ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ بھوکے کو کھانا کھلاؤ (یوں تو بھوکے کو کھانا کھلانا سنت ہے اور
اس میں بڑا اجر وثواب ہے مگر جو شخص ایسا بھوکا ہو کہ بھوک سے اس کی حالت تباہ ہو رہی ہو تو اس کو
کھانا کھلانا فرض ہے) اور بیمار کی بیمار پرسی کیا کرو (اس سے بیمار کو تسلی ہوتی ہے) اور اگر کوئی شخص
(روپیہ نہ ہونے کی وجہ سے قید ہو گیا ہو تو) تم روپیہ ادا کر کے اس کو قید سے چھڑاؤ (مثلاً قرض کی
ادائی نہ ہونے کی وجہ سے قید کر دیا گیا ہو تو تم اس کے قرض کی رقم ادا کر کے اس کو قید سے چھڑاؤ یا مثلاً
غلام باندی ہے کہ مالک نے ان پر کچھ رقم معین کر دی ہے کہ تم رقم لا دو تو تم کو غلامی سے رہا کر دیا
جائے گا تو تم وہ رقم دے کر اس کو آزاد کرا دو۔)
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہیں: (1) ایک حق تو
یہ ہے کہ اگر) کوئی سلام کرے تو اس کا جواب دینا (وہاں جو مسلمان ہیں ان پر فرض ہے) اگر کوئی
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1240 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2162a (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ایک ان میں سے سلام کا جواب دیدے تو سب کے ذمہ سے فرضیت ساقط ہو جاتی ہے اس لئے یہ
سلام کا جواب دینا فرض کفایہ ہے ایسا ہی آنے والے مسلمان پر بیٹھے ہوئے مسلمانوں کا حق ہے کہ یہ
آنے والا ان پر سلام کرے (آنے والے کا یہ سلام کرنا سنت ہے، مرقات میں مذکور ہے کہ یہ ایسی
سنت ہے جو جواب دینے کے فرض سے افضل ہے اور ثواب میں زیادہ ہے اس لئے کہ سلام کرنے
سے تواضع اور انکساری معلوم ہوتی ہے اور تکبر کی نفی ہوتی ہے) (2) (مسلمان کا مسلمان پر دوسرا حق
یہ ہے کہ) جب کوئی مسلمان بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کی جائے اور (3) مسلمان کا مسلمان پر تیسرا
حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ چلنا، کندھا دینا اور نماز کے بعد
بھی ساتھ جانا اور دفن تک ٹھہرنا (یہ سب ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر حق ہیں اور یہ سب فرض
کفایہ ہیں، چند لوگوں کے ادا کرنے سے سب کی طرف سے فرض کی ادائی ہو جاتی ہے کوئی گنہگار
نہیں ہوتا اگر کوئی مسلمان بھی ان کو ادا نہ کرے تو سب مسلمان گنہگار ہوں گے) (4) مسلمان کا
مسلمان پر چوتھا حق یہ ہے کہ اگر وہ دعوت دے (اور وہ دعوت کیسے ہی معمولی کھانے کی کیوں نہ ہو)
تو اس کی دعوت کو قبول کرے (اگر وہ دعوت ولیمہ کی دعوت ہے تو اس کا قبول کرنا سنت مؤکدہ ہے،
ولیمہ کے سوا دوسری دعوتوں کا قبول کرنا سنت مستحب ہے، اگر کسی عذر سے کوئی دعوت قبول نہیں کیا خواہ
ولیمہ کی ہو یا کوئی اور دعوت ہو تو خیر اور بات ہے اور اگر بغیر کسی عذر کے دعوت ولیمہ ہو یا کوئی اور
دعوت، اس میں شریک نہ ہوا تو وہ اس وعید کا مستحق ہوگا جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس
حدیث شریف میں ارشاد فرمائے ہیں ”وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللّٰهَ وَرَسُولَهُ“ جو
دعوت قبول نہیں کیا اور (بلا عذر) دعوت میں نہیں گیا تو اس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی
کی، اس لئے کہ وہ دعوت میں جاتا تو مسلمان کا دل خوش کرتا، دعوت میں نہ جا کر دعوت دینے والے
کا دل دکھایا اور اس کی ہتک کیا) (5) مسلمان کا مسلمان پر پانچواں حق یہ ہے کہ جب چھینکنے والا
چھینکے (اور آواز سے ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہے اور ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہنا سنت ہے اور دوسرے مسلمان پر
(اس کے جواب میں) ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یا ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ کہنا (واجب ہے اگر حاضرین
میں سے ایک بھی جواب میں ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یا ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ کہا تو سب کی طرف سے
ادائی ہوجائے گی۔) (اگر چھینکنے والا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ نہ کہے یا ایسا آہستہ کہے سنائی نہ دے تو
حاضرین میں سے کوئی چھینکنے والے کا جواب ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ یا ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ سے نہ
دیوے۔) (اگر چھینکنے والا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہے تو سنت کی ادائی تو ہو جاتی ہے مگر ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کے
ساتھ ”رَبِّ الْعَالَمِيْنَ عَلٰى كُلِّ حَالٍ“ پڑھنا ”الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ عَلٰى كُلِّ
حَالٍ“ کہے تو وہ ہمیشہ کے لئے داڑھ اور کان کے درد سے محفوظ رہے گا جیسا کہ مرقات میں حضرت
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مسلمان پر مسلمان کے چھ حق ہیں (احادیث میں مسلمانوں کے حقوق
کی جو مختلف تعداد مذکور ہوئی ہے وہ حصر کے لئے نہیں ہے، وحی سے جیسے جیسے معلوم ہوتا گیا حضور اس
تعداد کو ظاہر فرماتے گئے) صحابہ عرض کئے: حضور! وہ چھ حقوق کونسے ہیں؟ تو حضور ارشاد فرمائے:
سنو! مسلمان کا مسلمان پر (1) ایک حق تو یہ ہے کہ جب کسی مسلمان سے ملاقات ہو اس کو سلام
کرے (اگر خود وہ سلام کرے تو تم اس کا جواب دو) مسلمان پر مسلمان کا (2) دوسرا حق یہ ہے کہ اگر
وہ دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرو، اور مسلمان کا (3) تیسرا حق یہ ہے کہ (یوں تو ہر وقت مسلمان
کی خیر خواہی کرنا ضروری ہے مگر جب) وہ تم سے مشورہ کرے تو تم (پر واجب ہے کہ تم) اس کو خیر
خواہانہ مشورہ دو اور مسلمان کا (4) چوتھا حق یہ ہے کہ جب اس کو چھینک آئے اور وہ (آواز سے)
”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہے تو تم (پر واجب ہے کہ تم اس کو ”يَرْحَمُكَ اللّٰهُ“ کہہ کر جواب دیدو اور
مسلمان کا (5) پانچواں حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بیمار ہو تو تم اس کی بیمار پرسی کرو (ایک مرتبہ ہی
کیوں نہ ہو) اور مسلمان کا (6) چھٹا حق یہ ہے کہ جب وہ مر جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جا کر
اس کی نماز جنازہ پڑھو اور دفن تک جنازہ کے ساتھ رہو۔ مسلم نے روایت بیان کی ہے۔
5/2303-2304۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو سات کام کرنے کا حکم دیئے ہیں اور سات کام کرنے سے منع
فرمائے ہیں، جن سات کاموں کے کرنے کا حکم دیئے ہیں، وہ یہ ہیں:
(1) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو حکم دیئے ہیں کہ ہم بیمار کی بیمار پرسی کیا کریں (2) اور
جب کوئی مسلمان مر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جا کر نماز جنازہ ادا کریں (دفن کرنے میں
بھی شریک رہیں تو نہایت مناسب ہے) (3) اور جب چھینکنے والا چھینکے (اور آواز سے ”الْحَمْدُ
لِلّٰهِ“ کہے) تو اس کا جواب ”يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ“ سے دیں (4) جب کسی مسلمان سے ملاقات ہو (تو
اس کو سلام کریں اور اگر وہ سلام کرے) تو اس کے سلام کا جواب دیں (5) اگر کوئی مسلمان دعوت
دے تو اس کی دعوت قبول کریں (6) اگر کوئی مسلمان قسم کھائے تو اس کی قسم پوری کرنے کے لئے اس
مسلمان کی مدد کریں (مثلاً کوئی شخص قسم کھائے کہ میں یہاں سے نہیں اٹھوں گا جب تک آپ میرا
مقصد پورا نہ کر دیں اگر اس کا مقصد خلاف شریعت نہ ہو اور کوئی گناہ کا کام نہ ہو تو اس کا مقصد پورا
کر دو تا کہ اس کی قسم پوری ہو جائے، اگر اس کا مقصد پورا نہ کرو گے تو وہ انتظار کر کے اٹھ جائے گا
اس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور اس کو کفارہ دینا پڑے گا، ورنہ وہ گنہگار ہوگا اس لئے یہ نوبت نہ آنے دو)
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی حکم دیئے ہیں کہ اگر کسی پر ظلم ہو رہا ہو (تو جس طرح تم سے
ہو سکے) اس کی مدد کرو (اگر زبان سے مدد کی جائے تو اس سے ظلم دور ہو سکتا ہو تو زبان سے مدد کرو،
اگر اس مظلوم کا ظلم ہاتھ سے مدد کرنے سے دور ہو سکتا ہو تو ہاتھ سے مدد کرو، بہرحال کسی طرح اس
مظلوم کو ظلم سے بچاؤ)۔
اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن سات کاموں کے کرنے سے منع فرمائے ہیں، وہ یہ ہیں:
(1) (مرد کو چاہئے کہ) سونے کی انگوٹھی نہ پہنا کرے (اس لئے کہ مرد کو سونا پہننا حرام ہے،
ہاں عورتیں سونے کی انگوٹھی پہن سکتی ہیں، ان کو سونا پہننے کی اجازت ہے) (2) (مرد کو چاہئے کہ) وہ
کسی قسم کا ریشمی کپڑا نہ پہنے اور نہ استعمال کرے جس کا تانا یعنی کھڑا (الانا بانا) اور بانا (یعنی آڑا تار)
ریشم کا ہو (ایسا ہی وہ کپڑا بھی نہ پہنے اور نہ استعمال کرے جس کا تانا سوت کا ہو اور بانا ریشم کا ہو، اس
لئے کہ کپڑے کی تکمیل بانے سے ہوتی ہے، ہاں اگر تانا ریشم کا ہو اور بانا سوت کا جیسے مشرو ع تو یہ مرد کو
بھی جائز ہے۔ بخلاف اس کے عورتوں کو ہر قسم کا ریشمی کپڑا پہننا اور استعمال کرنا جائز ہے، یوں تو مرد کو
ہر قسم کا ریشمی کپڑا حرام ہے خاص کر (3) استبرق جو ریشم کا بنا ہوا دبیز کپڑا ہوتا ہے، ایسا ہی (4)
دیباج بھی مرد کے لئے حرام ہے جو باریک ریشمی تاروں کا مہین کپڑا ہوتا ہے (جیسے ریشمی لباس پہننا
مرد کو حرام ہے) ایسے ہی (5) زین پوش یعنی چار جامہ جو ریشم سے بنایا گیا ہو، اس پر بیٹھنا حرام ہے
(خواہ کسی رنگ کا ہو اور حدیث شریف میں سرخ رنگ کا جو ذکر ہے وہ عام رواج کے اعتبار سے ہے،
بخلاف اس کے چار جامہ ریشم کا نہ ہو بلکہ سوت کا ہو تو اس پر بیٹھنا جائز ہے، اگر چار جامہ سوت کا ہو مگر
سرخ رنگ کا ہو تو اس پر بیٹھنا مکروہ ہے اس وجہ سے کہ عجمیوں کی عادت ہے کہ ریشمی چار جامہ اور
سوت کے سرخ چار جامہ پر بیٹھتے ہیں جس سے رعونت اور تکبر ظاہر ہوتا تھا اس وجہ سے اس طرح کے
چار جامہ سے بھی منع کیا گیا)۔ (6) ایسے ہی مرد کو قسی کا کپڑا پہننا بھی حرام ہے جو مصعولی اور ردی قسم
کے ریشم سے بنایا جاتا ہے (عورتیں جس قدر چاہیں سونے اور چاندی کا زیور پہن سکتی ہیں، عورتوں
کے لئے سونا اور چاندی پہننا جائز ہے مگر استعمال کا جو سامان ہے مثلاً برتن یا آئینہ یا سرمہ دانی اور
سلائی یا پاندان وغیرہ ان کا استعمال کرنا جیسے مردوں کو حرام ہے ایسے ہی عورتوں کے لئے بھی حرام
ہے) (7) سونے اور چاندی کے برتن میں کھانا بھی حرام ہے (غرض مرد ہوں یا عورتیں چاندی
سونے کے کسی سامان کو استعمال نہ کریں) جو دنیا میں چاندی یا سونے کے برتنوں میں کھائے گا (تو
جب اور مسلمانوں کو آخرت میں چاندی اور سونے کے برتن ملیں گے) تو ایسے شخص کو جو دنیا میں
چاندی سونے کے برتنوں میں کھایا پیا ہے وہ ان برتنوں سے محروم ہوگا۔
(اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے)۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک یہودی لڑکا حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا (ایک دفعہ) وہ بیمار ہو گیا، اس (یہودی) لڑکے کی بیمار پرسی
کرنے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے گھر تشریف لے گئے اس بیمار لڑکے کے
سرہانے بیٹھے اور ارشاد فرمایا کہ (اے لڑکے تو نے میری بہت خدمت کی ہے میں چاہتا ہوں کہ تُو
مرنے کے بعد آرام سے رہے اس لئے) تُو مسلمان ہو جا! اس وقت لڑکے کا باپ اس کے پاس
موجود تھا، لڑکا اپنے باپ کی طرف (مشورہ لینے کے لئے) دیکھنے لگا، باپ نے کہا (اچھا بیٹا) ابو
القاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو فرما رہے ہیں اس کو سن لو اور مسلمان ہو جاؤ، چنانچہ وہ لڑکا مسلمان ہوگیا
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے گھر سے یہ فرماتے ہوئے باہر نکلے کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس
نے لڑکے کو دوزخ سے بچا لیا۔
(اس کی روایت بخاری نے کی ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1356 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 5657 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
So the boy embraced Islam
(1) The statement: "So the boy embraced Islam" supports the view of Imam Abu Hanifah, who holds that the Islam of a child is valid. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
قوله
(۱) قوله : فأسلم إلخ : ظاهر الحديث يُؤيد مذهب الإمام أبي حنيفة حيث يقول بصحة إسلام الصبي. كذا في «المرقاة».
Note 1
ف: اس حدیث شریف سے کئی مسائل معلوم ہوئے، ایک مسئلہ تو یہ ہے جیسا کہ عمدۃ القاری
میں لکھا ہے کہ کافر سے خدمت لینا جائز ہے، ایسا ہی نابالغ بچے سے بھی خدمت لینا جائز ہے، اس حدیث
شریف سے دوسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا جیسا کہ مرقات اور بستان فقیہ ابواللیث میں مذکور ہے کہ ذمی کافر
بیمار ہو تو اس کی بیمار پرسی کے لئے جانا جائز ہے اور خزانۃ الفتاوی میں مذکور ہے کہ یہودی، مجوسی اور
فاسق کی بیمار پرسی کے لئے جانا جائز ہے، اور اس کے جواز پر فتوی ہے اور تیسرا مسئلہ یہ ہے جو مرقات
میں مذکور ہے کہ بیمار کے پاس بیمار پرسی کے لئے جانے والے کے لئے مستحب یہ ہے کہ وہ بیمار کے
سرہانے بیٹھ کر بیمار پرسی کرے، اس حدیث سے چوتھا مسئلہ یہ معلوم ہوا جو عمدۃ القاری اور مرقات میں
مذکور ہے کہ بچہ کا اسلام لانا صحیح ہے، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دوزخ سے نجات
ملنے کی خوشخبری دیئے، اگر بچہ کا اسلام لانا صحیح نہ ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو اسلام لانے کے
لئے نہ فرماتے، اور اس کے اسلام لانے کے بعد نجات کی خوشخبری نہ دیتے، بچہ کا اسلام لانا صحیح ہونے
کی تائید حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اسلام سے ہوتی ہے کہ آپ بھی بچپن ہی میں اسلام قبول فرمائے
تھے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا یہی مذہب ہے جس کی تائید مذکورہ واقعات سے ہوتی ہے۔12
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ بیمار کے پاس جب
بیمار پرسی کے لئے جائیں تو بیمار پرسی کے آداب کے منجملہ یہ ہے کہ بیمار کے پاس تھوڑی دیر بیٹھ کر جلد
اٹھ جائیں دیر تک بیمار کے پاس نہ بیٹھیں اور بیمار کے پاس شور و غل نہ ہونے دیں (اس لئے کہ بیمار
بیماری کی تکلیف میں مبتلا رہتا ہے اس کے پاس اس طرح کے حرکات کرنے سے اس کی تکلیف میں
اور اضافہ ہو جاتا ہے اور بیمار کو بہت سی ضرورتیں درپیش ہوتی ہیں، زیادہ دیر تک بیمار کے پاس بیٹھنے
سے بیمار کو اپنی ضرورتیں روکے رکھنا پڑتا ہے اس سے بھی اس کو تکلیف ہوتی ہے۔) (ابن عباس رضی
اللہ عنہما نے یہ بھی فرمایا ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار تھے اور آپ کی بیماری نے شدت
اختیار کی تھی، ایسے وقت میں ایک معاملہ پیش آیا آہستہ آہستہ گفتگو ہوتی رہی اور جب گفتگو بہت
طویل ہوئی تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: آپ لوگ اس وقت میرے پاس سے
چلے جائیں (آئندہ احتیاط رکھیں کہ بیمار کے پاس زیادہ دیر تک نہ بیٹھیں اور نہ بیمار کے پاس طویل
گفتگو کریں۔) اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (مسلمانو! بیمار کے پاس جب بیمار پرسی کے لئے جاؤ تو تھوڑی دیر ٹھہر کر فوراً
اٹھ جایا کرو، تھوڑی دیر کی مقدار اس طرح سمجھو کہ اونٹنی کا جب دودھ دوہتے ہیں تو بہت تھوڑی دیر
وقفہ کر کے بقیہ دودھ دوہ لیا کرتے ہیں (دونوں دودھ دوہنے کے درمیان میں وقفہ چند لمحوں کا ہوتا ہے
بس بیمار کے پاس بیمار پرسی کرنے کے لئے چند لمحہ ٹھہرنا چاہئے زیادہ دیر ٹھہر کر بیمار کو تکلیف نہ دو۔)
اور سعید بن المسیب رضی اللہ عنہ کی روایت میں اس طرح مروی ہے کہ بیمار
پرسی کے لئے جب بیمار کے پاس جائیں تو افضل یہ ہے کہ کچھ بیٹھے نہ بیٹھے کہ فوراً اٹھ کھڑے
ہو جائیں۔ اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ایک صاحب کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے گئے تھے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان
سے فرمائے: تمہارا دل کیا کھانا چاہتا ہے؟ تو وہ صاحب عرض کئے: حضور! میرا دل گیہوں کی روٹی
کھانا چاہتا ہے تو حضور فرمائے: اگر میرے پاس گیہوں کی روٹی ہوتی تو میں خود بھیجتا، صاحبو! تم میں
سے بھی ہر ایک کے پاس گیہوں کی روٹی نہیں ہوگی اس لئے کہ ہماری زاہدانہ زندگی ہے) اگر کسی کے
پاس گیہوں کی روٹی ہو تو وہ اس کو اپنے اس بیمار بھائی کے پاس بھیج دے (اس لئے کہ اگر کسی مریض کو
یقیناً کوئی چیز مضر ہو تو یہ اور بات ہے خواہ مخواہ مریض کو سخت پرہیز نہیں کرانا چاہئے بعض وقت مریض کو
اس کی خواہش کے موافق کھلا دیا جائے تو یہ اس کی صحت کا ذریعہ ہو جاتا ہے اور بعض وقت مریض
قریب المرگ ہوتا ہے اس کو پرہیز کرانے سے کیا فائدہ، اس کو اس کی خواہش کے موافق کھلا دینا
چاہئے تا کہ موت سے پہلے اس کی خواہش پوری ہو جائے اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمائے ہیں کہ: جب تمہارا کوئی بیمار کسی چیز کی خواہش کرے تو تم اس کو وہ چیز کھلا کر اس کی
خواہش پوری کر دو۔ (اس حدیث کا ترجمہ مرقات اور اشعۃ اللمعات کے موافق کیا گیا ہے۔)
اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم بیمار تھے یہ وہی بیماری تھی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے
گئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے باہر تشریف لائے، لوگ آپ
کی بیماری کی وجہ سے بہت بے چین تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لوگ دریافت کئے: اے
ابوالحسن! فرمایئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے ہیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ خیال فرمائے کہ:
اصلی کیفیت تو طبیب سے کہنا چاہئے عوام کو کہنے سے کیا فائدہ اس لئے) حضرت علی رضی اللہ عنہ
(لوگوں سے) فرمائے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی نعمت شامل حال رہتی ہے، الحمدللہ حضور کا جو حال ہے
وہ بہتر ہے (ایسا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ فرما کر تعلیم دے رہے
ہیں کہ مریض کی حالت جب دریافت کی جائے تو ایسے ہی بیان کرنا چاہئے، جیسے میں بیان کیا
ہوں۔) اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب ایک مسلمان اپنے بھائی مسلمان کی بیمار پُرسی کو جاتا ہے تو اس کی
بیماری سے واپس آنے تک (اپنے کو سمجھے کہ میں جنت میں ہوں اور) جنت میں میوہ خوری کر رہا ہوں
(اس سے مراد یہ ہے کہ بیمار پُرسی کرنے والا جنت کا مستحق ہو جاتا ہے، یہ ہے خدا کی دَین کہ ذرا سے
نیک کام پر اتنا بڑا ثواب عطا فرماتے ہیں۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جو مسلمان صبح کے وقت کسی مسلمان مریض کی
بیمار پرسی کرتا ہے تو اس کے لئے ستر ہزار فرشتے شام تک دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں اور جو
مسلمان شام کے وقت کسی مریض کی بیمار پرسی کرتا ہے تو اس کے لئے صبح ہونے تک ستر ہزار فرشتے
دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں، اور بیمار پرسی کرنے والے کے لئے جنت میں ایک باغ تیار کیا جاتا
ہے۔ اس کی روایت ترمذی اور ابوداؤد نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائیں گے:
اے ابن آدم! میں بیمار ہوا تھا تو نے میری بیمار پرسی نہیں کی، بندہ عرض کرے گا: پروردگار!
میں کیسے آپ کی عیادت کرتا آپ رب العالمین ہیں (ایک لحظہ آپ عالم سے غافل نہیں ہوسکتے ہیں
،اگر آپ بیمار ہو جائیں تو عالم کی نگرانی نہیں ہوسکتی اس لئے نہ آپ بیمار ہوسکتے اور نہ میں آپ کی
بیمار پرسی کرسکتا) اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: کیا تو نہیں جانتا تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا اور تو نے
اس کی عیادت نہیں کی، اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے ضرور اس کے پاس پاتا (اور میں تجھ پر رحمت
کرتا اور تجھ سے راضی ہو جاتا) ابن آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو نے مجھے کھانا نہیں کھلایا، بندہ
عرض کرے گا: پروردگار! میں آپ کو کیسے کھانا کھلا سکتا تھا، حالانکہ آپ سارے عالم کے پرورش
کرنے والے ہیں (سب کو آپ ہی کھلاتے ہیں اور آپ نہیں کھاتے ہیں) اللہ تعالیٰ فرمائیں
گے: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگا تھا اور تو نے اس کو کھانا نہیں
کھلایا، اگر تو اس کو کھانا کھلا دیا ہوتا تو ضرور اس کھلانے کا ثواب میرے پاس پاتا، ابن آدم! میں نے
تجھ سے پانی مانگا مگر تو نے مجھے پانی نہیں پلایا، بندہ عرض کرے گا پروردگار! میں آپ کو کیسے پانی پلاتا
حالانکہ آپ رب العالمین ہیں (کسی چیز کے آپ محتاج نہیں ہیں، سب آپ ہی کے محتاج ہیں) اللہ
تعالیٰ فرمائیں گے: میرے فلاں بندہ نے تجھ سے پانی مانگا تو نے اس کو پانی نہیں پلایا سن! اگر تو اس
کو پانی پلایا ہوتا تو اس پانی پلانے کا ثواب میرے پاس پاتا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: جو شخص (محض ثواب کے نیت سے) کسی بیمار کی بیمار پرسی کرتا ہے تو
اس کے لئے آسمان کا ایک فرشتہ یہ ندا دیتا ہے (اے بیمار پرسی کرنے والے) تو بڑا خوش نقدیر ہے
(دنیا میں بھی بیمار پرسی کرنے کی وجہ سے تجھے بھلائی دی جائے گی اور آخرت کا کیا پوچھنا کہ بہتر سے
بہتر بھلائی تیرے لئے رکھی گئی ہے اور بیمار پرسی کے لئے جو قدم تو اٹھایا ہے اس سے تو یہ نہ سمجھنا کہ
تو نے دنیا کا راستہ طے کیا ہے بلکہ) مبارک ہو تجھ کو کہ تو نے جنت کے مراتب اور درجات طے کرتا
چلا گیا ہے، تو نے بیمار پرسی کیا کی ہے کہ بیمار پرسی کے صلہ میں جنت میں تو نے اپنا گھر بنا لیا ہے۔
اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: جو شخص اچھی طرح سنن اور مستحبات کی پابندی کے ساتھ وضوء کرے
اور محض ثواب کی نیت سے اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کرے تو وہ شخص (عیادت کی وجہ سے)
دوزخ سے بہت دور ہوگا جس کی مسافت ساٹھ سال کی ہوگی۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3097 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں وضوء کر کے عیادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس لئے کہ عیادت
عبادت ہے اور عبادت وضوء کے ساتھ ہو تو کامل اور افضل ہوتی ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جب
عیادت کو جائے گا تو وہاں مریض کے لئے دعا کرے گا اور دعا باوضوء ہو تو جلد قبول ہوتی ہے اس لئے
باوضوء عیادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسی لئے باوضوء عیادت کرنا سنت ہے۔ مرقات
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ: جب کوئی شخص کسی بیمار کی بیمار پرسی کے لئے چلتا ہے تو وہ بیمار کے پاس
جا کر بیٹھنے تک رحمت الٰہی کی دریا میں تیرتا ہوا جاتا ہے اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھ جاتا ہے تو رحمت
الٰہی کی دریا میں غرق ہو جاتا ہے۔
اس کی روایت امام مالک اور امام احمد نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ایک شخص کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے گئے وہ شخص جنگل اور کھیتوں میں رہنے والا
تھا (تہذیب اور گفتگو کے آداب سے بے خبر تھا) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ
جب آپ کسی مریض کی عیادت کے لئے تشریف لے جاتے تو ”لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ
اللّٰهُ“ (تم اس بیماری سے گھبراؤ نہیں، یہ بیماری مہلک نہیں ہے بلکہ) تمہارے گناہوں کو پاک کرنے
والی ہے ”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ“! فرمایا کرتے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حسب معمول اس دیہاتی آدمی سے بھی یہی فرمائے تو (اس
دیہاتی نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کی کچھ قدر نہ کی، اپنے اکھڑ پن سے) کہنے لگا:
حضور! (آپ تو فرماتے ہیں کہ یہ بیماری مہلک نہیں مگر) مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ بیماری اس
بڑھے کو قبر میں پہنچا کر رہے گی، دیکھئے ایک بڑھے ناتواں کو کس قدر بخار ہے (دیگ کی طرح)
تمام جسم کو ابال رہا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دیہاتی کو یہ کہتے ہوئے سن کر فرمائے (تم نے
خدا کی نعمت کا کچھ شکر ادا نہ کیا) پھر تو اچھا ایسا ہی ہوگا جیسا تم کہہ رہے ہو۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم کسی بیمار کی بیمار پرسی کو جاؤ (اس سے ایسے الفاظ کہو جن
سے اس کا دل خوش ہوجائے مثلاً یوں کہو) کہ اللہ تعالیٰ تمہاری عمر دراز کرے (کوئی فکر کی بیماری نہیں
ہے اللہ تعالیٰ تم کو صحت دے ایسے دل خوش کن الفاظ کہنے سے مریض کا دل خوش ہوجاتا ہے۔) رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ تمہارے اس طرح کہنے سے تقدیرِ الٰہی تو نہیں بدل سکتی (جو
ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا) لیکن اس سے بیمار کا دل خوش ہوجائے گا (اور بعض وقت اس سے اس کی
بیماری میں بھی تخفیف ہوجاتی ہے اور بیمار کو بیماری کی تکلیف کم محسوس ہوتی ہے۔
اس حدیث کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ایک صاحب کی بیمار پرسی کے لئے تشریف لے گئے (جو بخار میں مبتلا تھے) حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمائے (سنو! بخار کو تم سمجھے کہ یہ کیا ہے؟) میں تم کو خوش خبری دیتا ہوں سنو!
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ بخار میری آگ ہے جس کو دنیا ہی میں اپنے بندۂ مومن پر مسلط
کردیتا ہوں تاکہ قیامت کے دن اپنے گناہوں کے بدلے میں آگ میں جھونکے جانے سے بچ
جائے۔ (دنیا ہی میں یہ بخار جو مثل آگ کے ہے دوزخ کی آگ کا بدل ہوجائے، اور آخرت میں
یہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رہے۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے اور بیہقی نے بھی اس کی روایت شعب
الایمان میں کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب ہم میں سے کوئی بیمار ہوجاتا تو
حضور اپنا سیدھا ہاتھ بیمار پر پھیرتے، اور یہ دعا پڑھتے: أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ
اے لوگوں کے پروردگار (پرورش بھی آپ ہی کرتے ہیں، صحت بھی آپ ہی دیتے ہیں)
آپ ہی (اس بیماری کی) بیماری کو دور کیجئے (اس بیمار کو) بیماری سے شفاء دیجئے، آپ ہی شافی ہیں،
شفاء آپ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے، آپ کے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں، اس مریض کو ایسی
شفاء عطا فرمائیے کہ کوئی بیماری باقی نہ رہے۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی مریض کے پاس عیادت کو جائے تو اس کو
اس مریض کے پاس یہ دعا پڑھنی چاہئے: ”اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ يَنْكَأَ لَكَ عَدُوًّا أَوْ
الٰہی اس بیمار کو شفاء دیجئے (تا کہ یہ آپ کے دین کی مدد کرے) آپ کے دین کے مخالف
(جو کفار) ہیں ان سے جہاد کرے (اور مسلمانوں کی ہمدردی کرے) ان کے جنازے کے ساتھ
جائے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ جب کسی شخص کے بدن کے کسی حصہ میں کوئی بیماری لاحق ہو جاتی تو کسی کو پھوڑا ہوتا یا کوئی زخم
ہو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی (شہادت کی انگلی پر اپنا مبارک تھوک لیتے اور اس کو زمین
پر رکھتے، جس سے تھوک میں مٹی مل جاتی تھی، یہ مٹی ملی ہوئی تھوک کی) انگلی کو (بیماری کی اس جگہ پر)
رکھتے (جہاں کوئی درد ہو یا پھوڑا ہو یا زخم ہو، اور اس جگہ پر) ملتے ہوئے یہ دعا پڑھتے: ”بِسْمِ اللَّهِ
اللہ تعالیٰ کے نام (کی برکت) سے ہماری سرزمین کی یہ مٹی ہم میں سے کسی کے تھوک کے
ذریعہ ہمارے بیمار پر یا اس بیمار کے زخم پر یا اس کے پھوڑے پر جو ملی جا رہی ہے الٰہی اس بیمار کو)
آپ کے حکم سے شفاء ہو جائے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2194a (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 5745 (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اب رہی یہ بات کہ حدیث شریف میں تھوک کو مٹی سے ملا کر یہ جو علاج کیا گیا ہے وہ ایسے
اسرار میں سے ہے جن کا سمجھنا ہماری عقلوں سے باہر ہے جیسے حضور عمل کئے ہیں، ایسے ہی عمل کرو،
اور اللہ تعالیٰ سے شفاء کی امید رکھو جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، آپ فرماتی
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارک یہ تھی کہ جب آپ بیمار ہوتے
تو ”مُعَوِّذَات“ یعنی سورہ ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ“، سورہ ”قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ“ (اور
ان دونوں کے پہلے) ”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ (ان چاروں سورتوں
کو) پڑھ کر اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونکتے اور دونوں ہاتھوں کو جہاں تک پہنچ سکے اپنے جسم پر مل
لیتے تھے (حدیث شریف میں معوذات جو جمع کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ”قُلْ
اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح مذکور ہے، ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ
جب گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوجاتا تو حضور معوذات پڑھ کر بیمار پر دم کردیا کرتے تھے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5016 (unverified) 97% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2192a (unverified) 97% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ“ اور ”قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ“ کو بھی معوذات میں شریک کر کے معوذات جمع کا لفظ
استعمال کیا گیا ہے اگرچہ کہ سورہ کافرون اور سورہ اخلاص میں تعوذ کا ذکر نہیں ہے، مگر سورہ فلق اور
سورہ ناس میں تعوذ کا ذکر ہونے سے ان دونوں سورتوں کو تغلیباً یعنی غالب کر کے سورہ کافرون اور
سورہ اخلاص کو ضمنی طور پر معوذات میں شریک کیا گیا ہے، جیسا کہ عسقلانی سے مرقات میں مذکور
ہے۔) حضرت ام المؤمنین فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس بیماری سے بیمار ہوئے
جس میں آپ دنیا سے تشریف لے گئے (تو حضور کو معلوم ہو گیا کہ آپ اس بیماری میں دنیا سے
تشریف لے جائیں گے، اس لئے آپ خود معوذات حسب عادت نہ پڑھتے اور نہ اپنے پر پھونک
لئے مجھے حضور کی صحت کی یہ فکر تھی اس لئے) میں انہیں معوذات کو خود پڑھتی تھی اور حضور کے
ہاتھوں پر پھونک کر حضور کے ہاتھوں کو ہی حضور کے جسم پر ملا کرتی تھی (تاکہ حضور کے ہاتھوں کی
برکت سے اور ان معوذات کے پڑھنے سے حضور کو جلد صحت ہو جائے)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Note 2
(مسلم کی اس روایت سے معلوم ہوا کہ معوذات کو پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر دم کرکے مریض کے
جسم پر ملے بغیر صرف مریض کے جسم پر پھونک دینا بھی کافی ہے۔)
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی گئی ہے کہ انھوں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: حضور میرے جسم کے فلاں حصہ میں درد رہتا ہے (حضرت
عثمان بن ابی العاص جسم کے جس حصہ میں درد تھا اس کی صراحت نہیں کئے اس لئے کہ صراحت
کرنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا) ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ: تمہارے جسم کے
جس حصہ میں درد ہورہا ہے اس حصہ پر ہاتھ رکھ کر تین دفعہ بسم اللہ کہو، اور سات دفعہ ”أَعُوذُ بِعِزَّةِ
اللّٰهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ وَأُحَاذِرُ“ بھی کہو (اس دعا کا ترجمہ یہ ہے کہ الٰہی ہر چیز پر آپ
غالب ہیں کوئی چیز آپ کی قدرت سے باہر نہیں ہے مجھے یہ درد بہت ستا رہا ہے اس لئے میں آپ کی
عزت اور قدرت کی پناہ میں آکر دعا کرتا ہوں کہ جس درد کو میں پا رہا ہوں اور ڈر رہا ہوں کہ یہ درد
اور زیادہ نہ ہوجائے اس درد کے شر سے مجھے بچائیے اور یہ درد مجھ سے دور کردیجئے۔) حضرت عثمان
بن ابی العاص کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی تعمیل کی، کیا کہوں! حضور
کے یہ سکھلائے الفاظ میں کیا اثر تھا جیسے ہی میں یہ الفاظ ادا کیا، اللہ تعالیٰ میرے سارے درد کو دور
کردیا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دن)
جبرئیل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے (اور آپ کو کچھ بیمار پائے) تو
فرمائے: یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا مزاج کیسا ہے؟ کیا آپ بیمار ہیں؟ حضرت صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم فرمائے: ہاں (میں بیمار ہوں) تو جبرئیل علیہ السلام (بیماری دور ہونے کے لئے) یہ دعا
اللہ تعالیٰ کا نام لے کر آپ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہر ایذا دینے والی چیز
سے محفوظ رکھے، ہر شخص کے شر سے اور حاسد کی نظر بد سے آپ کو بچائے، اور اللہ تعالیٰ آپ کو شفاء
عطا فرمائے، الٰہی میں آپ کے نام سے پھر دعا کرتا ہوں کہ حضور ہر مرض سے محفوظ رہیں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن اور
حضرت حسین جب بچے تھے تو ان کی حفاظت کے لئے ذیل کے الفاظ فرما کر (ان دونوں
صاحبزادوں) کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی پناہ میں دیتے تھے وہ الفاظ یہ تھے:
(حسن اور حسین) تم دونوں کو میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ (یعنی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ اور
آسمانی کتابیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئیں ہیں اور جو ہر قسم کے نقصان سے پاک ہیں ان)
کی حفاظت میں دیتا ہوں ہر (سرکش ضرر رساں جنات اور انسان اور) شیطان (کے شر) سے اور ہر
موذی (زہریلے) جانور (کے شر سے بھی اور ہر نظر بد (کے) شر سے بھی (جو طرح طرح کے نقصان
پہنچاتی ہے۔)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرماتے تھے (بیٹا! حسن و حسین جیسے میں تم دونوں کی حفاظت
کے لئے مذکور الصدر دعاء پڑھا کرتا ہوں) تمہارے باپ (حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی حضرت
اسمعیل اور حضرت اسحق علیہما السلام (کی تمام آفات سے حفاظت) کے لئے یہی دعاء پڑھا کرتے
تھے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: اگر کوئی مسلمان کسی مسلمان کی بیمار پرسی کے لئے جا کر اس کے
پاس بیٹھ کر ذیل کی دعاء سات مرتبہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس بیمار کو ضرور اس بیماری سے شفاء عطاء
فرمائیں گے ہاں اگر اس شخص کی موت ہی آ گئی ہو تو وہ اور بات ہے۔ (موت کا وقت ٹل نہیں سکتا)
وہ مذکورہ دعاء یہ ہے: اَسْأَلُ اللّٰهَ الْعَظِيمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ اَنْ يَّشْفِيَكَ ۔
(بیمار کی طرف متوجہ ہو کر کہے) بڑی عظمت والے خدا سے جو عرش عظیم کا رب ہے درخواست
کرتا ہوں کہ وہ تم کو (تمہارے اس مرض سے جلد) شفاء دے۔
اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم بخار اور تمام دردوں کے لئے مریض کو اور مریض کی عیادت کرنے والوں کو ذیل کی دعاء
سکھایا کرتے تھے کہ مریض بھی اور عیادت کرنے والے بھی اس دعاء کو پڑھا کریں (وہ دعاء یہ ہے):
(اگر کوئی بیمار یہ دعاء پڑھے تو یہ نیت کرے کہ) میں بڑی شان والے اللہ کے نام کی برکت
سے عظمت والے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں (اور اگر کوئی عیادت کرنے والا اس دعا کو پڑھنا چاہے تو وہ
اس دعاء کو اس نیت سے پڑھے کہ) میں بڑی شان والے اللہ کے نام کی برکت سے اس بیمار کو عظمت
والے اللہ کی پناہ میں دیتا ہوں، ہر رگ کے شر سے جس میں خون جوش مار رہا ہو (جو سبب بنتا ہے بخار
کا اور سارے دردوں کا اور بخار کی حرارت جو کہ نمونہ ہے) دوزخ کی آگ کا (اس سے اللہ تعالیٰ
مریض کو بچائے۔) اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جو شخص خود بیمار ہو یا اس کا کوئی دوست بیمار ہو گیا ہو تو
ذیل کی دعاء خود بیمار پڑھے یا بیمار پرسی کے لئے جانے والا بیمار کے پاس بیٹھ کر پڑھے (اور وہ دعاء یہ
ہے):
(ہمارا پروردگار وہ ہے کہ جس کی بلاشرکت غیر آسمانوں میں عبادت کی جاتی ہے، ایسا ہی زمین
میں بھی اس کی عبادت ہوتی ہے مگر معبودان باطل بھی زمین پر عبادت میں شریک کر لئے جاتے ہیں
اس طرح آسمانوں میں نہیں ہے، اس لئے کہا گیا ہے کہ) ہمارا پروردگار تو وہ ہے جو آسمانوں میں ہے
(آپ کی ذات کی طرح) آپ کا نام بھی (اس طرح پاک ہے کہ جو آپ کا نام لیتا ہے اس کا دل بھی
پاک ہو جاتا ہے) آپ کی حکومت جیسے آسمانوں میں ہے، ویسے زمین پر بھی ہے (مگر آسمان والے
گناہوں سے پاک ہونے کی وجہ سے آپ کی رحمت خاص ان ہی پر ہے، اگرچہ زمین والے گناہوں
کی وجہ سے آپ کی رحمت کے مستحق نہیں ہیں مگر محض اپنے فضل و کرم سے) آپ زمین والوں پر بھی
اپنی رحمت نازل کیجئے، ہمارے کبیرہ گناہوں کو اور ہماری خطاؤں کو معاف کر دیجئے (تاکہ ہم آپ کی
رحمت کے مستحق ہو جائیں اور گناہ معاف ہونے کی وجہ سے ہمارا شمار بھی پاک لوگوں میں ہو جائے)
آپ پاکوں کے پروردگار ہیں اگر ہم پر آپ کا فضل و کرم ہو جائے تو ہم بھی پاک ہو جاتے ہیں، جیسے
آپ کی رحمت پاکوں پر ہے، ایسا ہی ہم پر بھی آپ کی رحمتوں میں سے رحمت نازل ہو اور (گناہوں
کی شامت سے ہم بیماریوں میں مبتلا ہو گئے ہیں جب آپ ہمارے گناہ معاف کر دیتے ہیں تو آپ
جو شفا عنازل فرماتے ہیں اس میں سے ہمارے مریض کی) اس تکلیف (اور مرض) پر بھی شفاء نازل
فرمائیے۔ (تاکہ ہمارا مریض صحتیاب ہو جائے۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں
کہ) اس طرح (دعاء کرنے) سے بیمار کو شفاء ہو جائے گی۔
اس حدیث کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (ایک دفعہ) مجھے
آشوب چشم ہو گیا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آشوب چشم کی وجہ سے میری عیادت
فرمائے۔ (اگرچہ کہ اور بیماریوں میں عیادت سنت مؤکدہ ہے جیسا کہ مرقات میں شرعۃ الاسلام
بیہقی اور طبرانی کی ایک روایت میں مرفوعاً مروی ہے کہ تین بیماریاں ایسی ہیں
جن کے لئے عیادت کرنا (سنت مؤکدہ) نہیں ہے (اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ ان تین بیماریوں میں
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 3102 (unverified) 92% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
He visited me
(1) The statement: "He visited me" is understood to be from the non-mandatory Sunnah. The summary is that visiting is not obligatory in these cases, as it is discouraged. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
کے حوالے سے مذکور ہے مگر آشوب چشم میں جو عیادت کی گئی تھی وہ سنت مؤکدہ نہیں ہے۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابوداؤد نے کی ہے۔
(آشوب چشم کی وجہ سے حضور جو عیادت فرمائے ہیں وہ مثل اور عیادتوں کے سنت مؤکدہ نہیں
تھی اس لئے)۔
Note 2
عیادت کرنا ممنوع ہے بلکہ ان تین بیماریوں میں کوئی عیادت کرے تو جائز ہے، ہاں سنت مؤکدہ نہیں
ہے، اسی وجہ سے آشوب چشم کے مرض کی حضور عیادت فرمائے ہیں وہ تین بیماریاں جن میں عیادت
کرنا سنت مؤکدہ نہیں ہے بلکہ جائز ہے اور ممنوع نہیں ہے وہ یہ ہیں: آنکھ میں درد ہو یا آشوب چشم
ہو یا داڑھ کا درد ہو۔ اسی لئے مرقات میں ازہار سے نقل کیا ہے کہ وہ تمام بیماریاں جن میں کوئی خوف
کی بات نہ ہو، جیسے سر کا درد یا دمل وغیرہ ان کی بھی عیادت ممنوع نہیں ہے۔ سنت مؤکدہ بھی نہیں ہے
بلکہ جائز ہے چاہیں تو کر سکتے ہیں، ان امراض میں بھی عیادت کرنے سے عیادت کا ثواب ملے گا۔)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ: (مصیبتیں ہمیشہ گناہوں کی وجہ سے ہی نہیں آیا کرتی ہیں، کبھی ایسا
بھی ہوتا ہے کہ) جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتے ہیں تو اس پر مصیبتیں اتارتے
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 5645 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ہیں (کبھی مال کا نقصان ہوتا ہے کبھی اولاد کی وجہ سے پریشانی آتی ہے اور کبھی خود اس پر آفتیں آتی
ہیں، اس کی وجہ سے اس کو گناہوں سے پاک کرتے ہیں اور اس کے درجے بلند کرتے ہیں، اے
مصیبت زدہ جب تجھ پر مصیبتیں آئیں تو گھبرانا نہیں، بہت استقلال کے ساتھ برداشت کئے
جانا، اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ راضی اور خوش رہنا، پھر دیکھ کیسے تجھ پر خدا کی مہربانی ہوتی ہے تجھے گناہوں
سے پاک کرتے ہیں اور آخرت میں بڑے درجے دیتے ہیں۔)
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "Free the captive" means to release the enslaved prisoner. This is mentioned in Al-Mirqat.
Note 1
(۱) قوله : فكوا عاني: أي أعتقوا الأسير الرقيق. قاله في «المرقاة».