اردو
حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت عمر نے نماز فجر کے بعد
طواف کیا اور طواف کے بعد جو دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں ان کو آپ نے ادا نہیں کیا، جب مکہ معظمہ
سے باہر نکلے اور مقام ذی طویٰ میں پہنچ کر اترے تو آپ نے سورج نکلنے کے بعد طواف کے بعد
کی رکعتوں کو اب ادا فرمایا۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے، اور امام مالک اور امام طحاوی نے بھی
اسی طرح روایت کی ہے۔
اور امام بخاری نے بھی اس کی روایت تعلیقاً کی ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ معظمہ میں بھی مثل دیگر مقامات کے فجر کے فرض کے بعد نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، اب رہا یہ شبہ کے طواف کی بعد کی رکعتوں کو واجب ہونے کی وجہ سے ان کو فجر کے فرض کے بعد ادا کیا جا سکتا تھا تو اس کا جواب یہ ہے کہ طواف کے بعد کی دو رکعتیں بندہ کے طواف کرنے سے اس پر واجب ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ پر یہ متعین جیسا کہ وتر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے، اس لئے فوت شدہ وتر کو فجر کے فرض کے بعد قضاء کر سکتے ہیں لیکن طواف کی رکعتوں کو اس لئے ادا نہیں کر سکتے کہ یہ بندہ کے فعل سے واجب ہوئی ہیں۔ اس لئے ان کی حیثیت نفل جیسی ہے، اور فجر کے فرض کے بعد نفل نماز کا ادا کرنا مکروہ تحریمی ہے، اسی لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طواف کی رکعتوں کو فجر کے فرض کے بعد ادا نہیں فرمایا۔