اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 121
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو
پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو آدم علیہ السلام کی پشت سے وہ تمام روحیں نکل پڑیں جن کو اللہ
تعالیٰ آدم علیہ السلام کی ذریت میں قیامت تک پیدا کرنے والے تھے اور ان میں سے ہر انسان کے
دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی چمک ظاہر کی (یہ چمک فطرت اسلام کی تھی جس کا ذکر پہلے گزر چکا
ہے) پھر ان سب کو آدم علیہ السلام کے سامنے لایا، آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب یہ کون ہیں؟
فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہیں۔ آدم علیہ السلام نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تو اس کے دونوں
آنکھوں کے درمیان
کی چمک آپ کو پسند آئی، کہا اے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ داؤد علیہ السلام ہیں، آدم
علیہ السلام نے دریافت کیا کہ ان کی عمر کس قدر ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال، آدم علیہ السلام نے کہا! اے
رب میری عمر میں سے چالیس سال داؤد علیہ السلام کی عمر میں زائد فرما دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدم علیہ السلام کی عمر میں صرف چالیس سال رہ گئے تو
ان کے پاس ملک الموت آئے تو آدم علیہ السلام نے کہا: کیا میری عمر سے چالیس برس ابھی باقی نہیں
ہیں؟ ملک الموت نے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے اپنے فرزند داؤد علیہ السلام کو اپنی عمر سے
40 سال دیئے ہیں: آدم علیہ السلام نے انکار کیا (یہ انکار نسیان کی وجہ سے تھا نہ کہ عناد کی وجہ سے)
تو ان کی ذریت نے بھی انکار کیا۔
اور آدم علیہ السلام بھول گئے اور درخت (ممنوعہ) کو تناول کرلئے تو آپ کی ذریت بھی بھولنے
لگی اور آدم علیہ السلام نے خطا کی، تو ان کی ذریت بھی خطا کرتی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی
ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3076 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.