Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1699

(اس باب میں نماز تراویح کا اور تراویح کی 20 رکعتوں کا ثبوت مذکور ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(اس باب میں نماز تراویح کا اور تراویح کی 20 رکعتوں کا ثبوت مذکور ہے)

Zujajat al-Masabih 1699Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1953
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رمضان المبارک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ (ہمیشہ کی طرح بستر پر اطمینان سے کبھی نہیں سوتے تھے بلکہ کچھ دیر لیٹے رہتے اور پھر رات کا اکثر حصہ عبادت الٰہی میں گزارتے تھے ختم رمضان تک یہی طریقہ رہتا تھا۔ (اس کی روایت بیہقی نے کی ہے۔)
Commentary and footnotes (1)

Note 1

فصل دوّم میں یہ مذکور ہے کہ پورے رمضان المبارک میں تراویح کا جماعت کے ساتھ اداء کرنا سنت مؤکدہ ہے اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کی چند راتوں میں تراویح کو جماعت کے ساتھ اداء فرمائے ہیں۔ تراویح کو ہمیشہ باجماعت پڑھنے سے حضور صلی اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تراویح کے فرض ہونے کا خوف نہ ہوتا تو آپ پورا مہینہ جماعت کے ساتھ تراویح پڑھاتے۔ چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت پر فرض ہونے کے خوف سے تراویح باجماعت پر مواظبت نہیں فرمائی ہے۔ اس لئے سمجھا جائے گا حضور کا چند روز تراویح کو باجماعت اداء کرنا تراویح پر مواظبت فرمانے یعنی تراویح کو ہمیشہ اداء کرنے کے حکم میں ہے۔ اس طرح ثابت ہوا کہ تراویح کو رمضان بھر جماعت کے ساتھ اداء کرنا سنت مؤکدہ ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد صحابہ کے ہمیشہ تراویح جماعت کے ساتھ پڑھنے سے تراویح باجماعت کے امت پر فرض ہونے کا خوف باقی نہ رہا۔ اس لئے خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم میں سے حضرت عمر فاروقؓ نے پورے رمضان میں تراویح کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا بلکہ سب کو ایک امام کے پیچھے رمضان بھر باجماعت تراویح پڑھنے کا پابند فرما دیا۔ اس وقت صحابہ کرام کی پوری جماعت نے آپ کے فعل پر اعتراض نہیں کیا اور آپ کے بعد حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علی مرتضیٰؓ کے دور میں بھی باجماعت تراویح پر عمل درآمد ہوتا رہا بلکہ آج تک پوری امت مسلمہ دنیا کے ہر شہر اور ملک میں تراویح باجماعت پڑھتی آ رہی ہے اس طرح خلفائے راشدین کا تراویح باجماعت کو پسند فرمانا اور اس کو باجماعت پڑھنے کا حکم دینے سے معلوم ہوا کہ پورے رمضان میں تراویح باجماعت ان حضرات کے پاس بھی سنت مؤکدہ تھی۔ اس کی تائید میں ذیل کی حدیثیں آ رہی ہیں۔