اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1450
عاصم بن کلیب رضی اللہ عنہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے روایت
کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ (ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں
حاضر ہوا (اس وقت) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز (کے قعدہ) میں تھے میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ
علیہ وسلم اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر (کھلا ہوا) رکھے ہوئے ہیں اور دایاں ہاتھ دائیں ران پر اس طرح
رکھے ہوئے ہیں کہ انگلیاں بند ہیں اور شہادت کی انگلی ران پر کھلی رکھی ہوئی ہے، اور آپ یہ دعاء پڑھ
رہے ہیں۔
”يَامُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِيْ عَلٰى دِينِكَ“ اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل
کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ (یہاں اس دعاء کے نقل کرنے سے راوی کی غرض یہ بتلانا ہے کہ
قعدہ اخیرہ ہو رہا تھا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدھے ہاتھ کی انگلیاں اور شہادت کی انگلی اب تک
بدستور ویسی ہی تھیں جیسے اشارہ کے بعد رکھی ہوئی تھیں۔)
(اس کی روایت ترمذی نے اپنی جامع کے کتاب الدعوات میں کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 3522 (unverified) 78% confidence · Validation similarity: 0.473
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف(1): سعایہ میں مذکور ہے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قعدہ میں اشارہ کرنے کے بعد جو انگلیاں بند کئے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو ران پر کھلا رکھے ہوئے تھے قعدہ کے ختم ہونے تک ان سب کو بدستور اسی حالت میں بند رکھے ہوئے تھے کھولے نہ تھے۔ ف(2): واضح ہو کہ مذکور الصدر احادیث مآخذ ہیں اس تفصیل کے جس کو ملا علی قاری رحمہ اللہ نے اپنے رسالہ ”تزیین العبارۃ“ میں اس طرح بیان فرمایا ہے کہ صحیح اور مختار ہمارے جمہور احناف کے پاس یہ ہے کہ قعدہ میں التحیات شروع کرتے وقت پہلے دونوں ہتھیلیوں کو دونوں رانوں پر اس طرح رکھیں کہ انگلیاں کھلی ہوئی قبلہ رخ رہیں، اور التحیات پڑھتے ہوئے جب کلمہ توحید یعنی أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ پر پہنچے تو خنصر اور بنصر دونوں چھوٹی انگلیوں کو بند کر لے اور درمیانی انگلی اور انگوٹھے سے حلقہ بنائے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ اس طرح کرے کہ لَا إِلٰهَ کہتے وقت شہادت کی انگلی کو اٹھائے اور إِلَّا اللّٰهُ کہتے وقت کلمہ کی انگلی کو کھلی ہوئی ران پر رکھ دے اور دوسری انگلیوں کو نہ کھولے، اگر قعدہ اولی ہو تو تیسری رکعت کے لئے اٹھنے تک اور اگر قعدہ اخیرہ ہو تو سلام پھیرنے تک انگلیوں کو بدستور اسی حالت پر رکھے۔