Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1528

Chapter on Praying the Same Prayer Twice

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Praying the Same Prayer Twice

Zujajat al-Masabih 1528Volume 1

English

It is narrated from Sulaym, a man from Banu Salimah, that he came to the Prophet (peace be upon him) and said: "O Messenger of Allah, Muadh ibn Jabal comes to us after we have slept and are engaged in our daytime work. He calls for prayer, so we come out to him, but he prolongs the prayer for us." The Prophet (peace be upon him) said to Muadh: "O Muadh, do not be a cause of Fitnah (trial). Either pray with me or lighten the prayer for your people." [Narrated by Ahmad and At-Tahawi] Imam Ibn al-Humam said: "The Prophet (peace be upon him) gave him two options: either pray with him and not lead his people, or lead his people with a shortened prayer and not pray with him. This is the literal meaning of the text, indicating that he was prohibited from leading the prayer if he prayed with the Prophet (peace be upon him). However, his leading the prayer is not prohibited by consensus. Thus, it is understood that he was prohibited from performing the obligatory prayer (with the Prophet) and then leading his people in the same prayer." Al-Allamah Al-Ayni said: "This is the opinion of Az-Zuhri, Al-Hasan Al-Basri, Sa'id ibn Al-Musayyib, An-Nakhai, Abu Qilabah, Yahya ibn Sa'id Al-Ansari, Mujahid, and Tawus." At-Tahawi responded to the hadith of Muadh, which indicates the permissibility of an obligated person following someone performing a voluntary prayer, by saying that it is abrogated. He argued that Muadh's Islam was earlier, and after years of Hijrah, the Prophet (peace be upon him) performed the prayer of fear multiple times, which involved actions contrary to the usual prayer. If it were permissible for an obligated person to follow someone performing a voluntary prayer, it would have been possible to perform the prayer twice without contradiction or corruption, but since this was not done, it indicates that it is not permissible.
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ امام کا نفل کی نیت سے قوم کی امامت کرنا اور قوم کا فرض کی نیت سے اقتداء کرنا ہمیشہ کے لئے ناجائز قرار پایا۔ فرض پڑھنے والے مقتدیوں کا نفل کی نیت سے امام بننا جائز نہ ہونے پر ایک اور دلیل ”صلاۃ خوف“ ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد کئی بار ادا فرمائی ہے۔ پہلے ”صلاۃ خوف“ کو سمجھئے صلاۃ خوف یہ ہے کہ جب کسی دشمن کا سامنا ہو، اور دشمن کے خوف سے سب لوگ مل کر جماعت سے بیک وقت نماز نہ پڑھ سکتے ہوں، مثلاً قصر نماز ہو رہی ہو تو مسلمانوں کے دو حصے کر دیئے جائیں، ایک حصہ دشمن کے مقابلہ میں رہے اور دوسرا حصہ امام کے ساتھ نماز شروع کر دے، جب امام ایک رکعت ختم کر کے دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہونے لگے تو پہلا حصہ دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا جائے اور دوسرا حصہ جو دشمن کے مقابل تھا وہاں سے آ کر امام کے ساتھ امام کی بقیہ نماز میں شریک ہو جائے اور جب امام ختم نماز پر سلام پھیر دے تو یہ دوسرا حصہ سلام پھیرے بغیر دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا جائے اور پہلا حصہ جو دشمن کے مقابلہ کو گیا تھا پھر واپس ہو کر اپنی بقیہ نماز لاحق کی طرح بغیر قرأت کے تکمیل کر لے، پھر یہ دشمن کے مقابلہ میں چلے جائیں اور دوسرا حصہ واپس ہو کر اپنی نماز قرأت کے ساتھ مسبوق کی طرح تکمیل کر لے اور سلام پھیر دے۔ صلاۃ خوف کو سمجھنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احوال جو صلاۃ خوف میں ہوئے ہیں ان پر غور کیجئے کہ آپ نے اکثر غزوات میں جو ہجرت کے بعد ہوئے ہیں، مذکورہ صلاۃ خوف کے طریقہ پر نماز ادا فرمائی ہے، اگر امام نفل کی نیت سے فرض نماز پڑھنے والوں کی امامت کر سکتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصف فوج کو فرض کی نیت سے پوری نماز پڑھا دیتے اور باقی نصف فوج کو دوبارہ نفل کی نیت سے فرض پڑھاتے اور مقتدی فرض کی نیت سے اقتداء کرتے، اس صورت میں نماز کے منافی کوئی حرکت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، ایسا نہ کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض کی نیت سے آدھی فوج کو ایک رکعت اور بقیہ نصف کو جو ایک ایک رکعت پڑھائی، جس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ امام نفل کی نیت سے فرض پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اور اسی کے قائل امام زہری، حضرت حسن بصری، حضرت سعید بن المسیب، امام نخعی، حضرت ابو قلابہ، حضرت یحییٰ بن سعید انصاری، حضرت مجاہد اور حضرت طاؤس رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ صلاۃ خوف کے واقعات جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے، ہجرت کے بعد آخری زمانہ کے ہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول فرما لیا تھا اور ابتدا روزانہ میں ایک ہی نماز کو ایک مرتبہ فرض کی نیت سے ادا کر کے پھر دوبارہ اسی نماز کو نفل کی نیت سے پڑھاتے اور اقتدا کرنے والے فرض کی نیت سے اقتدا کرتے تھے، چونکہ صلاۃ خوف کے واقعات آخری زمانہ کے ہیں اور حضرت معاذ کا واقعہ ابتدائی زمانہ کا ہے اس لئے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا نفل کی نیت سے قوم کو فرض نماز پڑھانے کا منسوخ ہونا صلاۃ خوف سے بھی ثابت ہوتا ہے (طحاوی، عمدۃ القاری اور ابن ہمام)۔