Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

Funerals

Hadith 2000

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

In this book

Current reading

Funerals

Chapter on Visiting the Sick and the Reward of Illness

Zujajat al-Masabih 2000Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2331Noor 2332
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) مجھے آشوب چشم ہو گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آشوب چشم کی وجہ سے میری عیادت فرمائے۔ (اگرچہ کہ اور بیماریوں میں عیادت سنت مؤکدہ ہے جیسا کہ مرقات میں شرعۃ الاسلام بیہقی اور طبرانی کی ایک روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ تین بیماریاں ایسی ہیں جن کے لئے عیادت کرنا (سنت مؤکدہ) نہیں ہے (اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ان تین بیماریوں میں
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sunan Abi Dawud 3102 (unverified) 92% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

He visited me

(1) The statement: "He visited me" is understood to be from the non-mandatory Sunnah. The summary is that visiting is not obligatory in these cases, as it is discouraged. This is mentioned in Al-Mirqat.

Note 1

کے حوالے سے مذکور ہے مگر آشوب چشم میں جو عیادت کی گئی تھی وہ سنت مؤکدہ نہیں ہے۔) اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔ (آشوب چشم کی وجہ سے حضور جو عیادت فرمائے ہیں وہ مثل اور عیادتوں کے سنت مؤکدہ نہیں تھی اس لئے)۔

Note 2

عیادت کرنا ممنوع ہے بلکہ ان تین بیماریوں میں کوئی عیادت کرے تو جائز ہے، ہاں سنت مؤکدہ نہیں ہے، اسی وجہ سے آشوب چشم کے مرض کی حضور عیادت فرمائے ہیں وہ تین بیماریاں جن میں عیادت کرنا سنت مؤکدہ نہیں ہے بلکہ جائز ہے اور ممنوع نہیں ہے وہ یہ ہیں: آنکھ میں درد ہو یا آشوب چشم ہو یا داڑھ کا درد ہو۔ اسی لئے مرقات میں ازہار سے نقل کیا ہے کہ وہ تمام بیماریاں جن میں کوئی خوف کی بات نہ ہو، جیسے سر کا درد یا دمل وغیرہ ان کی بھی عیادت ممنوع نہیں ہے۔ سنت مؤکدہ بھی نہیں ہے بلکہ جائز ہے چاہیں تو کر سکتے ہیں، ان امراض میں بھی عیادت کرنے سے عیادت کا ثواب ملے گا۔)