اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1179
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں بالغ ہونے کے
قریب تھا اس زمانہ کا ذکر ہے کہ ایک روز میں گدھی پر سوار ہو کر آیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم بغیر دیوار اور سترہ کے منیٰ میں نماز پڑھا رہے تھے پس میں صف کے کچھ حصہ کے سامنے سے گزر
کر سواری سے اتر گیا اور گدھی کو (گھاس) چرنے چھوڑ کر نماز میں شریک ہو گیا اور کسی شخص نے بھی
میرے اس فعل کو برا نہ سمجھا۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 76 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih al-Bukhari 493 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 504a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: "No one objected to this" – Ibn al-Malik said: "The purpose is to show that the passing of a donkey in front of someone praying does not invalidate the prayer," as mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله: فلم ينكر ذلك علي أحد قال ابن الملك والغرض منه أن مرور الحمار بين يديه لا يقطع الصلاة، كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث کے پیش نظر ابن الملک نے کہا ہے کہ نمازی کے سامنے سے گدھا گزرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ امام کا سترہ مقتدی کا سترہ ہے، مقتدی کو علیحدہ سترہ قائم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اسی وجہ سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے صف کے سامنے گزرنے پر کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ (مرقات۔)