English
Umar narrated that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If you find a man who has stolen in the path of Allah, burn his belongings and strike him. [Narrated by al-Tirmidhi and Abu Dawud.]
Al-Tirmidhi said: Al-Bukhari said: In other narrations from the Prophet (ﷺ) about the thief, he did not order burning his belongings. Al-Tahawi said: If the narration is authentic, it may have been when punishment with wealth was applicable.
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 2713 (unverified) 94% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 1461 (unverified) 88% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: Burn his belongings: In al-Arf al-Shadhi: This narration indicates burning wealth as discretionary punishment. In most of our books, discretionary punishment with wealth is negated and abrogated. I found in al-Hawi al-Qudsi the permissibility of discretionary punishment with wealth from Abu Yusuf. In al-Khulasa and al-Zahiriyya, discretionary punishment by taking wealth, burning a house, and the like is permissible.
Note 1
(١)قوله: فأحرقوا متاعه: وقال في (العرف الشذي): يدل حديث الباب على إحراق المالتعزيرا، وفي عامة كُتُبنا نفيالتعزير بالمال، وإنه منسوخ، ووجدت في (الحاوي القدسي) جواز التعزير بالمال عن أبي يوسف، انتهى. وصرّح في (الخلاصة) و(الظهيرية) بجواز التعزير بأخذ المال وبإحراق البيت ونحو ذلك .
Note 1
1قولہ : يٰأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ (اے ایمان والو بلا شبہ شراب اور جوا الخ) شراب کی حرمت کے اس میں سات دلائل ہیں۔ 1- رِجْسٌ “اللہ تعالیٰ نے اس کو رجس” فرمایا اور رجس کے معنی نجاست کے ہیں اور ہر نجاست حرام ہے۔ 2- اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ ”وہ شیطان کے عمل سے ہے“ ہر وہ چیز جو شیطان کے عمل سے ہے حرام ہے۔ 3- اللہ تعالیٰ کا قول ”فَاجْتَنِبُوهُ“ تم اس سے بچتے رہو اور جس چیز سے بچنے کا اللہ تعالیٰ حکم فرمائے وہ چیز حرام ہے۔ 4- اللہ تعالیٰ کا فرمانا ”لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ“ ”تا کہ تم کامیاب ہو۔ جس چیز سے بچنے پر کامیابی کی امید متعلق کی گئی ہو اس کا کرنا حرام ہے۔ 5- اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”بلا شبہ شیطان چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ تمہارے دلوں میں عداوت اور کینہ ڈال دے“ اور جو چیز مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور کینہ پیدا کرنے کا ذریعہ بنے وہ حرام ہے۔ 6- اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلٰوةِ“ اور وہ تم کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے باز رکھے۔ اور جس چیز کے ذریعہ شیطان مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور نماز سے باز رکھے وہ چیز حرام ہے۔ 7- اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”کیا تم (اب بھی) باز آؤ گے (یا نہیں)۔ اس کے معنی ”باز آ جاؤ“ کے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ جس سے باز آنے کا اپنے بندوں کو حکم دے تو اس کا ارتکاب حرام ہے۔ (کشاف) میں کہتا ہوں۔ اس میں آٹھویں دلیل بھی ہے وہ یہ کہ اس آیت میں اس کا (یعنی شراب کا) ذکر بتوں سے متصل آیا ہے جیسے ارشاد ہے ”بلا شبہ شراب اور جوا اور بت اور پانسے“ جس چیز کا ذکر کفر سے متصل ہو وہ کم از کم حرام تو ضرور ہوگی۔ اسی لئے حدیث میں آیا ہے شرابی بت پرست کی طرح ہے اور یہ بھی ہے کہ شرابی لات و عزیٰ کی پرستش کرنے والے کی طرح ہے۔ (مرقات) 2قولہ: أَعْصِرُ خَمْرًا (میں شراب نچوڑ رہا ہوں) فقہاء نے کہا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ شراب نچوڑی جانے والی چیز ہے بھگوئی جانے والی چیز (یعنی نبیذ بنائی جانے والی چیز) نہیں ہے۔ (نیل الاوطار) 3قولہ: إِنَّ مِنَ الْعِنَبِ خَمْرًا الخ (شراب انگور سے ہے) تم اس بات کو جانو کہ وہ تمام چیزیں جن سے شرابیں کشید کی جاتی ہیں چار ہیں۔ 1۔ انگور 2۔ کھجور 3۔ کشمش 4۔ دیگر غلہ جیسے گیہوں، جو اور مکئی پھر اس پانی کی جو ان اجناس سے کشید کیا جائے گا دو حالتیں ہیں (1) کچا (2) پکایا ہوا پھر پکائے ہوئے کی دو قسمیں ہیں۔ 1۔ اتنا پکایا گیا ہو کہ اس کا دو تہائی اُڑ جائے اور ایک تہائی باقی رہے۔ 2۔ ایک تہائی اُڑ جائے دو تہائی رہے یا نصف اُڑ جائے نصف رہے۔ اور ان اجناس سے کشید کئے جانے والے پانی کے بھی تین قسم ہیں۔ 1۔ میٹھا 2۔ قارص (ترش و تیز) 3 کڑوا انگور سے بنائی جانے والی چیزیں پانچ ہیں۔ 1۔ خمر (شراب) انگور کا کچا پانی جب اس میں جوش آ جائے اور وہ تیز ہو اور جھاگ آ جائے۔ یہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ہے۔ اور صاحبین کے پاس جب تیز ہو جائے تو بغیر جھاگ کے ہی وہ (خمر) شراب بن جاتا ہے۔ اور ائمہ ثلاثہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل یہ ہے کہ جوش کا آنا تیزی ہے اور اس میں کمال جھاگ آنے اور جوش کے تھم جانے سے ہے کیونکہ اس سے شراب خالص کی کدر سے تمیز ہوتی ہے۔ اور شریعت کے احکام قطعی ہیں۔ اور وہ انتہائی حد پر متعلق ہوتے ہیں۔ جیسے حدود، اور حرام کو حلال جاننے والے کو کافر قرار دینا اور اس کے متعلقہ احکام ہیں۔ تو اس کی (یعنی ایسی شراب کی) تھوڑی اور زیادہ مقدار سب حرام ہے۔ 2۔ باذق: وہ ہے جس کو تھوڑا سا پکایا گیا ہو تو اس کا یہ میٹھا پانی حلال ہے اور جب اس میں جوش آ جائے اور وہ تیز ہو جائے تو حرام ہے۔......