Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Prayer

Hadith 1835

(اس باب میں خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ کے احکام مذکور ہیں)

In this book

Current reading

Prayer

(اس باب میں خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ کے احکام مذکور ہیں)

Zujajat al-Masabih 1835Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2126
عبداللہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ بن صالح رضی اللہ عنہ سے سنا ہے اور وہ ابوالزاہریہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں اور ابو الزاہریہ عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، ابوالزاہریہ کہتے ہیں کہ میں جمعہ کے دن عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا عبداللہ بن بسر مجھ سے فرمائے (کہ میں تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے کا ایک واقعہ سناتا ہوں، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے) کہ ایک شخص لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا ہوا آ رہا تھا تو اس شخص سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جائے۔ (تمہارے پھلانگ کر آنے سے) لوگوں کو ایذا پہنچتی ہے تم بہت دیر کے آئے ہو۔ اس کی روایت امام طحاوی نے کی ہے اور نسائی اور ابوداؤد نے بھی اسی طرح بہترین سند سے اس کی روایت کی ہے اور امام طحاوی نے کہا ہے،
Commentary and footnotes (1)

Note 1

صاحبو! دیکھ رہے ہو کہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلانگتے ہوئے آنے والے شخص کو صرف بیٹھ جانے کا حکم فرماتے ہیں، اگر خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز ہوتا تو نماز پڑھ کر بیٹھ جانے کا حکم دیتے، صرف بیٹھ جانے کا حکم دینے سے معلوم ہوا کہ خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ حنفی مذہب میں خطبہ کے متعلق دو قول ہیں، صاحبین فرماتے ہیں کہ دونوں خطبے ہوتے وقت صلاۃ و کلام ناجائز ہے، خطبہ شروع ہونے کے پہلے یا خطبہ ختم ہونے کے بعد کلام وغیرہ کر سکتے ہیں، اس وجہ سے کہ خطبہ سننا فرض ہے خطبہ کی حالت میں صلاۃ و کلام ہو تو خطبہ سننے میں خلل پڑتا ہے، بخلاف اس کے اگر خطبہ کے پہلے اور خطبہ کے بعد کلام کیا جائے تو خطبہ سننے میں کوئی خلل نہیں واقع ہوتا۔ اس لئے خطبہ شروع کرنے سے پہلے کلام جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خطیب جب اپنی جگہ سے خطبہ دینے کے لئے اٹھے جب ہی سے صلاۃ و کلام ناجائز ہے، یہاں تک کہ خطبہ ختم کر کے نماز جمعہ شروع کرے اس لئے کہ بعض وقت کلام طویل ہو جاتا ہے اور خطبہ سننے میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہو جاتا ہے، امام زہری کا بھی ایسا ہی قول ہے۔ ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں حضرات علی، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ خطیب کے اپنی جگہ سے خطبہ کے لئے اٹھنے کے بعد یہ سب حضرات صلاۃ اور کلام کو مکروہ سمجھتے ہیں ان حضرات کے قول سے بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ اس تمہید کو پیش نظر رکھ کر ذیل کی حدیثوں کو پڑھئے۔