنْهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «كِتَابُ اللهِ، فِيهِ نَبَأُ مَا قَبْلَكُمْ وَخَبَرُ مَا بَعْدَكُمْ، وَحُكْمُ مَا بَيْنَكُمْ،وَهُوَ الْفَضْلُ لَيْسَ بِالْهَزْلِ، مَنْ تَرَكَهُ مِنْ جَبَّارٍ قَصَمَهُ اللهُ، وَمَنْ ابْتَغَى الْهُدَى فِي غَيْرِهِ أَضَلَّهُ اللهُ، وَهُوَ حَبْلُ اللهِ الْمَتِينُ، وَهُوَ الذَّكْرُ الْحَكِيمُ، وَهُوَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمُ، هُوَ الَّذِي لَا تَزِيعُ بِهِ الْأَهْوَاءُ، وَلَا تَلْتَبِسُ بِهِ الْأَلْسِنَةُ، وَلَا يَشْبَعُ مِنْهُ الْعُلَمَاءُ، وَلَا يَخْلَقُ عَلَى كَثْرَةِ الرَّدِّ، وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، هُوَ الَّذِي لَمْ تَنْتَهِ الْجِنُّ إِذْ سَمِعَتْهُ حَتَّى قَالُوا: ﴿إِنَّا سَمِعْنَا قُرْءَانًا عَجَبًا يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ﴾ (الجن : ١) مَنْ قَالَ بِهِ صَدَقَ، وَمَنْ عَمِلَ بِهِ أُجِرَ، وَمَنْ حَكَمَ بِهِ عَدَلَ، وَمَنْ دَعَا إِلَيْهِ هَدَى إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ وَالدَّارِمِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3051
حضرت حارث اعور رحمہ اللہ سے جو مشہور تابعی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ کوفہ کی ایک مسجد میں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ لوگ (تلاوت قرآن کی بجائے) بے فائدہ باتوں (غیر ضروری مباحثوں) میں مشغول ہیں۔ یہ دیکھ کر میں امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور آپ کو اس کی اطلاع دی۔ (یہ سن کر) آپ نے فرمایا: کیا لوگ (قرآن کی تلاوت کو چھوڑ کر مسجد میں) ایسی خرافات میں مشغول ہوگئے ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں (یا امیر المومنین) پھر حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ خبردار ہو جاؤ! کہ عنقریب ایک فتنہ برپا ہونے والا ہے۔ یہ سن کر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! اس فتنہ سے محفوظ رہنے کی کیا صورت ہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی کتاب یعنی قرآن کے احکام پر عمل کرنا (ہی اس فتنے سے محفوظ رہنا ہے) اس میں تم سے پہلے (کی امتوں) کے تذکرے ہیں اور تمہارے بعد (قیامت تک پیش آنے والے واقعات) کا بیان ہے اور تمہارے مسائل (حلال و حرام وغیرہ) کا ذکر ہے اور وہ یعنی قرآن ہی (حق و باطل کے درمیان) فیصلہ کرنے والا ہے اور اس میں کوئی بات ناشائستہ نہیں۔ جس سرکش نے اسے چھوڑا اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کردے گا۔ اور جس نے ہدایت کو قرآن کے سوا (ان کتابوں اور علوم میں) تلاش کیا (جو کتاب اللہ سے ماخوذ نہیں) تو اللہ تعالیٰ اس کو (ہدایت کے راستے سے) گمراہ کر دیتے ہیں اور قرآن ہی اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی ہے اور قرآن ہی حکمت سے بھری ہوئی نصیحت ہے اور قرآن ہی سیدھا راستہ ہے اور قرآن ہی ایسی کتاب ہے جس کی اتباع کرنے والے کو خواہشات نفس گمراہ نہیں کرسکتیں اور قرآن ایسا کلام ہے جس میں کوئی دوسرا کلام خلط ملط نہیں ہوسکتا۔ (اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے) اور علماء اس سے سیر نہیں ہوتے اور بار بار دوہرانے کے باوجود یہ پرانا نہیں ہوتا (یعنی اس کی تلاوت کی لذت اور شیرینی کم نہیں ہوتی (بلکہ ہر وقت اس کی لذت بڑھتی ہی جاتی ہے) اور اس کے عجائب و غرائب ختم نہیں ہوتے۔ ہاں یہ وہی کلام ہے جس کو سنتے ہی (ایک لمحہ بھی توقف کئے بغیر اجنہ نے یہ کہا: ”إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا . يَهْدِيْ اِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهٖ“ (سورۃ جن، آیت نمبر: 2:1) ہم نے قرآن کو سنا جو عجیب و غریب کلام ہے اور جو ہدایت کا راستہ دکھاتا ہے تو ہم اس پر ایمان لائے جس نے قرآن کے مطابق؟ سچ کہا اور جس نے اس پر عمل کیا اجر پایا اور جس نے اس کے مطابق فیصلہ کیا انصاف کیا جس نے (لوگوں کو) قرآن کی طرف بلایا اس کو سیدھی راہ کی ہدایت ملی۔ اس کی روایت ترمذی اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2906 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2138 (unverified) 95% confidence

Mishkat (candidate) 2138

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”جس نے قرآن کے سوا کسی اور چیز میں ہدایت تلاش کی تو اللہ تعالیٰ اس کو گمراہ کر دیں گے‘‘۔ اس ارشاد سے بظاہر یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے صرف قرآن ہی کافی ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ شیخ ابو اسحاق کازرونی رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا گیا کہ گمراہ فرقے جیسے خوارج، قدریہ، جبریہ وغیرہ سنت کی طرح قدریہ قرآن ہی سے استدلال کرتے ہیں؟ اس پر علامہ کازرونی نے قرآن کی آیت پڑھی: ’’يُضِلُّ بِهِ كَثِيرًا وَيَهْدِي بِهِ كَثِيرًا‘‘۔ (سورۃ بقرہ، آیت نمبر:26) (اللہ تعالیٰ قرآن ہی سے اکثر کو گمراہ کرتے ہیں اور قرآن ہی سے اکثر کو ہدایت دیتے ہیں) اور علامہ ممدوح نے یہ بھی فرمایا کہ گمراہ فرقے کامل طور پر قرآن سے استدلال نہیں کرتے کیونکہ انھوں نے ان حدیثوں کو چھوڑ دیا جو حقیقت میں مقاصد قرآنی کی تفسیر ہیں حالانکہ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ، وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا‘‘ (سورۃ حشر، آیت نمبر:7) (رسول جو کچھ تم کو دیں تم اس کو لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو باز رکھیں تم اس سے باز رہو)۔ تو ان فرقوں نے قرآن کی معرفت کا حق ادا نہیں کیا؟ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات نہ مانی جو قرآن کی معرفت میں کامل ہیں جس کے نتیجہ میں انھوں نے احادیث کا انکار کیا۔ چنانچہ امام الصوفیہ حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے جو قرآن حفظ نہ کرے اور حدیث نبوی نہ لکھے تو وہ اتباع کے لائق نہیں ہے اور جو ہمارے طریقہ یعنی تصوف میں بغیر علم کے داخل ہوا اور اپنی جہالت پر اڑا رہا تو وہ شیطان کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائے گا کیونکہ ہمارا طریقہ کتاب اور سنت کے ساتھ مقید ہے۔ مرقات کی عبارت یہاں ختم ہوئی۔ قرآن کے ساتھ احادیث نبوی مسائل کے استنباط اور استدلال کے لئے حجت اور ماخذ قرار دینے کے لئے محدثین کرام نے اپنی اپنی کتابوں میں متعدد حدیثیں روایت کی ہیں جن میں سے یہاں بطور مثال کے ابوداؤد کی ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس کو حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کوئی شخص اپنے تخت پر ٹیک لگائے ہوئے یہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز حرام کی ہے وہ تو صرف قرآن ہی میں موجود ہے (اب حدیث کی کیا ضرورت ہے) سن رکھو خدا کی قسم میں نے جن جن چیزوں (کے کرنے کا) کا حکم دیا ہے اور نصیحت کی ہے اور جن چیزوں سے منع کیا ہے (یعنی میری احادیث) وہ بھی (اپنی نوعیت میں) قرآن کی طرح ہیں بلکہ (بعض صورتوں میں جہاں قرآن مجمل ہو یا ساکت ہو قرآن سے زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ اعلی آخر الحدیث۔ اس سے ثابت ہوا کہ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرنے والا منکر اور کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو انکار حدیث کے فتنے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Hadith 2579

Volume 2

English

Mu’adh al-Juhani (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites the Qur’an and acts upon it, his parents will be crowned on the Day of Judgment with a light brighter than the sun in this world’s houses. If it were among you, what would you think of the one who acts upon this?"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٧٩ - وَعَنْ مُعَاذِ الْجُهَنِي (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَعَمِلَ بِمَا فِيهِ أُلْبِسَ وَالِدَاهُ تَاجًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ضَوْءُهُ أَحْسَنُ مِنْ ضَوْءِ الشَّمْسِ فِي بُيُوتِ الدُّنْيَا، لَوْ كَانَتْ فِيْكُمْ فَمَا ظَنُّكُمْ بِالَّذِي عَمِلَ بِهَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3052
معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے جو ارشاد فرمایا ہے کہ ہے جو شخص قرآن پڑھے اور اس کے احکام پر عمل کرے تو قیامت کے روز اس کے ماں باپ کو تاج پہنایا جائے گا۔ جس کی روشنی آفتاب کی روشنی سے بہتر ہوگی۔ جب کہ یہ فرض کر لیا جائے کہ آفتاب تمہارے گھروں میں روشن ہو۔ پھر بھی تم سمجھ لو کہ (جب ماں باپ کا یہ مرتبہ ہوگا) تو اس شخص کا کیا مرتبہ ہوگا جس نے قرآن پر عمل کیا۔ اس کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 1453 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2139 (unverified) 92% confidence

Mishkat (candidate) 2139

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے ”مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ“ جو قرآن پڑھے۔ اس بارے میں صاحب مرقات نے ابن حجر کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہاں قَرَأَ الْقُرْآنَ سے مراد حفظ قرآن ہے اس سے حافظ قرآن کی فضیلت معلوم ہوتی ہے۔

Hadith 2580

Volume 2

English

Uqbah ibn Amir (may Allah be pleased with him) narrated: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘If the Qur’an were placed in a leather cover and thrown into the fire, it would not burn.’"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٠ - وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ (رضي الله عنه) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِﷺ يَقُوْلُ: «لَوْ جُعِلَ الْقُرْآنُ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ مَا احْتَرَقَ». رَوَاهُ الدَّارِميُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3053
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر قرآن کو چمڑے کے اندر بند کیا جائے اور آگ میں ڈالا جائے تو نہیں جلے گا۔ چمڑے سے مراد جسم انسانی ہے اور آگ سے مراد دوزخ کی آگ
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2134 (unverified) 80% confidence
  • Candidate: Sunan al-Darimi 3357 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2134

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ہے مطلب یہ ہے کہ جس جسم میں قرآن رہے گا اس کو دوزخ کی آگ نہیں جلائے گی۔ (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے)۔ اس حدیث کی روایت دارمی نے کی ہے۔

Hadith 2581

Volume 2

English

Ali (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Whoever recites the Qur’an, memorizes it, permits what it permits, and forbids what it forbids, Allah will admit him to Paradise by it and grant him intercession for ten of his family members, all of whom were destined for the Fire."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨١ - وَعَنْ عَلِيٍّ(رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَنْ قَرَأُ الْقُرْآنَ فَاسْتَظْهَرَهُ، فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، أَدْخَلَهُ اللهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَشَفَعَهُ فِي عَشْرَةٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، كُلُّهُمْ قَدْ وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتَّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهِ وَالدَّارِميُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3054
امیر المومنین حضرت علیؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے قرآن پڑھا اور اس کو حفظ کرلیا اور اس کے حلال کو حلال سمجھا اور اس کے حرام کو حرام سمجھا اور اس کے مطابق عمل کرتا رہا تو اللہ تعالیٰ اس کو (اول وہلہ میں) جنت میں داخل کریں گے اور اس کے گھر کے ایسے دس آدمیوں کے بارے میں اس کی شفاعت قبول فرمائیں گے جن پر فسق وفجور کی وجہ سے دوزخ واجب ہوگی۔ اس کی روایت امام احمد اور ترمذی ابن ماجہ اور دارمی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2905 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sunan Ibn Majah 216 (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2582

Volume 2

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Recite the Qur’an with proper Arabic pronunciation, and follow its unique expressions—its unique expressions are its obligations and limits."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «أَعْرِبُوا الْقُرْآنَ وَاتَّبِعُوْا غَرَائِبَهُ، وَغَرَائِبُهُ فَرَائِضُهُ وَحُدُوْدُهُ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3055
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (اے علمائے امت) قرآن کے معانی (اس کے مطالب اس کے الفاظ کی ندرت اور اس کے اعراب کی توجیہات) کو بیان کیا کرو اور اس کے غرائب کی اتباع کرو اور قرآن کے غرائب (اس کے فرائض اور حدود ہیں) فرائض سے مراد قرآن کے اوامر ہیں جن کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اور حدود سے مراد نواہی ہیں جن کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔

Hadith 2583

Volume 2

English

Aisha (may Allah be pleased with her) narrated that the Prophet (ﷺ) said: "Reciting the Qur’an in prayer is better than reciting it outside of prayer, reciting it outside of prayer is better than glorifying (tasbeeh) and declaring Allah’s greatness (takbeer), glorification is better than charity, charity is better than fasting, and fasting is a shield from the Fire."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٣ - وَعَنْ عَائِشَةَ (رضي الله عنها) ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ: «قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ فِي غَيْرِ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ مِنَ التَّسْبِيحِ وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّسْبِيحُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّدَقَةِ، وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ مِنَ الصَّوْمِ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3056
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ قرآن کا نماز میں پڑھنا غیر نماز میں قرآن پڑھنے یعنی سادہ تلاوت کرنے سے افضل ہے یعنی زیادہ ثواب رکھتا ہے اور غیر نماز میں قرآن پڑھنا تسبیح (سبحان اللہ کہنا) اور تکبیر (اللہ اکبر کہنا) سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنا صدقہ سے بہتر ہے اس لئے کہ عبادت متعدی جس کا فائدہ غیر کو پہنچے اس عبادت سے افضل ہے جس کا فائدہ صرف کرنے والے کو پہنچے)۔ اور خیرات کرنا نفل روزہ رکھنے سے بہتر ہے۔ اور روزہ دوزخ کی آگ کے لئے سپر ڈھال ہے۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔

Hadith 2584

Volume 2

English

Uthman ibn Abdullah ibn Aws al-Thaqafi narrated from his grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "A man’s recitation of the Qur’an without looking at the Mus’haf is worth a thousand degrees, and his recitation while looking at the Mus’haf is doubled to two thousand degrees."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٤ - وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيَّ عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ : قِرَاءَةُ الرَّجُلِ الْقُرْآنَ فِي غَيْرِ الْمُصْحَفِ أَلْفُ دَرَجَةٍ، وَقِرَاءَتُهُ فِي الْمُصْحَفِ تَضْعُفُ عَلَى ذَلِكَ إِلَى أَلْفَيْ دَرَجَةٍ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3057
عثمان بن عبداللہ بن اوس ثقفی اپنے دادا حضرت اوس سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ آدمی کا قرآن کو دیکھے بغیر (اپنی یاد سے حفظ سے) پڑھنا ہزار درجہ ثواب رکھتا ہے اور قرآن کو دیکھ کر پڑھنے کا ثواب (زبانی پڑھنے کے ثواب سے) بڑھا کر دو ہزار درجہ تک دیا جاتا ہے۔ اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ قرآن کو دیکھ کر پڑھنے کا ثواب یاد سے قرآن پڑھنے سے زیادہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کو دیکھنا بھی عبادت ہے اور قرآن کو دیکھ کر پڑھنے میں قرآن کو اٹھاتے ہیں اور اس کو مس کرتے ہیں اور اس کے معانی میں تفکر کرتے ہیں ان وجوہ سے قرآن کو دیکھ کر پڑھنے کا ثواب بڑھا دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اکثر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن کو دیکھ کر پڑھتے تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ آپ کے بکثرت دیکھ کر قرآن پڑھنے سے دو قرآن مجید کے اوراق شکستہ ہو گئے ہیں۔ (مرقات اور اشعۃ اللمعات)

Hadith 2585

Volume 2

English

Ibn Umar (may Allah be pleased with them both) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "These hearts rust just as iron rusts when water touches it." It was asked, "O Messenger of Allah, what is their polish?" He said: "Frequent remembrance of death and recitation of the Qur’an."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٥ - وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ (رضي الله عنهما) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «إِنَّ هَذِهِ الْقُلُوْبَ تَصْدَأُ كَمَا يَصْدَأُ الْحَدِيدُ إِذَا أَصَابَهُ الْمَاءُ». قِيلَ : يَا رَسُوْلَ اللهِ، وَمَا جِلَاؤُهَا؟ قَالَ: «كَثْرَةُ ذِكْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَةِ الْقُرْآنِ». رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3058
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ دل یقیناً زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح لوہا پانی کے اثر سے زنگ آلود ہو جاتا ہے عرض کیا گیا: یا رسول اللہ ان کو (یعنی دلوں کو) روشن کرنے والی چیز کیا ہے تو ارشاد فرمایا: موت کو بکثرت یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت، (اس سے دل روشن ہوتے ہیں)۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2168 (unverified) 92% confidence

Mishkat (candidate) 2168

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2586

Volume 2

English

Abu Sa’id ibn al-Mu’alla (may Allah be pleased with him) narrated: "I was praying in the mosque when the Messenger of Allah (ﷺ) called me, but I did not respond. Later, I came to him and said, ‘O Messenger of Allah, I was praying.’ He said: ‘Did Allah not say: "Respond to Allah and the Messenger when he calls you" (Al-Anfal: 24)? Then he said: ‘Shall I not teach you the greatest Surah in the Qur’an before you leave the mosque?’ He took my hand, and when we were about to leave, I said, ‘O Messenger of Allah, you said you would teach me the greatest Surah in the Qur’an.’ He said: "Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin (Surah Al-Fatihah), it is the Seven Oft-Repeated Verses and the Great Qur’an which I have been given.""

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٦ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى (رضي الله عنه) قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي رَسُولُ اللهِ ﷺ فَلَمْ أُجِبْهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي، قَالَ: «أَلَمْ يَقُلِ اللَّهُ: ﴿أَسْتَجِيبُوا1 لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ ﴾(الأنفال: ٢٤) ثُمَّ قَالَ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ أَعْظَمَ سُوْرَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَلَمَّا أَرَدْنَا أَنْ نَخْرُجَ قُلْتُ لَهُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، إِنَّكَ قُلْتَ: لَأُعَلَّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُوْرَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ. قَالَ: 2 ﴿الْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3059
ابو سعید بن المعلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (مجھے آواز دے کر) بلایا میں نے جواب نہیں دیا اس لئے کہ میں نماز میں مشغول تھا، جب نماز سے فارغ ہوا تو پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور (بطور عذر کے) عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں نماز پڑھ رہا تھا اس لئے جواب نہ دے سکا یہ سن کر حضور نے ارشاد فرمایا کہ: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نہیں دیا ہے ”اِسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ“ (سورۂ انفال، آیت نمبر:23) تم اللہ اور اس کے رسول کے کہنے کو بجا لایا کرو (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خصوصیات میں شامل ہے کہ آپ کے بلاوے پر حالت نماز میں بھی نمازی آپ کے حکم کی تعمیل کرے۔ (طحاوی) جب کہ رسول تمہیں بلائیں۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تم کو قرآن کی سب سے بڑھ کر عظمت والی سورت نہ سکھلاؤں (قبل اس کے کہ تم مسجد سے باہر جاؤ) یہ کہہ کر حضور نے میرا ہاتھ پکڑ لیا (کچھ دیر بعد) جب ہم مسجد سے نکلنے کا ارادہ کئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ آپ نے فرمایا تھا کہ تم کو قرآن کی سب سے بڑھ کر عظمت والی سورت سکھلاؤں گا تو آپ نے فرمایا (ہاں) وہ سورۃ الحمد لله رب العالمين (یعنی سورۂ فاتحہ ہے) اس میں سات آیتیں ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں اور یہی قرآن عظیم ہے۔ جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 4474 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (5)

Note 1

Respond to Allah and the Messenger...

(1) The statement: "Respond to Allah and the Messenger..." Al-Hafiz said in Al-Fath: "The scholars ‘Abdul Wahhab and Abu al-Walid from the Malikis held that responding to the Prophet (ﷺ) during prayer is obligatory, and neglecting it is sinful—a ruling specific to the Prophet (ﷺ). The Shafi’is also hold this view, though they differ on whether the prayer becomes invalid or not." I say: As for the Hanafis, al-Tahtawi said in Hashiyat Maraqi al-Falah: "It is obligatory for the one praying to respond to the Prophet (ﷺ), and there is no disagreement that the prayer becomes invalid if he does not, as mentioned by Badr in his Tafsir of Surah Al-Anfal."

Note 2

Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin

(2) The statement: "Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin" indicates that the Basmalah is not part of Surah Al-Fatihah, otherwise he would have said, "Bismillahir-Rahmanir-Rahim, Alhamdulillahi Rabbil-‘Alamin."

Note 1

قوله

(۱) قوله: استجيبوا إلخ: قال الحافظ في «الفتح»: والذي تأوّل القاضيان عبد الوهاب وأبو الوليد أن إجابة النبي ﷺ في الصلاة فرض، يعصي المرء بتركه، وإنه حكم يختص بالنبي ﷺ ، وما جنح إليه القاضيان من المالكية هو قول الشافعية على اختلاف عندهم بعد قولهم بوجوب الإجابة، هل تبطل الصلاة أم لا؟ انتهى. قلت: وأما عند الحنفية فقال الطحطاوي في حاشية مراقي الفلاح: يفترض على المصلي إجابة النبي ﷺ لا خلاف في بطلانها حينئذ، كذا ذكره البدر في تفسير سورة الأنفال. قاله في بذل المجهود».

Note 2

قوله

(۲) قوله : قال الحمد لله رب العالمين بدل على أن التسمية ليست بجزء من سورة الفاتحة، وإلا قال: بسم الله الرحمن الرحيم الحمد لله رب العالمين.

Note 1

(ف 1): اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ فاتحہ کی ابتداء ”الحمد لله رب العالمين “ سے فرمائی ہے اور ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سے سورہ فاتحہ کی ابتدا نہیں کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سورہ فاتحہ کا جزو نہیں ہے بلکہ ایک مستقل آیت ہے۔ (ف 2): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورہ فاتحہ کو اعظم سورة من القرآن: قرآن شریف کی سب سے عظمت والی سورت ارشاد فرمایا ہے) اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ قرآن شریف کی اس سورت میں جو جامعیت ہے وہ کسی اور سورت میں نہیں ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء سے اس کی ابتداء کی گئی ہے پھر الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ میں صالحین کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ کے وعدہ کی طرف اشارہ ہے اس کے بعد ”مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ“ میں نافرمان بندوں کے لئے آخرت میں سزا اور ان کے لئے وعید کا ذکر ہے پھر عبادت و استعانت کا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے مخصوص ہونے کا بیان ہے اس کے بعد بندوں کے لئے سوال کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ ان کا بہترین سوال ہدایت کی طلب ہے۔ اور ان لوگوں کے راستہ کی طلب ہے جن پر انعام ہو۔ جیسے انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین اور آخر میں گمراہوں اور مغضوبین کے راستہ اور پیروی سے نجات کی طلب کا بھی بیان ہے اس طرح سے سورہ فاتحہ میں سارے سالکین کے سارے معاملات اور منازل کا ذکر ہے۔ اور حدیث شریف میں اس سورت کو قرآن ”عظیم“ جو فرمایا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مطالب پورے قرآن میں مفصل مذکور ہیں ان کا بیان سورہ فاتحہ میں مجمل موجود ہے۔

Hadith 2587

Volume 2

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) asked Ubayy ibn Ka’b, "How do you recite in prayer?" He recited Umm al-Qur’an (Al-Fatihah). The Messenger of Allah (ﷺ) said: "By the One in Whose Hand is my soul, nothing like it has been revealed in the Torah, the Gospel, the Zabur, or the Qur’an. It is the Seven Oft-Repeated Verses and the Great Qur’an which I have been given." [Narrated by Tirmidhi] Al-Darimi narrated it as a statement of the Prophet (ﷺ) without mentioning Ubayy ibn Ka’b. Tirmidhi said: "This Hadith is Hasan Sahih."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٧ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْقُرْآنِ مِثْلُهَا، وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ. وَرَوَى الدَّارِمِيُّ مِنْ قَوْلِهِ مَا أُنْزِلَتْ وَلَمْ يَذْكُرْ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ، وَقَالَ التَّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثُ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3060Noor 3061
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ تم نماز میں (قرآن) کس طرح پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے ام القرآن یعنی سورہ فاتحہ پڑھ کر سنایا تو یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قسم ہے ذات باری تعالیٰ کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اس سورت کے مثل نہ تو کوئی سورت نازل ہوئی اور نہ تو انجیل میں نہ تو زبور میں اور نہ قرآن (کے بقیہ حصہ) میں اور یہ یعنی سورۃ فاتحہ سات آیتیں ہیں جو نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں تو اور یہی یعنی سورۃ فاتحہ قرآن عظیم ہے۔ جو مجھے عطا کیا گیا۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔ اور دارمی نے بھی اس کی اسی طرح روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 2875 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2588

Volume 2

English

Abd al-Malik ibn Umayr reported in a mursal narration that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "In the Opening of the Book (Al-Fatihah) is a cure for every disease."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٨ - وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ مُرْسَلًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «فِي فَاتِحَةِ الْكِتَابِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءِ. رَوَاهُ الدَّرِامِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3062
عبدالملک بن عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (جو مشہور تابعی اور کوفہ کے قاضی تھے مرسلاً روایت ہے) کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاتحہ الکتاب یعنی سورۃ فاتحہ کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے کہ سورۃ فاتحہ (کے پڑھنے کے بارے میں لکھ کر لگانے اور لکھ کر پینے) میں ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔ اس کی روایت دارمی نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2170 (unverified) 83% confidence
  • Candidate: Sunan al-Darimi 3370 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 2170

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2589

Volume 2

English

Abu Sa’id al-Khudri (may Allah be pleased with him) narrated that Usayd ibn Hudayr said: "While he was reciting Surah Al-Baqarah at night with his horse tied beside him, the horse suddenly became agitated. He stopped reciting, and it calmed down. When he resumed, it became restless again. He stopped, and it settled. When he recited again, the horse moved violently, so he stopped. His son Yahya was nearby, and he feared it might harm him. When he moved the child away, he looked up and saw something like a canopy with lamps. In the morning, he told the Prophet (ﷺ), who said: ‘Recite, O Ibn Hudayr! Recite, O Ibn Hudayr!’ He said, ‘O Messenger of Allah, I feared the horse might step on Yahya, so I turned to him and saw a canopy with lamps.’ The Prophet (ﷺ) said: ‘Those were angels drawing near at your recitation. Had you continued, people would have seen them in the morning, clearly visible.’" [Agreed upon, with Bukhari’s wording] In Muslim’s version: "I ascended into the sky..."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٨٩ - وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ (رضي الله عنه) أَنَّ أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا هُوَ يَقْرَأُ مِنَ اللَّيْلِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَفَرَسُهُ مَرْبُوْطَةٌ عِنْدَهُ إِذَا جَالَتْ الفَرَسُ، فَسَكَتَ فَسَكَنَتْ، فَقَرَأَ فَجَالَتْ، فَسَكَتَ وَسَكَنَتْ، ثُمَّ قَرَأَ فَجَالَتِ الْفَرَسُ فَانْصَرَفَ وَكَانَ ابْنُهُ يَحْيَى قَرِيبًا مِنْهَا فَأَشْفَقَ أَنْ تُصِيبَهُ وَلَمَّا أَخَّرَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ حَدَّثَ النَّبِيَّ ، فَقَالَ: «اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ، اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرٍ». قَالَ: فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ، أَنْ تَطَأَ يَحْيَى، وَكَانَ مِنْهَا قَرِيبًا، فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ، وَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ، فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّةِ فِيهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ، فَخَرَجَتْ حَتَّى لَا أَرَاهَا. قَالَ: وَتَدْرِي مَا ذَاكَ؟ قَالَ: لَا ، قَالَ: تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ، دَنَتْ لِصَوْتِكَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحْتَ يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا، لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَاللَّفْظُ لِلْبُخَارِيِّ. وَفِي مُسْلِمٍ»: «عَرَجْتُ فِي الْجُوِّ بَدْلَ فَخَرَجْتُ عَلَى صِيْغَةِ الْمُتَكَلِّمِ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor grouped label
29/3064۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا اُسید بن حُضیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان سے کیا کہ ایک دفعہ وہ رات میں سورہ بقرہ تلاوت کر رہے تھے کہ اچانک ان کا گھوڑا جو ان سے قریب ہی بندھا ہوا تھا اچھلنے اور کودنے لگا تو حضرت اُسید نے قرآن پڑھنا روک دیا تو گھوڑا بھی خاموش ہو گیا جب انہوں نے پھر تلاوت شروع کی تو گھوڑا پھر اچھلنے بدکنے لگا یہ دیکھ کر انہوں نے تلاوت روک دی تو ادھر گھوڑا بھی خاموش کھڑا ہو گیا۔ حضرت اسید تیسری بار پھر قرآن پڑھنے لگے تو گھوڑا پھر بدکنا شروع کیا۔ یہ دیکھ کر حضرت اُسید اس خوف سے خاموش ہو گئے۔ ان کا بچہ بھی گھوڑے سے قریب ہی سو رہا تھا کہیں گھوڑا اس کو زخمی نہ کر دے جب حضرت اُسید نے اپنے بچہ کو سلا دیا تو اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ابر کی مانند کوئی چیز سایہ فگن ہے جس میں چراغوں کی طرح کچھ چیزیں روشن ہیں جب صبح ہوئی تو حضرت اسید نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر (یہ واقعہ) عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابن حضیر کاش تم پڑھتے ہی رہتے۔ اے ابن حضیر کاش تم قرآن پڑھتے ہی رہتے یہ سن کر حضرت اسید نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! میں ڈر گیا تھا کہ تلاوت کو جاری رکھنے کی صورت میں کہیں گھوڑا میرے بچے یحییٰ کو نہ روند ڈالے جو اس سے قریب ہی سو رہا تھا پس میں قرآن کی تلاوت کو روک کر بچے کے پاس گیا اور آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی چیز ابر کی طرح سایہ فگن ہے جس میں چراغوں کے مانند کچھ چیزیں روشن ہیں۔ پھر میں باہر نکلا تو دیکھا کہ کچھ بھی نہ تھا حضور نے ان سے پوچھا کہ تم جانتے ہو کہ وہ کیا تھا۔ میں نے عرض کیا: نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! تو حضور نے فرمایا سنو وہ فرشتے تھے (جو لطیف اور نورانی اجسام کی شکل میں) تمہاری قرأت سننے کے لئے آئے تھے اگر تم اپنی قرأت جاری رکھتے تو صبح لوگ فرشتوں کو اس طرح دیکھ لیتے تو وہ یعنی فرشتے ان سے پوشیدہ نہ رہتے یعنی لوگ فرشتوں کو برملا دیکھ لیتے)۔ اس کی روایت متفقہ طور پر بخاری اور مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5018 (unverified) 98% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 796a (unverified) 95% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2590

Volume 2

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "Do not turn your houses into graveyards. Indeed, Satan flees from the house in which Surah Al-Baqarah is recited."

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٩٠ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ: «لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ، إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنَ الْبَيْتِ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3065
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اپنے گھروں کو مقبروں کی طرح نہ بناؤ۔ یعنی گھروں میں مردوں کی طرح بے عمل نہ رہا کرو بلکہ گھروں میں تلاوت قرآن، نفل عبادات اور اذکار وغیرہ کیا کرو کیونکہ شیطان اس گھر سے نکل جاتا ہے۔ جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 780 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2591

Volume 2

English

Ubayy ibn Ka’b (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: "O Abu al-Mundhir, do you know which verse in the Book of Allah is the greatest with you?" He said, "Allah and His Messenger know best." The Prophet (ﷺ) repeated the question, and Ubayy replied: "Allahu la ilaha illa Huwa al-Hayy al-Qayyum (Ayat al-Kursi)." The Prophet (ﷺ) struck his chest and said: "By Allah, may knowledge be pleasant for you, O Abu al-Mundhir!"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٩١ - وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَتَدْرِي أَيُّآيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَعَكَ أَعْظَمُ ؟1. قَالَ: قُلْتُ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: «يَا أَبَا الْمُنْذِرِ، أَتَدْرِي أَيُّ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ مَعَكَ أَعْظَمُ؟» قَالَ: قُلْتُ: اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ: «وَاللهِ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ». رَوَاهُ مُسْلِمُ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3066
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا: اے ابوالمنذر (یہ حضرت ابی بن کعب کی کنیت ہے) تمہارے خیال میں اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن کی کون سی آیت سب سے بڑھ کر فضیلت والی ہے؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں۔ حضور نے دوبارہ پھر فرمایا: اے ابوالمنذر، اے ابوالمنذر! قرآن کی کون سی آیت تمہارے خیال میں افضل ہے؟ اب میں نے عرض کیا: ”اَللّٰهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ“ (یعنی پوری آیہ الکرسی) حضرت ابی بن کعب کہتے ہیں کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شفقت سے اپنا دست مبارک میرے سینہ پر مارا اور ارشاد فرمایا: اے ابوالمنذر تم کو تمہارا یہ علم مبارک ہو۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 810 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 2122 (unverified) 92% confidence

Mishkat (candidate) 2122

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The greatest...

(1) The statement: "The greatest..." It is mentioned in Al-‘Alamgiriyyah: "Some Surahs and verses are superior, like Ayat al-Kursi, in that their recitation carries greater reward and awakens the heart. However, it is best not to prefer some parts of the Qur’an over others at all—this is the preferred view."

Note 1

قوله

(۱) قوله : أعظم وقال في العالمگيرية: يفضل بعض السور والآيات كآية الكرسي ونحوها، ومعنى الأفضلية أن ثواب قراءته كثير وقليل بأنه للقلب أيقظ، وهذا أقرب إلى الصواب، وبهذا المعنى يقال: إن القرآن أفضل من سائر الكتب المنزلة، والأفضل أن لا يفضل بعض القرآن على بعض أصلا، وهو المختار . كذا في جواهر الأخلاطي».

Note 1

ف: فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ قرآن کی بعض سورتوں کو دوسری سورتوں پر اور بعض آیتوں کو دوسری آیتوں پر فضیلت ہے۔ جیسے آیہ الکرسی وغیرہ۔ اور افضل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ان کے پڑھنے کا ثواب زیادہ ملتا ہے اور افضل ہونے کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ایسی سورتیں اور آیتیں اپنے معنی اور مضامین کے اعتبار سے دل کو زائد متنبہ کرنے والی ہیں۔ اور فضیلت کا یہی مفہوم زیادہ قرین صواب ہے۔ یہ جواہر الاخلاطی میں مذکور ہے۔ اس بارے میں دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یوں تو پورا قرآن کلام اللہ کی حیثیت سے مساوی مرتبہ کا حامل ہے۔ اس لیے اس کے کسی جزو کو کسی جزو پر فضیلت ہرگز نہ دی جائے اور یہی مسلک مختار اور مفتی بہ ہے۔

Hadith 2592

Volume 2

English

Abu Huraira (may Allah be pleased with him) narrated: "The Messenger of Allah (ﷺ) entrusted me with guarding the Ramadan charity. A man came and began taking handfuls of food, so I seized him and said, ‘I will take you to the Messenger of Allah!’ He said, ‘I am needy, with a family in severe hardship.’ I released him. The next morning, the Prophet (ﷺ) asked, ‘What did your prisoner do last night?’ I explained, and he said, ‘He lied to you and will return.’ Knowing he would return as the Prophet (ﷺ) predicted, I caught him again. He pleaded, ‘Release me, I will not return,’ but I seized him a third time. He said, ‘Let me teach you words that will benefit you: Recite Ayat al-Kursi before sleeping, and you will have a protector from Allah, and no Satan will come near you till morning.’ I released him. The Prophet (ﷺ) said, ‘He told you the truth though he is a liar. Do you know whom you were speaking to for three nights? That was a Satan.’"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٩٢ - وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ (رضي الله عنه) قَالَ: وَكَلَنِي رَسُولُ اللهِ ﷺ بِحِفْظِ زَكَاةِ رَمَضَانَ، فَأَتَانِي آتٍ، فَجَعَلَ يَحْتُو مِنَ الطَّعَامِ فَأَخَذْتُهُ، وَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ، قَالَ: إِنِّي مُحْتَاجُ، وَعَلَيَّ عِيَالٌ، وَلِيْ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ. قَالَ: فَخَلَّيْتُ عَنْهُ، فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللهِ، شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا، فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ». فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُولِ اللهِ : «إِنَّهُ سَيَعُودُ. فَرَصَدْتُهُ، فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهُ، فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ﷺ قَالَ: دَعْنِي؛ فَإِنِّي مُحْتَاجُ، وَعَلَيَّ عِيَالُ، لَا أَعُودُ. فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ، فَأَصْبَحْتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِﷺ: «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ ؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ شَكَا حَاجَةً شَدِيدَةً وَعِيَالًا، فَرَحِمْتُهُ فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ. قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ قَدْ كَذَبَكَ وَسَيَعُودُ». فَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَعُودُ لِقَوْلِ رَسُوْلِ اللهِ : سَيَعُودُ. فَرَصَدْتُهُ، فَجَاءَ يَحْثُو مِنَ الطَّعَامِ، فَأَخَذْتُهُ فَقُلْتُ: لَأَرْفَعَنَّكَ إِلَى رَسُولِ اللهِ ، وَهَذَا آخِرُ ثَلَاثِ مَرَّاتٍ، أَنَّكَ تَزْعُمُ لَا تَعُودُ ثُمَّ تَعُودُ. قَالَ: دَعْنِي أُعَلِّمْكَ كَلِمَاتٍ يَنْفَعُكَ اللهُ بِهَا إِذَا أَوَيْتَ إِلَى إِلَى فِرَاشِكَ فَاقْرَأْ آيَةَ الْكُرْسِيِّ: ﴿اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ﴾ (البقرة: ٢٥٥) حَتَّى تَخْتِمَ الْآيَةَ، فَإِنَّكَ لَنْ يَزَالَ عَلَيْكَ مِنَ اللهِ حَافِظٌ، وَلَا يَقْرَبَنَّكَ شَيْطَانٌ حَتَّى تُصْبِحَ. فَخَلَّيْتُ سَبِيلَهُ فَأَصْبَحْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ ﷺ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ الْبَارِحَةَ؟» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ زَعَمَ أَنَّهُ يُعَلِّمُنِي كَلِمَاتٍ يَنْفَعُنِي اللهُ بِهَا. قَالَ: «أَمَا إِنَّهُ صَدَقَكَ وَهُوَ كَذُوبٌ، تَعْلَمُ مَنْ تُخَاطِبُ مُنْذُ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟» قَالَ: لَا. قَالَ: «ذَاكَ شَيْطَانٌ». رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3067
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے رمضان کی زکات یعنی صدقہ فطر کے غلہ کی حفاظت اور نگرانی پر مامور فرمایا۔ پس میرے پاس ایک شخص آیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے غلہ سمیٹنے لگا میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس سے کہا: میں ضرور تجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جاؤں گا، اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں محتاج ہوں اور صاحب اولاد ہوں جن کا نفقہ میرے ذمہ ہے اور میں سخت ضرورتمند ہوں۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے اس کو چھوڑ دیا اور جب صبح ہوئی تو (حضور کی خدمت میں حاضر ہوا) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے کچھ کہے بغیر خود ہی مجھ سے دریافت فرمایا: اے ابو ہریرہ! تمہارا رات والا قیدی کیا ہوا؟ میں نے کہا یا رسول اللہ اس نے اپنی سخت ضرورت اور عیال داری کی شکایت کی تو مجھ کو اس پر ترس آ گیا۔ اور میں نے اسے چھوڑ دیا (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یاد رکھو اس نے تم سے جھوٹ کہا ہے اور کل پھر آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے پر کہ وہ کل پھر آئے گا کہ چنانچہ میں اس کی تاک میں رہا۔ وہ پھر آیا اور دونوں ہاتھوں سے غلہ سمیٹنے لگا۔ میں نے اس کو پکڑ لیا اور کہا: میں تجھ کو ضرور آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر کروں گا اس نے پھر کہا مجھے چھوڑ دو۔ میں بہت محتاج ہوں اور بچوں کا سارا بوجھ میری گردن پر ہے میں اب پھر نہیں آؤں گا۔ مجھے اس پر پھر رحم آ گیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا اور جب صبح ہوئی اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ہریرہ تمہارا رات والا قیدی کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نے اپنی سخت ضرورت کی شکایت کی اور بچوں کی ضرورت کا بھی اظہار کیا تو مجھے اس پر رحم آ گیا اور میں نے اس کو چھوڑ دیا تو حضور نے فرمایا اس نے تم سے جھوٹ کہا وہ پھر آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمانے سے کہ وہ پھر آئے گا میں نے یقین کر لیا کہ وہ ضرور دوبارہ آئے گا چنانچہ میں اس کو پکڑنے کے لئے تاک میں رہا وہ پھر آیا اور غلہ سمیٹنے لگا میں اس کو پکڑ لیا اور کہا میں تجھ کو ضرور آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر کروں گا۔ اور یہ تین دفعہ میں آخری مرتبہ ہے کہ تو نے وعدہ کیا تھا کہ نہیں آؤں گا اور پھر آ گیا ہے۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دو میں تم کو چند کلمے ایسے سکھا دیتا ہوں جن کے ذریعہ سے اللہ تمہیں فائدہ دے گا۔ جب تم سونے کے لئے بستر پر جاؤ تو آیۃ الکرسی ”اللّٰهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ“ تا ختم آیت یعنی ”وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ“ تک پڑھ لیا کرو تو خدا کی طرف سے تمہارا ایک نگہبان یعنی ایک فرشتہ مقرر کیا جائے گا اور (اس کی برکت سے) صبح تک کوئی شیطان اور جن تمہاری ایذا رسانی کے لئے تمہارے قریب نہیں آئے گا تو میں نے اسے پھر چھوڑ دیا جب صبح ہوئی اور میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تمہارا قیدی کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ مجھے چند کلمات ایسے سکھا دئے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے فائدہ دیں گے (چنانچہ اس نے مجھے سوتے وقت یہ آیۃ الکرسی پڑھنے کی فضیلت بتائی) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے جو کچھ بتایا ہے سچ بتایا ہے آیۃ الکرسی کی وہی خاصیت ہے (اگرچہ کہ اور باتوں میں) وہ جھوٹا ہے۔ (ابو ہریرہ) کیا تم کو خبر ہے کہ تین راتوں سے تم کس سے مخاطب تھے؟ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ نہیں میں نہیں جانتا کہ وہ کون تھا۔ حضور نے فرمایا کہ: وہ شیطان تھا۔ (جو صدقات میں نقص پیدا کرنے اور خیر کے کاموں میں خلل ڈالنے کے لئے آیا کرتا ہے)۔ اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 2311 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 5010 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Hadith 2593

Volume 2

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with them both) narrated: "While Jibril was sitting with the Prophet (ﷺ), he heard a sound above him. He lifted his head and said, ‘This is a gate of heaven opened today, never opened before. An angel descended and said, "Rejoice in two lights given to you, never given to any prophet before: Al-Fatihah and the closing verses of Surah Al-Baqarah. You will not recite a single letter of them without being granted its reward."’"

العربية

Typed, pending editorial approval
٢٥٩٣ - وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنهما) قَالَ: بَيْنَمَا جِبْرِيلُ عَل قَاعِدُ عِنْدَ النَّبِيِّ ﷺ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: هَذَا بَابٌ مِنَ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ، لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكُ، فَقَالَ: هَذَا مَلَكُ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلُ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ، فَسَلَّمَ، وَقَالَ: أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيُّ قَبْلَكَ : فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ، لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 3068
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) حضرت جبرئیل علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ یکایک حضرت جبرئیل نے اوپر کی جانب سے ایک سخت آواز سنی تو انہوں نے آسمان کی طرف اپنے سر کو اٹھایا اور کہا: یہ آواز آسمان کے ایک دروازہ کے کھلنے کی تھی۔ اور آسمان کا یہ دروازہ آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا تھا اور اس دروازہ سے ایک فرشتہ اترا تو حضرت جبرئیل علیہ نے فرمایا: یہ فرشتہ جو زمین پر اترا ہے آج سے پہلے کبھی زمین پر نہیں اترا ہے۔ اس فرشتے نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آ کر سلام عرض کیا اور کہا: آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دو نور ایسے عطا کئے گئے ہیں جو آج سے پہلے کسی نبی کو عطا نہیں کئے گئے۔ ایک تو فاتحہ الکتاب یعنی سورۂ فاتحہ ہے اور دوسرے سورۂ بقرہ کی آخری دو آیتیں ہیں۔ (جو آمن الرسول سے شروع ہو کر ختم سورت ہوتی ہیں) ان میں سے جو حرف آپ پڑھیں گے اس کا ثواب آپ کو دیا جائے گا (اور ان میں جو دعا ہے وہ قبول ہوگی)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 806 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف میں سورہ فاتحہ اور سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کو نورین دو نور فرمایا گیا ہے اس بارے میں صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ یہ دونوں آیتیں پڑھنے والے لئے قیامت کے دن روشنی کی صورت میں آگے آگے چلیں گے اور جنت کے راستہ کی رہبری کرینگے۔