اردو
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم (ایک بار) ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو دیکھ رہا
ہوں کہ (درمیان نماز میں) رفع یدین کر کے اپنے ہاتھوں کو شریر گھوڑوں کی طرح (بار بار) ہلاتے
رہتے ہو، (ایسا مت کرو) اور نماز میں سکون اور اطمینان سے رہا کرو۔
(اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، سفیان کہتے ہیں کہ مکہ معظمہ کی
گیہوں کی منڈی میں امام ابوحنیفہ اور امام اوزاعی رحمہما اللہ اکٹھے ہوئے، اس وقت امام اوزاعی نے
امام ابوحنیفہ سے کہا کہ آپ لوگ نماز میں رکوع کے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت کس وجہ سے رفع
یدین نہیں کرتے؟ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم اس وجہ سے رفع یدین نہیں کرتے کہ اس
کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح روایت ثابت نہیں ہوئی ہے، امام اوزاعی نے فرمایا یہ
کیسے ہوسکتا ہے، حالانکہ زہری نے مجھ سے حدیث بیان کی اور زہری، سالم سے روایت کرتے ہیں
اور سالم اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں اور ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ
وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو (تکبیر تحریمہ کے لئے)
دونوں ہاتھوں کو اٹھایا کرتے تھے اور رکوع کو جاتے وقت رفع یدین کرتے اور رکوع سے اٹھتے وقت
بھی رفع یدین کرتے تھے (امام اوزاعی کے جواب میں ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حدیث بیان
کی ہے ہم سے حماد نے اور حماد بیان کرتے ہے ابراہیم سے اور ابراہیم روایت کرتے ہیں علقمہ اور
اسود سے اور یہ دونوں ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
شروع نماز میں تو (تکبیر تحریمہ کے لئے) ہاتھ اٹھاتے تھے (پھر باقی نماز میں) رفع یدین کا اعادہ نہیں
فرماتے تھے، امام اوزاعی نے کہا کہ میں آپ کو حدیث سنا رہا ہوں زہری سے اور زہری روایت کرتے
ہیں سالم سے اور سالم روایت کرتے ہیں اپنے والد ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور آپ کہتے ہیں کہ
حدیث بیان کی مجھ سے حماد نے اور وہ روایت کرتے ہیں ابراہیم سے امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ حماد
زہری سے زیادہ فقیہ ہیں اور ابراہیم سالم سے زیادہ فقیہ ہیں اور علقمہ فقہ میں ابن عمر سے کم نہ تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 430a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
ف(1): جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث جس کی روایت مسلم نے کی ہے اس کے آخر میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ”اسْكُنُوا فِى الصَّلَاةِ“ (نماز میں سکون اور اطمینان سے رہا کرو)۔ اس ارشاد گرامی سے یہ مقصود ہے کہ درمیان نماز میں ایسا عمل نہ کیا جائے جس سے نماز کے سکون و اطمینان میں خلل ہوتا ہو اس لئے ہر وہ عمل جس سے نماز کے سکون میں خلل ہوتا ہو ممنوع ہوگا اور ظاہر ہے کہ درمیان نماز میں بار بار رفع یدین سے نماز کے سکون اور اطمینان میں خلل واقع ہوتا ہے، اس وجہ سے اس حدیث میں درمیان نماز میں رفع یدین سے منع کیا گیا ہے۔ ف(2): اسی مذکور الصدر حدیث میں ارشاد ہوا ہے: ”مَا لِى أَرَاكُمْ رَافِعِى أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، اسْكُنُوا فِى الصَّلَاةِ“۔ (کیا وجہ ہے کہ میں تم لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ (درمیان نماز میں رفع یدین کر کے) اپنے ہاتھوں کو شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح بار بار ہلاتے رہتے ہو، (ایسا مت کرو) اور نماز میں سکون و اطمینان سے رہا کرو)۔ حدیث کے ان الفاظ سے درمیان نماز میں رفع یدین کی ممانعت ثابت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس وہ حضرات جن کے پاس درمیان نماز میں رفع یدین جائز ہے انہوں نے ”مَا لِى أَرَاكُمْ رَافِعِى أَيْدِيكُمْ ......الخ“ سے قعدہ میں سلام پھیرتے وقت ہاتھ ہلا کر اشارہ کرنا مراد لیا ہے جس پر بعض لوگوں کا عمل تھا، حالانکہ جس حدیث میں سلام پھیرتے وقت ہاتھ ہلا کر اشارہ کرنے سے منع کیا گیا وہ دوسری حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: ”مَا لِهَؤُلَاءِ يُؤْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ثُمَّ يُسَلِّمُ عَلَى أَخِيهِ مِنْ عَنْ يَمِينِهِ وَمَنْ عَنْ شِمَالِهِ“۔ (ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں کو شریر گھوڑوں کی دموں کی طرح ہلا ہلا کر اشارہ کرتے ہیں، ان کو چاہئے کہ ہاتھوں کو اپنے رانوں پر رکھیں پھر سیدھے اور بائیں جانب اپنے بھائی کو سلام کریں) یہی وہ حدیث ہے جس سے قعدہ میں بوقت سلام ہاتھوں کو ہلا کر اشارہ کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ ان دونوں حدیثوں کے تقابل سے حسب ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں: صدر کی پہلی حدیث کے یہ الفاظ ہیں ”مَا لِي أَرَاكُمْ رَافِعِي أَيْدِيكُمْ كَأَنَّهَا أَذْنَابُ خَيْلٍ شُمْسٍ، اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ ۔۔“ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ درمیان نماز میں رفع یدین نہ کیا جائے کیوں کہ درمیان نماز میں بار بار رفع یدین سے نماز میں خلل واقع ہوتا ہے۔ اس حدیث کے ان ہر دو جملوں سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہوتی ہے کہ رفع یدین کی ممانعت کا تعلق درمیان نماز سے ہے نہ کہ آخر نماز سے اگر ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ“ کے حکم کو نماز کے آخری حصہ سلام کے وقت سے متعلق کیا جائے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے تو ”اسْكُنُوا“ کا حکم بے محل ہوجائے گا کیوں کہ سلام سے تو نماز ہی ختم ہوجاتی ہے اور نماز ختم ہوجانے کے بعد سکون و اطمینان سے رہنے کا کیا موقع ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ صدر کی حدیث جس میں ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ“ مذکور ہے اس حدیث کو درمیان نماز میں رفع یدین کی ممانعت ہی سے متعلق کیا جائے، اس کے برخلاف دوسری حدیث میں ”رَافِعِي أَيْدِيكُمْ“ کے بجائے ”يُؤْمُونَ بِأَيْدِيهِمْ“ کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہاتھوں سے اشارہ کرنے کے ہیں اور اسی طرح اس دوسری حدیث کے آخر میں ”اسْكُنُوا فِي الصَّلَاةِ “ کی بجائے ”إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فَخِذِهِ ......الخ“ کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہیں ہاتھوں کو اپنے رانوں پر رکھ کر سلام کیا جائے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں حدیثیں اپنے اپنے الفاظ اور معانی کے لحاظ سے بالکل جدا ہیں۔ صدر کی پہلی حدیث کا تعلق بالکلیہ درمیان نماز میں رفع یدین کی ممانعت سے ہے اور دوسری حدیث کا تعلق بوقت سلام قعدہ میں ہاتھوں کو ہلا کر اشارہ کرنے کی ممانعت سے ہے۔ دونوں حدیثوں کے اس تقابل سے یہ واضح ہوگیا کہ ہر دو حدیثیں اپنے اپنے موقع کے لحاظ سے علیحدہ ہیں اور دونوں کا جدا جدا حکم ہے اور اس طرح ایک حدیث کے حکم کو دوسرے حدیث کے حکم سے متعلق کرنا قیاس مع الفارق ہے جو کسی حیثیت سے درست نہیں۔ (مرقات۔)12
Note 2
اگرچہ ابن عمر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف صحبت حاصل ہے اور ان کے لئے صحابی ہونے کی فضیلت ہے، اب رہے اسود تو ان کے بھی بہت سے فضائل ہیں اور عبداللہ بن مسعود تو عبداللہ بن مسعود ہی ہیں ان کا کیا کہنا یہ سن کر امام اوزاعی نے سکوت اختیار فرمایا۔ (اس کی روایت سفیان بن عیینہ نے ہمارے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی مسند میں کی ہے۔)