اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1534
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص وضو کرے اور (وضو کے فرائض، سنن و مستحبات
ملحوظ رکھ کر) اچھا وضو کرے، پھر مسجد کے ارادہ سے نکلے تو تشبیک نہ کرے، یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں
کو دوسرے ہاتھ کے انگلیوں میں نہ ڈالے، کیونکہ وہ اس حالت میں حکماً نماز میں ہے۔ (اس کی
روایت امام احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور دارمی نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 562 (unverified) 97% confidence
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 386 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: شرح النقایہ میں کہا ہے کہ نماز میں ایسی ہیئت اختیار کرنا جس سے ترک خشوع و خضوع ہو مکروہ ہے مثلاً نماز میں کپڑوں کے ساتھ یا جسم کے ساتھ یا بالوں کے ساتھ کھیلنا اور ایسے ہی نماز میں ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا جس کو تشبیک کہتے ہیں، مکروہ ہے اور اسی طرح انگلیوں، چٹخانا بھی مکروہ ہے، اور توابع نماز جیسے مسجد میں نماز کے انتظار میں بیٹھنا یا نماز کے لئے گھر سے باوضو مسجد کی طرف جانا وغیرہ ان حالتوں میں تشبیک ایسے ہی مکروہ ہے جیسے کہ عین نماز میں مکروہ ہے، نماز میں ہوں یا توابع نماز ہر دو حالتوں میں تشبیک مکروہ تحریمی ہے، یہ رد المحتار میں مذکور ہے اور اعلاء السنن میں لکھا ہے کہ خارج نماز اگر کسی ضرورت سے مثلاً انگلیوں کی راحت کے لئے تشبیک کی جائے تو یہ جائز ہے جیسا کہ بخاری کی اس حدیث سے ضرورتاً تشبیک کی اجازت ثابت ہوتی ہے، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک مومن دوسرے مومن کے لئے بنیاد کی طرح ہے اور آپ نے (بطریق مثال) اپنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر تشبیک فرمائی۔ البتہ بغیر کسی ضرورت کے خارج نماز بطور عبث تشبیک کی جائے تو یہ مکروہ تنزیہی ہے۔ (یہ مضمون اعلاء السنن سے ماخوذ ہے۔)