English
Abdullah ibn Wahb reported: "I heard Mu'awiyah ibn Salih narrating from Abu Al-Zahriyyah from Abdullah ibn Busr (may Allah be pleased with him) who said: 'I was sitting next to him on Friday when a man came stepping over people's necks. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: "Sit down, for you have caused harm and delayed."'" [Narrated by Al-Tahawi]
Al-Nasa'i and Abu Dawud also narrated it with a Jayyid (good) chain.
Al-Tahawi said: "Do you not see that the Messenger of Allah (ﷺ) commanded this man to sit and did not command him to pray?"
Commentary and footnotes (1)
Note 1
صاحبو! دیکھ رہے ہو کہ اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھلانگتے ہوئے آنے والے شخص کو صرف بیٹھ جانے کا حکم فرماتے ہیں، اگر خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز ہوتا تو نماز پڑھ کر بیٹھ جانے کا حکم دیتے، صرف بیٹھ جانے کا حکم دینے سے معلوم ہوا کہ خطبہ کی حالت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ حنفی مذہب میں خطبہ کے متعلق دو قول ہیں، صاحبین فرماتے ہیں کہ دونوں خطبے ہوتے وقت صلاۃ و کلام ناجائز ہے، خطبہ شروع ہونے کے پہلے یا خطبہ ختم ہونے کے بعد کلام وغیرہ کر سکتے ہیں، اس وجہ سے کہ خطبہ سننا فرض ہے خطبہ کی حالت میں صلاۃ و کلام ہو تو خطبہ سننے میں خلل پڑتا ہے، بخلاف اس کے اگر خطبہ کے پہلے اور خطبہ کے بعد کلام کیا جائے تو خطبہ سننے میں کوئی خلل نہیں واقع ہوتا۔ اس لئے خطبہ شروع کرنے سے پہلے کلام جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خطیب جب اپنی جگہ سے خطبہ دینے کے لئے اٹھے جب ہی سے صلاۃ و کلام ناجائز ہے، یہاں تک کہ خطبہ ختم کر کے نماز جمعہ شروع کرے اس لئے کہ بعض وقت کلام طویل ہو جاتا ہے اور خطبہ سننے میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہو جاتا ہے، امام زہری کا بھی ایسا ہی قول ہے۔ ابن ابی شیبہ نے اپنے مصنف میں حضرات علی، ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے روایت کی ہے کہ خطیب کے اپنی جگہ سے خطبہ کے لئے اٹھنے کے بعد یہ سب حضرات صلاۃ اور کلام کو مکروہ سمجھتے ہیں ان حضرات کے قول سے بھی امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے۔ اس تمہید کو پیش نظر رکھ کر ذیل کی حدیثوں کو پڑھئے۔