Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1416

(یہ باب ان اوقات کے بیان میں ہے جن میں نمازوں کا ادا کرنا ممنوع یا مکروہ ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب ان اوقات کے بیان میں ہے جن میں نمازوں کا ادا کرنا ممنوع یا مکروہ ہے)

Zujajat al-Masabih 1416Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1621Noor 1622
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں: ایک دن کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کر میرے حجرے میں تشریف لائے کیا دیکھتی ہوں کہ آپ نے (خلاف عادت) دو رکعت نماز ادا فرمائی، میں عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نے آج عصر کی فرض کے بعد جو دو رکعت ادا فرمائے ہیں اس سے پہلے آپ کو اس طرح کی نماز پڑھتے ہوئے کبھی نہیں دیکھی، حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: سنو ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) میرے پاس مال آ گیا تھا میں اس مال کو اس کے مستحقین پر تقسیم کرنے میں ایسا مشغول ہو گیا کہ ظہر کے بعد جو دو رکعت سنت پڑھی جاتی ہے ان کو میں نہ پڑھ سکا، ایسے میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا۔ (عصر پڑھا دیا) ظہر کے جو دو سنتیں رہ گئے تھے، اب عصر کے فرض کے بعد ان کی قضا ادا کیا، میں عرض کی کہ اگر ہم سے بھی ایسے ہی ظہر کے فرض کے بعد کی دو سنتیں کسی وجہ سے چھوٹ جائیں تو کیا ہم عصر کے فرض کے بعد ادا کر سکتے ہیں؟ تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: ام سلمہ (رضی اللہ عنہا) نہیں (تمہارے لئے عصر کے فرض کے بعد نفل نماز پڑھنے کا حکم نہیں ہے، عصر کے فرض کے بعد فوت شدہ سنتوں کو ادا کرنا میرا خاصہ ہے)۔ اس روایت طحاوی نے کی ہے۔ اور دارقطنی کی ایک روایت میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ (ایک دن) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز پڑھا کر میرے پاس تشریف لائے اور (خلاف عادت) دو رکعت نماز ادا فرمائے، میں عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کے بعد نفل پڑھنے کے متعلق لوگوں کے لیے کیا کوئی نیا حکم آ گیا ہے؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا: نہیں (کوئی نیا حکم تو نہیں آیا) صرف اتنی بات ہو گئی کہ بلال (رضی اللہ عنہ) نے عصر کے فرض کے لئے جلدی اقامت کہہ دی جس کی وجہ سے میں آج عصر کے پہلے جو دو سنتوں کو پڑھنا چاہتا تھا نہ پڑھ سکا، اب میں ان کو قضا کر لیا ہوں، میں عرض کی کہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر ہم سے بھی ایسے ہی عصر کے پہلے کی دو سنتیں چھوٹ جائیں تو کیا ہم بھی عصر کے فرض کے بعد ان کو ادا ء کر سکتے ہیں؟ تو حضور علیہ الصلوۃ والسّلام نے ارشاد فرمایا: امّ سلمہ! نہیں (تمہارے لئے عصر کے فرض کے بعد نفل پڑھنے کا حکم نہیں ہے، عصر کے فرض کے بعد فوت شدہ سنتوں کو ادا ء کرنا میرا خاصّہ ہے)۔
Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف۔ اس حدیث شریف میں عصر کے فرض کے پہلے جو دو سنتوں کے پڑھنے کا ذکر ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ عصر کے فرض کے پہلے صرف دو سنت ہی غیر موکد ہیں بلکہ حدیثوں میں عصر کے فرض کے پہلے دو سنتوں کا بھی ذکر ہے اور چار سنتوں کا بھی مگر افضل یہ ہے کہ چار سنتیں پڑھی جائیں۔ (ہدایہ، ملتقی)