English
It is narrated from Abu Hurairah (may Allah be pleased with him) that the Prophet (peace be upon him) said: "If it were not for the women and children in the houses, I would have established the Isha prayer and ordered my young men to burn the houses with fire."
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1078 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 1078
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): اس حدیث شریف میں ارشاد ہے۔ ”اگر گھروں میں عورتیں اور بچے نہ ہوتے تو عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دینے کا حکم دیتا“ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز کا جماعت سے ادا کرنا عورتوں اور بچوں پر واجب نہیں ہے، اگر عورتوں اور بچوں کے گھروں میں ہوتے ہوئے نماز میں نہ آنے والوں کی وجہ سے گھر جلا دئیے جاتے تو ان کے ساتھ یہ بے قصور بھی جن پر جماعت واجب نہ تھی جل جاتے، اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گھروں کے جلانے کا ارادہ ترک فرما دیا۔ ف(2): اس حدیث شریف میں نماز باجماعت میں شرکت کے لئے مسجد میں حاضر نہ ہونے والوں کے بارے میں ارشاد ہے ”أَمَرْتُ فِتْيَانِي يُحَرِّقُونَ مَا فِي الْبُيُوتِ بِالنَّارِ“ (میں اپنے نوجوان صحابہ کو حکم دیتا کہ عشاء کی جماعت میں حاضر نہ ہونے والے بے عقلوں کے گھروں کو آگ لگا کر جلا دیں) یہاں ان لوگوں کے لئے حرف ”من“ کی بجائے ”ما“ کا استعمال فرمایا گیا ہے اور ظاہر ہے کہ حرف ”ما“ کا استعمال غیر ذوی العقول کے لئے ہوتا ہے اور ”من“ کا استعمال ذوی العقول کے لئے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذوی العقول کے لئے حرف ”ما“ کا استعمال فرمانا اس سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مسجد کی نماز باجماعت میں شریک نہ ہونے والے واقعۃً بے عقل ہیں۔ (مرقات)