اردو
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ
عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، ابن عمر تکبیر اولیٰ یعنی تکبیر تحریمہ کے سوا پوری نماز میں کہیں بھی رفع یدین
نہیں کرتے تھے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے) اور طحاوی نے کہا ہے کہ یہی ابن عمر رضی اللہ عنہما
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ رکوع میں جاتے وقت
Commentary and footnotes (2)
Note 1
ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا پھر خود انہوں نے رفع یدین کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ترک کردیا۔ پس ابن عمر کا رفع یدین کو ترک کرنا اس وجہ سے ہے کہ جس رفع یدین کو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا تھا اس کا منسوخ ہونا ان کے پاس ثابت ہے اور رفع یدین کے منسوخ ہونے کی دلیل ان کے پاس قائم ہوچکی ہے، (ورنہ وہ رفع یدین کو درمیان نماز میں کبھی ترک نہ کرتے۔) اور علامہ عینی نے کہا ہے کہ جس رفع یدین کے متعلق رفع یدین کے قائلین دلیل لاتے ہیں وہ اس بات پر محمول ہے کہ رفع یدین پر عمل ابتدائی اسلام میں ہوتا تھا پھر منسوخ ہوگیا اور رفع یدین منسوخ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ
Note 2
رفع یدین کر رہا ہے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت بھی رفع یدین کر رہا ہے تو اس سے عبداللہ بن زبیر نے کہا کہ رکوع کو جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین مت کیا کر، یہ ایسی چیز ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے کیا کرتے تھے اور پھر اس کو ترک فرما دیئے ہیں۔