اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 1718
عبیداللہ بن عدی بن الخیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ حضرت عثمان
رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوئے جب کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ باغیوں میں
محصور تھے۔ عبیداللہ نے آپ سے عرض کیا کہ خلیفہ المسلمین تو آپ ہیں لیکن آپ ملاحظہ فرما رہے
ہیں کہ اس وقت آپ پر کیسی مصیبت آن پڑی ہے، فتنہ انگیز باغی ہم کو نماز پڑھا رہے ہیں اور ہم ان
کے پیچھے مقتدی ہو کر نماز پڑھنے سے گنہگار ہو رہے ہیں، اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارشاد
فرمایا: (ایسا نہیں) نماز سب اعمال میں بہترین عمل ہے، اگر کسی فاسق کے ساتھ مل کر تم نیک عمل
کریں تو تم پر اس کے فسق کا کوئی اثر نہ ہوگا اور تم گنہگار نہ ہوگے، ہاں اگر فاسق کے ساتھ اس کے فسق
وفتنہ میں تم بھی شریک ہوگے تو اس وقت تم بھی فاسق سمجھے جائیں گے، ایسا ہی باغی امام پر بغاوت کا
گناہ ہوگا چونکہ تم دل سے اس بغاوت کو برا سمجھ رہے ہو، اس لئے باغی کی اقتداء کر کے نماز پڑھنے
سے تمہاری نماز میں کوئی خلل نہیں آئے گا (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد سے ثابت ہوا
کہ فاسق امام کے پیچھے بھی نماز ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث میں حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ہر نیک وبد کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے)۔
(اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔)
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 695 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.