Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Faith

Hadith 111

Chapter on Belief in Predestination

In this book

Current reading

Faith

Chapter on Belief in Predestination

Zujajat al-Masabih 111Volume 1

English

Narrated by Abu Hurairah (may Allah be pleased with him): The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Allah created Adam, He wiped his back, and from his back fell every soul that He would create from his descendants until the Day of Judgment. He placed between the eyes of each of them a light. Then He displayed them to Adam. Adam said: 'O Lord, who are these?' Allah replied: 'These are your descendants.' He saw a man among them and was impressed by the light between his eyes. Adam said: 'O Lord, who is this?' Allah replied: 'This is Dawood.' Adam said: 'O Lord, how long did You decree his life to be?' Allah said: 'Sixty years.' Adam said: 'O Lord, increase his life by forty years from mine.'" (The narration continues in the original text, explaining how the matter is resolved regarding the extension of Dawood's life.) The Messenger of Allah (peace be upon him) said: "When Adam's life came to an end, except for forty years, the Angel of Death came to him. Adam said: 'Hasn't there remained forty years of my life?' The angel replied: 'Did you not give it to your son Dawood?' Adam denied it, and his descendants also denied it. Adam forgot, and his descendants forgot. Adam made a mistake, and his descendants made a mistake."

العربية

Typed, pending editorial approval
۱۱۱ - وَعَنْهُ (رضي الله عنه) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ : «لَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ مَسَحَ ظَهْرَهُ فَسَقَطَ عَنْ ظَهْرِهِ كُلُّ نَسَمَةٍ هُوَ خَالِقُهَا مِنْ ذُرِّيَّتِهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَجَعَلَ بَيْنَ عَيْنَيْ كُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ وَبِيْصًا مِنْ نُوْرٍ، ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى آدَمَ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قَالَ: ذُرِّيَّتُكَ. فَرَأَى رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَعْجَبَهُ وَبِيْصُ مَا بَيْنَ عَيْنَيْهِ، قَالَ: أَيْ رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ: دَاوُدُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، كَمْ جَعَلْتَ عُمُرَهُ؟ قَالَ: سِتَّيْنَ سَنَةً. قَالَ: رَبِّ زِدْهُ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعِينَ سَنَةً. قَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : فَلَمَّا انْقَضَى عُمُرُ آدَمَ إِلَّا أَرْبَعِينَ جَاءَهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ آدَمُ: أَوَلَمْ يَبْقَ مِنْ عُمُرِي أَرْبَعُوْنَ سَنَةً؟ قَالَ: أَوَلَمْ تُعْطِهَا ابْنَكَ دَاوُدَ؟ قَالَ: فَجَحَدَ آدَمُ فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ وَنَسِيَ آدَمُ فَأَكَلَ مِنَ الشَّجَرَةِ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَخَطِئَ آدَمُ وَخَطِئَتْ ذُرِّيَّتُهُ». رَوَاهُ التَّرْمِذِيُّ.

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 121
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو آدم علیہ السلام کی پشت سے وہ تمام روحیں نکل پڑیں جن کو اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کی ذریت میں قیامت تک پیدا کرنے والے تھے اور ان میں سے ہر انسان کے دونوں آنکھوں کے درمیان نور کی چمک ظاہر کی (یہ چمک فطرت اسلام کی تھی جس کا ذکر پہلے گزر چکا ہے) پھر ان سب کو آدم علیہ السلام کے سامنے لایا، آدم علیہ السلام نے کہا: اے رب یہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ تمہاری اولاد ہیں۔ آدم علیہ السلام نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا تو اس کے دونوں آنکھوں کے درمیان کی چمک آپ کو پسند آئی، کہا اے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ نے فرمایا: یہ داؤد علیہ السلام ہیں، آدم علیہ السلام نے دریافت کیا کہ ان کی عمر کس قدر ہے؟ فرمایا: ساٹھ سال، آدم علیہ السلام نے کہا! اے رب میری عمر میں سے چالیس سال داؤد علیہ السلام کی عمر میں زائد فرما دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدم علیہ السلام کی عمر میں صرف چالیس سال رہ گئے تو ان کے پاس ملک الموت آئے تو آدم علیہ السلام نے کہا: کیا میری عمر سے چالیس برس ابھی باقی نہیں ہیں؟ ملک الموت نے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ آپ نے اپنے فرزند داؤد علیہ السلام کو اپنی عمر سے 40 سال دیئے ہیں: آدم علیہ السلام نے انکار کیا (یہ انکار نسیان کی وجہ سے تھا نہ کہ عناد کی وجہ سے) تو ان کی ذریت نے بھی انکار کیا۔ اور آدم علیہ السلام بھول گئے اور درخت (ممنوعہ) کو تناول کرلئے تو آپ کی ذریت بھی بھولنے لگی اور آدم علیہ السلام نے خطا کی، تو ان کی ذریت بھی خطا کرتی ہے۔ (اس کی روایت ترمذی نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Jami al-Tirmidhi 3076 (unverified) 97% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.