اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1504
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر کی آواز سننے
سے مجھے اطلاع ہوتی تھی کہ حضور گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے۔ (اس کی روایت
بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 842 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 583a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: ابوالحسن ابن بطال رحمة اللہ علیہ نے شرح بخاری میں اس حدیث کی اس طرح تاویل کی ہے کہ حدیث شریف میں فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہنے کا جو ذکر ہے وہ ہر فرض نماز سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جہاد کے موقع سے ہے جبکہ مجاہدین ہر فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہا کرتے تھے تاکہ کفار پر رعب طاری ہو، اگر اس حدیث سے یہی مراد ہے تو یہ عمل اب بھی جاری ہے کہ مجاہدین جب نماز پنجگانہ سے فارغ ہوں تو ان کے لئے مستحب ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے بعد دشمن کو ڈرانے کے لئے آواز سے اللہ اکبر کہا کریں۔ ابن بطال رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس کا تعلق مجاہدین کے ہر فرض نماز کے بعد جہر سے اللہ اکبر کہنے سے نہیں ہے، بلکہ اس حدیث سے یہ مراد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے ختم ہونے کے بعد جہر سے اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس کو ختم نماز کی علامت سمجھتے تھے تو یہ عمل اب اجماع سے منسوخ ہے کیونکہ ہم نے نماز کے ختم پر بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے کے قائل کسی عالم کو نہیں پایا۔ صاحب بنایہ نے امام ابوبکر رازی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ، ہمارے علماء نے کہا ہے کہ ایام تشریق کے سوا دوسرے ایام میں فرض نمازوں کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا مسنون نہیں ہے بلکہ جہر سے اللہ اکبر کہنے کے مواقع یہ ہیں: جبکہ دشمنوں کے مقابل ہوں یا ڈاکوؤں کے مقابل ہوں یا آگ لگی ہو اور ایسے ہی تمام خوف اور دہشت کے موقعوں پر جہر سے اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔