Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1322

Chapter on Remembrance After Prayer

In this book

Current reading

Prayer

Chapter on Remembrance After Prayer

Zujajat al-Masabih 1322Volume 1

English

Ibn Abbas (may Allah be pleased with him) said: "I used to recognize the end of the Messenger of Allah’s (peace be upon him) prayer by the Takbir." [Agreed upon] Abu Al-Hasan Ibn Battal said in his explanation of Al-Bukhari: "This could refer to the Mujahideen (those engaged in jihad). If so, then it remains applicable, and it is practiced that when the Mujahideen pray the five prayers, it is recommended for them to say Takbir aloud, raising their voices to intimidate the enemy. If it is not understood in this context, then it is abrogated by consensus, as we do not know of any scholar who holds this opinion." In Al-Binayah, Abu Bakr Ar-Razi said: "Our scholars said: Saying Takbir aloud outside the days of Tashreeq is not Sunnah except when facing an enemy or thieves. It is also said to apply during fires and all situations of fear."

العربية

Typed, pending editorial approval
١٣٢٢ - عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رضي الله عنه) قَالَ: كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ بِالتَّكْبِيرِ . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ بَطَالٍ فِي شَرْحِ الْبُخَارِيَّ: يَحْتَمِلُ أَنْ يَكُوْنَ أَرَادَ بِهِ الْمُجَاهِدِينَ، فَإِن كَانَ كَذَلِكَ فَهُوَ إِلَى الْآن، وَعَلَيْهِ العَمَلُ، وَهُوَ أَنَّ الْمُجَاهِدِينَ إِذَا صَلُّوا الْخَمْسَ فَيُسْتَحَبُّ لَهُمْ أَنْ يُكَبِّرُوا جَهْرًا، يَرْفَعُوْنَ أَصْوَاتَهُمْ لِيُرْهِبُوا الْعَدُوْ. فَإِن لَمْ يُحْمَلْ عَلَى ذَلِكَ فَيَكُوْنُ مَنْسُوْخًا بِالْإِجْمَاعِ؛ لِأَنَّهُ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْعُلَمَاءِ يَقُوْلُ بِهِ. انْتَهَى وَفِي الْبِنَايَةِ»: قَالَ أَبُو بَكْرِ الرَّازِيُّ: قَالَ مَشَايِخُنَا: التَّكَبِيرُ جَهْرًا فِي غَيْرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ لَا يُسَنُّ إِلَّا بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ وَاللُّصُوصِ ، وَقِيلَ : وَكَذَا فِي الْحَرِيقِ وَالْمَخَاوِفِ كُلَّهَا انْتَهَى

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1504
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر کی آواز سننے سے مجھے اطلاع ہوتی تھی کہ حضور گرامی صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوگئے۔ (اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih al-Bukhari 842 (unverified) 99% confidence
  • Candidate: Sahih Muslim 583a (unverified) 94% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: ابوالحسن ابن بطال رحمة اللہ علیہ نے شرح بخاری میں اس حدیث کی اس طرح تاویل کی ہے کہ حدیث شریف میں فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہنے کا جو ذکر ہے وہ ہر فرض نماز سے متعلق نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق جہاد کے موقع سے ہے جبکہ مجاہدین ہر فرض نماز کے بعد اللہ اکبر جہر سے کہا کرتے تھے تاکہ کفار پر رعب طاری ہو، اگر اس حدیث سے یہی مراد ہے تو یہ عمل اب بھی جاری ہے کہ مجاہدین جب نماز پنجگانہ سے فارغ ہوں تو ان کے لئے مستحب ہے کہ وہ ہر فرض نماز کے بعد دشمن کو ڈرانے کے لئے آواز سے اللہ اکبر کہا کریں۔ ابن بطال رحمہ اللہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس کا تعلق مجاہدین کے ہر فرض نماز کے بعد جہر سے اللہ اکبر کہنے سے نہیں ہے، بلکہ اس حدیث سے یہ مراد ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے ختم ہونے کے بعد جہر سے اللہ اکبر فرمایا کرتے تھے جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما اس کو ختم نماز کی علامت سمجھتے تھے تو یہ عمل اب اجماع سے منسوخ ہے کیونکہ ہم نے نماز کے ختم پر بلند آواز سے اللہ اکبر کہنے کے قائل کسی عالم کو نہیں پایا۔ صاحب بنایہ نے امام ابوبکر رازی رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ، ہمارے علماء نے کہا ہے کہ ایام تشریق کے سوا دوسرے ایام میں فرض نمازوں کے بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا مسنون نہیں ہے بلکہ جہر سے اللہ اکبر کہنے کے مواقع یہ ہیں: جبکہ دشمنوں کے مقابل ہوں یا ڈاکوؤں کے مقابل ہوں یا آگ لگی ہو اور ایسے ہی تمام خوف اور دہشت کے موقعوں پر جہر سے اللہ اکبر کہنا مسنون ہے۔