اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2565
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہے کہ جب ام سلمہ
کے پہلے شوہر) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا (اور مجھے نوحہ کے ناجائز ہونے کا علم نہیں تھا) تو میں
نے اپنے دل میں کہا کہ ابوسلمہ بے وطن تھے ابھی ابھی اپنا وطن چھوڑ کر آئے تھے (یہاں ان کے کوئی
قرابت دار بھی نہیں، اگر کوئی ان کے قرابت دار ہوتے تو ان پر نوحہ کرتے) میں ان پر ایسا ماتم اور
نوحہ کروں گی جو یادگار رہے اور لوگ اس کا تذکرہ کرتے رہے، چنانچہ میں نے سیاہ کپڑے پہن کر)
ابوسلمہ پر ماتم اور نوحہ کرنے کی تیاری کی اتنے میں ایک عورت نوحے اور ماتم میں میرا ساتھ دینے کے
لئے آ رہی تھی کہ (راستہ میں) اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مل گئے اس کو (ماتمی لباس میں)
دیکھ کر فرمایا کہ کیا تم چاہتی ہو کہ (نوحہ اور ماتم کر کے) شیطان کو اس گھر میں داخل کر دو، کہ جس گھر
سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو (اسلام لانے کی وجہ سے) نکال دیا تھا (اس عورت کو متنبہ اور تاکید کرنے
کی غرض سے) حضور اس جملہ کو دو مرتبہ فرمائے (حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب مجھے حضور کے
اس ارشاد کی خبر ملی) تو میں ماتم اور نوحہ کرنے سے رک گئی اور آہ و بکا کرنے سے باز آ گئی۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih Muslim 921 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.