اردو
محمد بن صالح بن علی بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ محمد بن
صالح نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پیچھے ایک نماز پڑھی تو نماز میں ان سے سہو
ہو گیا، اس پر انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے (اور ختم نماز پر) ہماری طرف متوجہ ہو کر انس
رضی اللہ عنہ نے فرمایا واضح ہو کہ (سلام پھیر کر میں نے سہو کے دو سجدے کئے ہیں) یہ ایسا عمل ہے
جس کو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
(اس کی روایت طبرانی نے کی ہے۔)
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو
نماز پڑھائی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سہو ہو گیا اس پر آپ نے (سلام کے بعد) دو سجدے کئے اور
اس کے بعد تشہد پڑھا (اور نماز سے باہر آنے کے لئے پھر) سلام پھیرا۔
(اس کی روایت ترمذی، ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے اور حاکم اور ابن حبان نے بھی اسی طرح
روایت کی ہے اور حاکم نے کہا ہے کہ یہ حدیث بخاری اور مسلم کی شرط کے موافق ہے، اس لئے صحیح ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Jami al-Tirmidhi 395 (unverified) 98% confidence
- Candidate: Sunan Abi Dawud 1039 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: عمدۃ الرعایہ میں لکھا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سہو کے سجدوں کی وجہ سے سجدوں کے پہلے جو تشہد پڑھا جاتا ہے اس کا شمار نہیں ہوتا، اس لئے سہو کے سجدوں کے بعد پھر تشہد پڑھنا چاہئے۔ (اور دوبارہ تشہد پڑھنے کے بعد حسب قاعدہ درود اور دعاء پڑھ کر نماز سے باہر آنے کے لئے سلام پھیرا۔)