اردو
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ آخری
نصیحت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ کی تھی کہ جب تم کسی قوم کی امامت کرو تو نماز مختصر قرأت
کے ساتھ اداء کرنا۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)
اور مسلم کی ایک اور روایت میں اس طرح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
نے عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا عثمان! تم اپنی قوم کی امامت کیا کرو، تو میں نے عرض
کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جماعت کا مجھ پر رعب پڑتا ہے، جس کی وجہ سے امامت
کرنے سے اپنے دل میں جھجھک پاتا ہوں، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عثمان! میرے قریب آجاؤ (جب میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب ہوا تو حضور نے مجھے
اپنے پاس بٹھا کر میرے سینہ پر دونوں پستانوں کے درمیان اپنے دست مبارک کو رکھا، پھر ارشاد
فرمایا: پیٹھ پھیر کر بیٹھ جاؤ (جب میں پیٹھ پھیر کر بیٹھ گیا) تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میری پیٹھ پر
دونوں شانوں کے درمیان اپنی ہتھیلی مبارک رکھ دی، پھر ارشاد فرمایا: عثمان! (جاؤ) امامت کرو (اب
تم میں جھجھک نہیں رہے گی مگر تم کو اس کا خیال رکھنا چاہئے کہ) جو شخص کسی قوم کی امامت کرے تو اس
کو مختصر قرأت کے ساتھ نماز پڑھانا چاہئے (اور جو اذکار اور دعائیں نفل نمازوں میں پڑھی جاتی ہیں
ان کو فرض میں پڑھ کر فرض کو طویل نہ کرنا چاہئے) کیونکہ جماعت میں بوڑھے بھی ہوتے ہیں، بیمار
بھی، کمزور بھی اور ضرورت مند بھی، ہاں اگر کوئی تنہا نماز پڑھے تو جس قدر چاہے (قرأت) طویل
کرے اور جو اذکار اور دعائیں ماثورہ ہیں ان میں سے بھی جسے چاہے پڑھ سکتا ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 468a (unverified) 95% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 468b (unverified) 93% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.