اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1673
ام المومنین سیدتنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو لوگ (لاپرواہی کر کے) بعد کی صفوں میں راحت و آرام
کے خیال سے) پہلی صف کو ترک کرنے کی عادت کر لیتے ہیں تو جیسے یہ صفوں کے پچھلے حصوں کو پسند
کر لیتے ہیں، ایسا ہی اللہ تعالیٰ ان کو دوزخ کی تہ میں جو دوزخ کا پچھلا حصہ ہے ڈال دیں گے۔
(اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sunan Abi Dawud 679 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف۔ واضح ہو کہ نمازی کے صف اوّل میں کھڑے ہونے کی بہت بڑی فضیلت ہے لیکن صف اول میں کھڑے ہونا واجب نہیں بلکہ مستحب ہے اور اس پر تمام ائمہ کرام کا اتفاق ہے، یہ فتاویٰ عالمگیریہ میں قنیہ سے منقول ہے۔ اب رہی وہ وعید جو صدر کی اس حدیث میں مذکور ہے تو وہ ایسے اشخاص سے متعلق ہے جو نیکیوں اور فضیلت کے کاموں کے حاصل کرنے میں سستی اور غفلت کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور ان کے دلوں میں نیکیوں کی رغبت نہیں رہتی اور خواہ مخواہ صف اول کو چھوڑ بیٹھتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ“ (لوگو! تم نیک کاموں کی طرف دوڑو) ایک اور جگہ ارشاد ہے ”سَابِقُوا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ“ (لوگو! اپنے پروردگار کی مغفرت کی طرف دوڑو اور ایسی جنت کی طرف دوڑو جس کی وسعت آسمان اور زمین دونوں کی وسعت کے برابر ہے)۔ ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں نیکیوں کے کرنے کی رغبت اور نیکیوں کا خیال رہنا چاہئے اور یہ واجب ہے اگر کسی کے دل سے نیکیوں کی رغبت اور نیکیوں کا خیال نکل جائے اور نیکیوں کے کرنے سے بے پرواہی کرے تو یہ دل کا گناہ ہے اور ایسا کرنے سے واجب ترک ہوتا ہے تو ایسے شخص کا صف اول میں نہ شریک ہونا اور اس سے بے پرواہی کرنا واجب کو ترک کرنا ہوا، اس لئے گناہ کا کام ہوا۔ اور اسی وجہ سے اس وعید کا مستحق ہوگا جو صدر کی حدیث میں مذکور ہے، بخلاف اس کے اگر کسی کے دل میں نیکیوں کی رغبت ہے اور نیکیوں کے کرنے کا خیال جما ہوا ہے اور باوجود اس کے یہ صف اول میں کسی وجہ سے شریک نہ ہو سکا تو وہ اس وعید کا مستحق نہ ہوگا۔ یہ بھی واضح رہے کہ صدر کی حدیث میں جو وعید مذکور ہے وہ اس شخص سے بھی متعلق ہوگی جو اولاً صف اول میں جگہ حاصل کر لے پھر فرض نماز ادا کرنے سے پہلے کسی دنیوی غرض سے مثلاً نماز کے بعد مسجد سے جلد نکلنے کا خیال یا گرمی کے موسم میں راحت حاصل کرنے کے لئے اندرون مسجد سے نکل کر صحن مسجد میں آ جائے، ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا ان اغراض کے لئے صف اول کو چھوڑ کر پچھلی صفوں میں پہنچ جانا حصول تقرب سے اعراض ہوا، اس لئے ایسا شخص اس وعید کا مستحق ہوا۔ البتہ صف اول میں احتراماً کسی اہل علم کو یا اپنے سے زیادہ عمر والے صاحب کو جگہ دینے کے لئے پچھلی صف میں منتقل ہونیوالا اس وعید کا مستحق نہ ہوگا۔ اس لئے کہ یہ شرعاً مطلوب ہے۔ (یہ پورا مضمون تعلیق اعلاء السنن سے ماخوذ ہے)۔