Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1117

Chapter on What is Recited After the Takbir

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on What is Recited After the Takbir

Zujajat al-Masabih 1117Volume 1

English

Ali reported: When the Prophet (ﷺ) stood for prayer—in another narration: when he began the prayer—he would say the Takbir and then say: (I have turned my face toward He who created the heavens and the earth, as a pure monotheist, and I am not of the polytheists. Indeed, my prayer, my sacrifice, my living, and my dying are for Allah, Lord of the worlds, who has no partner. With this, I have been commanded, and I am of the Muslims. O Allah, You are the King, there is no god but You. You are my Lord, and I am Your servant. I have wronged myself and acknowledged my sin, so forgive me all my sins, for none forgives sins but You. Guide me to the best of character, for none guides to the best of it but You. Turn away from me the evil of it, for none turns away the evil of it but You. Here I am, at Your service, and all good is in Your hands, and evil is not attributed to You. I exist by You and for You. Blessed and exalted are You. I seek Your forgiveness and repent to You). When he bowed, he would say: (O Allah, to You I bow, in You I believe, and to You I submit. My hearing, sight, bones, and nerves are humbled before You). When he raised his head, he would say: (O Allah, our Lord, to You is all praise, filling the heavens, the earth, and what is between them, and filling whatever else You will). When he prostrated, he would say: (O Allah, to You I prostrate, in You I believe, and to You I submit. My face has prostrated before He who created it, shaped it, and gave it hearing and sight. Blessed is Allah, the Best of Creators). At the end, between the Tashahhud and the Taslim, he would say: (O Allah, forgive me for what I have done in the past and what I will do in the future, what I have concealed and what I have declared, and what I have exceeded in. You are the One who brings forward and delays. There is no god but You). [Narrated by Muslim] In a narration by Ash-Shafi'i, he added: (And evil is not attributed to You. The guided one is whom You guide. I exist by You and for You. There is no escape from You except to You. Blessed are You).

Arabic quotation in the English source

وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ. ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ. وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ. وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ.

اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُنِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي

اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَنْجَاً مِنْكَ وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 771a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 813 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 813

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ کے بعد امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اور الفاظ بھی مروی ہیں جو آگے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔) اے اللہ! آپ ہی شہنشاہ ہیں، بجز آپ کے کوئی معبود برحق نہیں ہے، آپ ہی میرے رب ہیں اور میں آپ کا بندہ ہوں میں نے (گناہ کر کے) اپنے نفس پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، میرے تمام گناہوں کو معاف کر دیجئے، یقیناً آپ کے سوا کوئی گناہوں کا معاف کرنے والا نہیں ہے اور مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت کیجئے آپ کے سوا اچھے اخلاق کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں، اور برے اخلاق سے مجھے بچائے رکھئے آپ کے سوا برے اخلاق سے مجھے کوئی بچانے والا نہیں ہے، خدایا! آپ کی خدمت میں آپ کا حکم بجا لانے کے لئے حاضر ہوں! ساری بھلائیاں آپ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور برائیوں کی نسبت آپ کی طرف نہیں کی جا سکتی میرا وجود آپ ہی سے ہے اور آپ ہی کی طرف مجھے واپس ہونا ہے آپ بڑی برکت والے ہیں اور آپ عالیشان ہیں میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں اور آپ کے سامنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔) اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَ بِكَ اٰمَنْتُ، وَ لَكَ اَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَ بَصَرِي وَ مُخِّي وَ عَظْمِي وَ عَصَبِيْ۔ ترجمہ: اے اللہ! میں آپ کے لئے راضی ہونے کے لئے رکوع کیا ہوں اور آپ ہی پر ایمان لایا ہوں میں آپ ہی کا فرمانبردار ہوں اور اپنے سب کام آپ ہی کو سونپتا ہوں میری سماعت، میری بصارت، میری ہڈی کا گودہ، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے یہ سب آپ کے سامنے عاجزی سے جھکے ہوئے ہیں۔ ”اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَ مِلْءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ“۔ ترجمہ: (اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! آپ ہی کے لئے حمد ہے اس قدر حمد جو سارے آسمان بھر کر ہو اور زمین بھر کر ہو اور زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھر کر ہو، اور ان کے سوا آپ جو کچھ پیدا کرنا چاہیں وہ سب بھر کر ہو)۔ اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے: ”اللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ خَلَقَهٗ وَصَوَّرَهٗ، وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ، تَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ“۔ ترجمہ: اے اللہ! میں آپ ہی کے لئے آپ ہی کے آگے اپنی ذلت اور عاجزی کے ظاہر کرنے کے لئے سجدہ کیا ہوں اور آپ ہی پر میں ایمان لایا ہوں، میں آپ ہی کا فرماں بردار ہوں اور اپنے سب کام آپ ہی کو سونپ رہا ہوں میں اپنا سر زمین پر اس ذات مبارک کے سامنے رکھ رہا ہوں جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کو اچھی صورت دی اور اس کے لئے کان سننے والے دیئے اور آنکھ دیکھنے والے دیئے، اے اللہ! آپ بڑی برکت والے ہیں جو سب ظاہری بنانے والوں سے، بہتر حقیقی طور پر بنانے والے ہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے اخیر میں التحیات اور سلام کے درمیان یہ دعاء پڑھتے تھے: ”اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ مَاقَدَّمْتُ وَمَاأَخَّرْتُ، وَمَاأَسْرَرْتُ وَمَاأَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَاإِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ“۔ اے اللہ! معاف کر دیجئے میرے اگلے پچھلے گناہوں کو اور اُن گناہوں کو جن کو میں نے چھپ کر کئے اور ان گناہوں کو بھی جن کو میں نے علانیہ کئے اور ان گناہوں کو بھی جن کو میں نے حد اعتدال سے گزر کر کیا ہے اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف کیجئے جن کو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں آپ بعضوں کو عزت دے کر آگے بڑھاتے ہیں اور بعضوں کو ذلت دے کر پیچھے ڈالتے ہیں آپ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اس حدیث میں قیام کی حالت میں جن دعاؤں کے پڑھنے کا ذکر ہے ان میں وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ کے بعد جو الفاظ ہیں ان کے بجائے امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کی روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں: