اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1749
بنی سلمہ کے ایک صاحب جن کا نام سلیم تھا ان سے روایت ہے کہ وہ نبی
کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کئے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معاذ بن
جبل رضی اللہ عنہ (آپ کے ساتھ مقتدی بن کر عشاء کی فرض پڑھ کر) ہمارے سو جانے کے بعد (ہم
کو عشاء کی نماز پڑھانے کے لئے) آیا کرتے ہیں، اور ہم دن بھر کے کاروبار سے تھکے ہوئے رہتے
ہیں، جب وہ اذان دیتے تو ہم نماز کے لئے (اپنے گھروں سے) نکل آتے ہیں (جابر رضی اللہ عنہ
کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ معاذ رضی اللہ عنہ نفل کی نیت سے امامت کرتے تھے اور ساری
جماعت فرض کی نیت سے اقتداء کرتی تھی اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دی گئی تھی،
جب معاذ رضی اللہ عنہ کی یہ شکایت حضور سے پیش ہوئی کہ) معاذ رضی اللہ عنہ طویل قرأت سے نماز
پڑھایا کرتے ہیں (اس وقت یہ بھی ظاہر ہوا کہ نفل کی نیت سے امام ہوا کرتے ہیں) تو حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے معاذ! تم طویل قرأت پڑھ کر لوگوں کو فتنہ میں مت ڈالو (اب تک
تم نے نفل کی نیت سے جو امامت کی ہے آئندہ کے لئے اس کو منسوخ سمجھو، دو میں سے کوئی ایک کام
کرو) میرے ساتھ فرض کی نیت سے نماز پڑھو تو قوم کو پھر دوبارہ نہ پڑھاؤ۔ اگر قوم کو نماز پڑھاتے ہو
تو (اپنی نماز میرے ساتھ نہ پڑھو اور) قوم کو طویل قرأت سے نماز نہ پڑھاؤ۔
(اس کی روایت امام احمد اور امام طحاوی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ امام کا نفل کی نیت سے قوم کی امامت کرنا اور قوم کا فرض کی نیت سے اقتداء کرنا ہمیشہ کے لئے ناجائز قرار پایا۔ فرض پڑھنے والے مقتدیوں کا نفل کی نیت سے امام بننا جائز نہ ہونے پر ایک اور دلیل ”صلاۃ خوف“ ہے جس کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد کئی بار ادا فرمائی ہے۔ پہلے ”صلاۃ خوف“ کو سمجھئے صلاۃ خوف یہ ہے کہ جب کسی دشمن کا سامنا ہو، اور دشمن کے خوف سے سب لوگ مل کر جماعت سے بیک وقت نماز نہ پڑھ سکتے ہوں، مثلاً قصر نماز ہو رہی ہو تو مسلمانوں کے دو حصے کر دیئے جائیں، ایک حصہ دشمن کے مقابلہ میں رہے اور دوسرا حصہ امام کے ساتھ نماز شروع کر دے، جب امام ایک رکعت ختم کر کے دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہونے لگے تو پہلا حصہ دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا جائے اور دوسرا حصہ جو دشمن کے مقابل تھا وہاں سے آ کر امام کے ساتھ امام کی بقیہ نماز میں شریک ہو جائے اور جب امام ختم نماز پر سلام پھیر دے تو یہ دوسرا حصہ سلام پھیرے بغیر دشمن کے مقابلہ کے لئے چلا جائے اور پہلا حصہ جو دشمن کے مقابلہ کو گیا تھا پھر واپس ہو کر اپنی بقیہ نماز لاحق کی طرح بغیر قرأت کے تکمیل کر لے، پھر یہ دشمن کے مقابلہ میں چلے جائیں اور دوسرا حصہ واپس ہو کر اپنی نماز قرأت کے ساتھ مسبوق کی طرح تکمیل کر لے اور سلام پھیر دے۔ صلاۃ خوف کو سمجھنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احوال جو صلاۃ خوف میں ہوئے ہیں ان پر غور کیجئے کہ آپ نے اکثر غزوات میں جو ہجرت کے بعد ہوئے ہیں، مذکورہ صلاۃ خوف کے طریقہ پر نماز ادا فرمائی ہے، اگر امام نفل کی نیت سے فرض نماز پڑھنے والوں کی امامت کر سکتا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصف فوج کو فرض کی نیت سے پوری نماز پڑھا دیتے اور باقی نصف فوج کو دوبارہ نفل کی نیت سے فرض پڑھاتے اور مقتدی فرض کی نیت سے اقتداء کرتے، اس صورت میں نماز کے منافی کوئی حرکت کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، ایسا نہ کر کے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرض کی نیت سے آدھی فوج کو ایک رکعت اور بقیہ نصف کو جو ایک ایک رکعت پڑھائی، جس سے صاف طور پر معلوم ہوا کہ امام نفل کی نیت سے فرض پڑھنے والوں کی امامت نہیں کر سکتا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے اور اسی کے قائل امام زہری، حضرت حسن بصری، حضرت سعید بن المسیب، امام نخعی، حضرت ابو قلابہ، حضرت یحییٰ بن سعید انصاری، حضرت مجاہد اور حضرت طاؤس رضی اللہ عنہم بھی ہیں۔ صلاۃ خوف کے واقعات جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے، ہجرت کے بعد آخری زمانہ کے ہیں اور معاذ رضی اللہ عنہ نے بہت پہلے اسلام قبول فرما لیا تھا اور ابتدا روزانہ میں ایک ہی نماز کو ایک مرتبہ فرض کی نیت سے ادا کر کے پھر دوبارہ اسی نماز کو نفل کی نیت سے پڑھاتے اور اقتدا کرنے والے فرض کی نیت سے اقتدا کرتے تھے، چونکہ صلاۃ خوف کے واقعات آخری زمانہ کے ہیں اور حضرت معاذ کا واقعہ ابتدائی زمانہ کا ہے اس لئے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا نفل کی نیت سے قوم کو فرض نماز پڑھانے کا منسوخ ہونا صلاۃ خوف سے بھی ثابت ہوتا ہے (طحاوی، عمدۃ القاری اور ابن ہمام)۔