Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1117

(یہ باب اس شئے کے بیان میں ہے جو تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جاتی ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب اس شئے کے بیان میں ہے جو تکبیر تحریمہ کے بعد پڑھی جاتی ہے)

Zujajat al-Masabih 1117Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1267Noor 1268
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے تو تکبیر تحریمہ کے بعد (قیام میں) یہ دعاء پڑھتے: ترجمہ:۔ میں نے ایک ہی کا ہو کر اپنا رخ اُسی ذات پاک کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو بنایا اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ ترجمہ: میری نماز اور میری تمام عبادات، میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا پروردگار ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اور مجھ کو ایسا ہی حکم دیا گیا ہے اور میں اس کے فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ ”وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ ، اَنَا بِكَ وَاِلَيْكَ (یہ وہی دعاء ہے جس کا اشارہ مندرجہ بالا سیدنا علیؓ کی حدیث میں دیا گیا ہے۔) اور برائیوں کی نسبت آپ کی طرف نہیں کی جاسکتی اور وہی ہدایت پایا ہوا ہے جس کو آپ نے ہدایت کی ہو، میرا وجود آپ ہی سے ہے اور آپ ہی کی طرف مجھے واپس ہونا ہے، آپ کے عذاب سے آپ کے سوا کوئی بچانے والا نہیں، اور آپ کے سوا کوئی پناہ دینے والا بھی نہیں، آپ بڑی برکت والے ہیں۔

Arabic quotation in the English source

وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ. ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ إِلَّا أَنْتَ. وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ. وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوْبُ إِلَيْكَ.

اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمُنِّي وَعَظْمِي وَعَصَبِي

اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ

اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ

اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَنْجَاً مِنْكَ وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 771a (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 813 (unverified) 88% confidence

Mishkat (candidate) 813

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

(وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ کے بعد امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی روایت میں اور الفاظ بھی مروی ہیں جو آگے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔) اے اللہ! آپ ہی شہنشاہ ہیں، بجز آپ کے کوئی معبود برحق نہیں ہے، آپ ہی میرے رب ہیں اور میں آپ کا بندہ ہوں میں نے (گناہ کر کے) اپنے نفس پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں، میرے تمام گناہوں کو معاف کر دیجئے، یقیناً آپ کے سوا کوئی گناہوں کا معاف کرنے والا نہیں ہے اور مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت کیجئے آپ کے سوا اچھے اخلاق کی کوئی ہدایت کرنے والا نہیں، اور برے اخلاق سے مجھے بچائے رکھئے آپ کے سوا برے اخلاق سے مجھے کوئی بچانے والا نہیں ہے، خدایا! آپ کی خدمت میں آپ کا حکم بجا لانے کے لئے حاضر ہوں! ساری بھلائیاں آپ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور برائیوں کی نسبت آپ کی طرف نہیں کی جا سکتی میرا وجود آپ ہی سے ہے اور آپ ہی کی طرف مجھے واپس ہونا ہے آپ بڑی برکت والے ہیں اور آپ عالیشان ہیں میں آپ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتا ہوں اور آپ کے سامنے تمام گناہوں سے توبہ کرتا ہوں۔) اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم رکوع فرماتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اَللّٰهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَ بِكَ اٰمَنْتُ، وَ لَكَ اَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وَ بَصَرِي وَ مُخِّي وَ عَظْمِي وَ عَصَبِيْ۔ ترجمہ: اے اللہ! میں آپ کے لئے راضی ہونے کے لئے رکوع کیا ہوں اور آپ ہی پر ایمان لایا ہوں میں آپ ہی کا فرمانبردار ہوں اور اپنے سب کام آپ ہی کو سونپتا ہوں میری سماعت، میری بصارت، میری ہڈی کا گودہ، میری ہڈیاں اور میرے پٹھے یہ سب آپ کے سامنے عاجزی سے جھکے ہوئے ہیں۔ ”اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَ مِلْءَ مَاشِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ“۔ ترجمہ: (اے اللہ! اے ہمارے پروردگار! آپ ہی کے لئے حمد ہے اس قدر حمد جو سارے آسمان بھر کر ہو اور زمین بھر کر ہو اور زمین و آسمان کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھر کر ہو، اور ان کے سوا آپ جو کچھ پیدا کرنا چاہیں وہ سب بھر کر ہو)۔ اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ فرماتے تو یہ دعاء پڑھتے: ”اللّٰهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ خَلَقَهٗ وَصَوَّرَهٗ، وَشَقَّ سَمْعَهٗ وَبَصَرَهٗ، تَبَارَكَ اللّٰهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ“۔ ترجمہ: اے اللہ! میں آپ ہی کے لئے آپ ہی کے آگے اپنی ذلت اور عاجزی کے ظاہر کرنے کے لئے سجدہ کیا ہوں اور آپ ہی پر میں ایمان لایا ہوں، میں آپ ہی کا فرماں بردار ہوں اور اپنے سب کام آپ ہی کو سونپ رہا ہوں میں اپنا سر زمین پر اس ذات مبارک کے سامنے رکھ رہا ہوں جس نے اس کو پیدا کیا اور اس کو اچھی صورت دی اور اس کے لئے کان سننے والے دیئے اور آنکھ دیکھنے والے دیئے، اے اللہ! آپ بڑی برکت والے ہیں جو سب ظاہری بنانے والوں سے، بہتر حقیقی طور پر بنانے والے ہیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے اخیر میں التحیات اور سلام کے درمیان یہ دعاء پڑھتے تھے: ”اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ مَاقَدَّمْتُ وَمَاأَخَّرْتُ، وَمَاأَسْرَرْتُ وَمَاأَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّيْ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَاإِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ“۔ اے اللہ! معاف کر دیجئے میرے اگلے پچھلے گناہوں کو اور اُن گناہوں کو جن کو میں نے چھپ کر کئے اور ان گناہوں کو بھی جن کو میں نے علانیہ کئے اور ان گناہوں کو بھی جن کو میں نے حد اعتدال سے گزر کر کیا ہے اور میرے ان گناہوں کو بھی معاف کیجئے جن کو آپ مجھ سے زیادہ جانتے ہیں آپ بعضوں کو عزت دے کر آگے بڑھاتے ہیں اور بعضوں کو ذلت دے کر پیچھے ڈالتے ہیں آپ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔) اس حدیث میں قیام کی حالت میں جن دعاؤں کے پڑھنے کا ذکر ہے ان میں وَالشَّرُّ لَيْسَ اِلَيْكَ کے بعد جو الفاظ ہیں ان کے بجائے امام شافعی رحمہ اللہ علیہ کی روایت میں یہ الفاظ مروی ہیں: