Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1717

(یہ باب اشراق کی نماز اور چاشت کی نماز کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

Prayer

(یہ باب اشراق کی نماز اور چاشت کی نماز کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 1717Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 1978
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ چاشت کی نماز کو چاشت کے اوّل وقت میں پڑھ رہے تھے (حالانکہ یہ اشراق کی نماز کا وقت تھا، چاشت کی نماز کا یہ مستحب وقت نہیں تھا) حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا (کہ چاشت کی نماز کا مستحب وقت یہ نہیں ہے) ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ چاشت کی نماز کا مستحب وقت اس کے علاوہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ صلاة الاوابين یعنی چاشت کی نماز اس وقت ہونی چاہئے جبکہ اونٹوں کے چھوٹے چھوٹے بچے ریت کی تپش سے گرمانے لگے ہوں (اور اس وقت دن کا چوتھائی حصہ ہوتا ہے اور اس وقت کے مستحب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ راحت و آرام اور کاروبار کا وقت ہوتا ہے اور اس وقت نماز کے لئے کھڑے ہونا نفس پر شاق ہے، اس وقت چاشت کی نماز وہی پڑھے گا جو اوابین میں سے ہو، یعنی جو اپنی راحت و آرام اور کاروبار کو چھوڑ کر خدا کی طرف رجوع ہونے والوں میں ہو)۔ (اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔)

Qur’an-related source paragraphs

And the saying of Allah, the Almighty: ‘By the even and the odd.’ (Al-Fajr, 89:3)

Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 748b (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

The prayer of the penitent is when the young camels feel the heat of the sun

(1) The statement "The prayer of the penitent is when the young camels feel the heat of the sun" is explained in Ad-Durr Al-Mukhtar: "It is recommended to pray four or more rak'ahs of Duha from after sunrise until midday. The preferred time is after a quarter of the day has passed." In Al-Munyah, it is stated: "The minimum is two rak'ahs, the maximum is twelve, and the middle is eight, which is the best, as established by the Prophet's (ﷺ) actions and words. The maximum is based solely on his words."

Note 1

قوله

(۱) قوله: صلاة الأوابين حين تَرْمَضُ الفِصَالُ، وقال في الدر المختار»: وندب أربع فصاعدًا في الضحى على الصحيح، من بعد الطلوع إلى الزوال. ووقتها المختار بعد ربع النهار. وفي المنية»: أقلها ركعتان، وأكثرها اثنا عشر، وأوسطها ثمان، وهو أفضلها، كما في الذخائر الأشرفية؛ لثبوته بفعله وقوله . وأما أكثرها فبقوله ﷺ فقط.

Note 1

ف: واضح باد کہ درمختار میں لکھا ہے کہ چاشت کی نماز بقول صحیح چار رکعت یا اس سے زائد ہے اور اس کا وقت آفتاب کے ایک نیزہ بلند ہونے کے بعد سے شروع ہو کر زوال تک رہتا ہے اور نماز چاشت کا مستحب وقت یہ ہے کہ اس کو دن کا چوتھائی حصہ گزرنے کے بعد ادا کیا جائے۔ المنیہ میں کہا گیا ہے کہ نماز چاشت کی کم از کم مقدار دو رکعت ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہیں اور اوسط آٹھ رکعت ہیں اور آٹھ رکعت ہی افضل ہے جیسا کہ ذخائر اشرفیہ میں مذکور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز چاشت کے (8) رکعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول اور فعل دونوں سے ثابت ہیں اور بارہ رکعت کا ثبوت صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول سے ملتا ہے عمل سے نہیں۔