انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: (ایک دن کا واقعہ ہے) کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ابو سیف لوہار کے گھر گئے جو حضور کے صاحبزادے
حضرت ابراہیم کی دایہ کے شوہر تھے، حضور دایہ کے گھر پہنچ کر اپنے فرزند حضرت ابراہیم کو (گود
میں) لئے انہیں پیار کئے اور سونگھے (پھر واپس ہو گئے) چند روز کے بعد ہم (دوبارہ) رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دایہ کے گھر گئے۔ اس وقت حضرت ابراہیم سکرات کی حالت میں تھے
(بچہ کی یہ حالت دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، حضور کو
روتے ہوئے دیکھ کر) حضرت عبدالرحمن بن عوف نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ بھی روتے
ہیں؟ حضور فرمائے: اے ابن عوف (نوحہ اور آہ و زاری کرنا منع ہے اور آنکھوں سے) آنسو کا جاری
ہونا یہ رحمت کی نشانی ہے (اور جائز ہے) اس کے بعد آنکھوں میں آنسو لا کر فرمائے، آنکھ روتی ہے
اور دل غمگین ہے اور ہم وہی کہتے ہیں جو ہمارے رب کو پسند ہے اور ہم اے ابراہیم! تمہاری جدائی
سے غمگین ہیں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
And the saying of Allah, the Almighty: "And give good news to the patient, who, when a calamity strikes them, say, 'Indeed, we belong to Allah, and indeed, to Him we will return.' Upon them are blessings from their Lord and mercy, and it is they who are rightly guided." (Quran 2:155-156). And His saying: "And seek help through patience and prayer, and indeed, it is difficult except for the humble." (Quran 2:45).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1303 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2315a (unverified) 86% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضور کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا
نے خدمت اقدس میں کسی شخص سے یہ کہلا بھیجا کہ میرا لڑکا سکرات کی حالت میں ہے آپ ذرا
تشریف لائیے حضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے تم واپس جا کر ان کو میرا سلام پہنچاؤ اور کہو کہ
جو کچھ اللہ تعالیٰ لیتا ہے وہ اسی کا ہے اور جو کچھ وہ دیتا ہے وہ بھی اسی کا ہے اور اس کے پاس ہر چیز کا
ایک وقت مقرر ہے (وہ وقت ٹل نہیں سکتا) تم کو چاہئے کہ ثواب کی نیت سے صبر اختیار کریں، حضرت
زینب پھر دوبارہ کسی کو بھیجے اور قسم دے کر عرض کئے: آپ ضرور تشریف لائیے، یہ سن کر حضور کھڑے
ہوئے اور سعد بن عبادہ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور زید بن ثابت اور دیگر صحابہ بھی حضور کے
ساتھ ہو گئے (جب حضور صاحبزادی کے مکان پر پہنچے تو حضور کے سامنے بچے کو پیش کیا گیا، اس
وقت بچہ سکرات کی حالت میں تھا، بچے کی سانس سینہ میں اضطراب کے ساتھ چل رہی تھی، یہ حالت
دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، حضور کو روتے دیکھ
کر) حضرت سعد عرض کئے: یا رسول اللہ! کیا آپ بھی روتے ہیں؟ حضور فرمائے: سنو سعد! (کسی
کی موت پر نوحہ کرنا، چیخنا چلانا، کپڑے پھاڑ لینا اور سر پیٹنا یہ سب حرام اور منع ہیں) البتہ آنکھوں
سے (بغیر نوحہ کے) آنسو جاری ہونا، بشریت کا تقاضا ہے اور رحمت و نرم دلی کی نشانی ہے۔ جس کو اللہ
تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا فرماتا ہے (اس لئے یہ جائز ہے) اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندوں
میں سے انہیں پر رحم فرماتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو عورتیں جمع ہوئیں (اور بغیر نوحہ و
چیخ و پکار کے آنسوؤں سے) رونے لگیں (حضرت عمر میت پر جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور
ہے۔ 1-2 صرف رونے کو بھی برا سمجھتے تھے اس لئے) اٹھے اور عورتوں کو رونے سے منع کرنے لگے
اور (باہر سے آئی ہوئی) عورتوں کو ہٹانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: سنو
عمر! (نوحہ کرنا اور چیخ و پکار کرنا منع ہے۔ آنکھوں سے رونا منع نہیں ہے) یہ عورتیں آنکھوں سے
آنسو بہا کر رو رہی ہیں، ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو، آنکھوں سے بھی کیسے نہ روئیں جب کہ ان کا
دل دکھا ہوا ہے اور مصیبت ابھی ابھی آ پڑی ہے۔ اس کی روایت امام احمد اور نسائی نے کی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: سعد بن عبادہ رضی
اللہ عنہ (ایک دفعہ) بیمار ہوئے اور ان کی بیماری بہت سخت تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ان
کی عیادت کے لئے) تشریف لے گئے اور آپ کے ہمراہ عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم تھے جب حضور وہاں پہونچے تو ملاحظہ فرمایا کہ گھر والوں نے ان کو
چاروں طرف گھیر رکھا ہے (جس طرح کہ میت کو گھیر لیتے ہیں اور ان پر چادر بھی اڑھا دی گئی ہے)
حضور دریافت فرمائے کہ کیا ان کا انتقال ہو گیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں حضور، ان کا انتقال نہیں
ہوا ہے (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے صحابہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روتے دیکھے تو وہ بھی رونے لگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمائے: سنو صاحبو! اللہ تعالیٰ (کسی کے مرنے کی وجہ سے) آنکھوں سے آنسو جاری ہونے
اور دل غم زدہ ہونے پر عذاب نہیں دیتے بلکہ زبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمائے کہ اس کی وجہ
سے اللہ تعالیٰ عذاب دیتے ہیں یا اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ رحمت نازل فرماتے ہیں یعنی اگر مصیبت
زدہ زبان سے شکوہ شکایت کیا یا زبان سے اللہ سے ناراضی کے الفاظ کہا یا نوحہ کیا یا چیخ و پکار کیا تو اللہ
تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کو عذاب دیتے ہیں بخلاف اس کے اگر وہ مصیبت زدہ زبان سے ”إِنَّا
لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ کہہ کر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ اس پر رحمت نازل فرماتے ہیں اور اگر (جاہلیت کی
عادت کے مطابق کسی نے وصیت کی کہ اس کے مرنے کے بعد اس پر نوحہ کیا جائے اور ورثاء اس کی
وصیت پوری کریں) تو میت کو (اس طرح وصیت کی کرنے کی وجہ سے) عذاب (جیسا کہ مرقات
اور رد المحتار میں مذکور ہے۔12) دیا جائے گا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1304 (unverified) 99% confidence
Candidate: Sahih Muslim 924a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
Indeed, the deceased is punished by the wailing of his family over him.
(1) The statement: "Indeed, the deceased is punished by the wailing of his family over him." In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "The deceased is only punished by the wailing of his family if he had instructed them to do so." In Radd Al-Muhtar, it is said: "The interpretation of this Hadith is that people at that time used to instruct others to wail, so the Prophet (ﷺ) said this." This is mentioned in Al-Bahr, quoting Az-Zahirah.
Note 1
قوله
(۱) قوله: إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه: وفي الدر المختار»: إنما يعذب الميت ببكاء أهله إذا أوصى بذلك. وقال في رد المحتار»: وتأويل الحديث أنهم في ذلك الزمان كانوا يوصون بالنوح، فقال له ذلك. «بحر» عن «الظهيرية».
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہوں (کہ اگر کوئی شخص جاہلیت کی عادت کے مطابق وصیت
کرے کہ اس کے مرنے کے بعد اس پر نوحہ کیا جائے اور ورثاء اس کی وصیت پوری کریں یا اس کے
خاندان میں نوحہ کرنے کی عادت بھی، اور وہ بھی اس کو پسند کرتا تھا اور ان کے اس نوحہ کرنے سے
راضی تھا، اس کو بھی منع نہیں کیا تھا تو اس کے مرنے کے بعد حسب وصیت اس پر اس کے ورثاء نوحہ
کئے یا حسب رواج اس کے مرنے کے بعد) اس پر نوحہ کیا گیا تو قیامت کے دن اس طرح نوحہ کئے
جانے کی وجہ سے اس کو عذاب دیا جائے گا۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1291 (unverified) 96% confidence
Candidate: Sahih Muslim 933a (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مرقات میں لکھا ہے کہ آواز کے ساتھ میت پر رونے کو نوحہ کہتے ہیں یا میت کے ایسے
اوصاف بیان کر کے رونا جو میت میں نہیں ہیں، یا میت کے ایسے اوصاف بیان کرنا جو میت میں تو ہیں
مگر ان کو مبالغہ کے ساتھ بیان کر کے رونا یہ سب نوحہ کہلاتا ہے۔12
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (آسمان میں) دو دروازے ہیں کہ ایک دروازے سے نیک اعمال اوپر
چڑھتے ہیں اور دوسرے دروازے سے روزی اترتی ہے جب کوئی مسلمان مر جاتا ہے تو جس
دروازے سے اس کے نیک اعمال چڑھتے تھے اور دوسرے جس دروازہ سے مسلمان کی روزی اترتی
تھی، یہ دونوں دروازے اس مرنے والے مسلمان پر روتے ہیں (اس وجہ سے کہ ان دونوں
دروازوں کو اس مسلمان کی وجہ سے جو خیر و برکات پہنچتے تھے اس کی موت کی وجہ سے بند ہو گئے،
بخلاف کافر کے کہ ان دونوں دروازوں کو کافر سے اس کے شرک کی وجہ سے تکلیف پہنچتی تھی، اس
لئے یہ دونوں دروازے اس کی موت پر نہیں روتے) جیسا کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد
ہے: ”فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ“۔ (سورۂ دخان، پ:25، ع:1، آیت نمبر:29)
یعنی کفار کے مرنے پر زمین و آسمان نہیں روتے۔
اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ وہ شخص ہمارے طریقہ پر نہیں ہے (بلکہ جاہلیت کے طریقہ پر
ہے) جو (کسی کے مرنے پر) اپنا منہ پیٹے اور کپڑے پھاڑے (یا شملہ سر سے اتار کر پھینک دے یا
دیوار پر سر مارے یا بال نوچے) یا (غم میں) ایسے الفاظ کہے جو جاہلیت میں رائج تھے (اور شریعت
کے خلاف ہیں)۔ اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔12
عمران بن حصین اور ابو برزہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ دونوں حضرات
فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک ہوئے (اس زمانہ
کے رواج کے مطابق اسلامی شعار اور سنت یہ تھی کہ مسلمان قمیصوں پر چادر اوڑھ کر باہر نکلتے تھے،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرمائے کہ میت کے قرابتدار (اظہار غم کے لئے) چادروں کو
رکھ دئے ہیں اور (جاہلیت کے طریقہ کے موافق بغیر چادروں کے صرف) قمیصوں کے ساتھ جنازہ
کے ساتھ چل رہے ہیں (یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: (تم کو کیا ہوا ہے
باوجودیکہ اسلام آچکا ہے پھر بھی) تم جاہلیت کے کام کر رہے ہو (زمانہ جاہلیت میں جیسے غم کا اظہار
کرتے تھے تم بھی زمانہ جاہلیت کے طریقہ کی مشابہت کر کے اپنی چادروں کو پھینک کر غم کا اظہار کر
رہے ہو) (یہ اللہ اور اس کے رسول کی مرضی کے خلاف کر رہے ہو) میرا ارادہ ہوا تھا کہ (جیسے تم اپنی
ہیئت کو بدل کر غم کے لئے دوسرے ہیئت اختیار کئے ہو) میں بھی تمہارے لئے بددعا کروں کہ
تمہاری انسانی صورتیں مسخ ہو کر (غیر انسانی) صورتیں ہو جائیں (یہ وعید سن کر میت کے قرابتدار ڈر
گئے اور اپنی اپنی چادریں لے کر اوڑھ لئے (اور پھر کسی کے غم میں اس طرح) بغیر چادروں کے نہیں
نکلے۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابوبُردہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی
اللہ عنہ (سخت بیمار ہوئے اور آپ) پر غشی طاری ہوگئی، آپ کی زوجہ ام عبداللہ چیخ مار کر آواز سے
رونے لگیں پھر جب حضرت ابوموسیٰ کو کچھ ہوش آیا (ابھی آپ کی زوجہ چیخ مار کر رو رہی تھیں زوجہ کی
یہ حالت دیکھ کر) حضرت ابوموسیٰ فرمائے: کیوں جی تم کو معلوم نہیں میں تم کو بارہا کہتا رہا کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ میں ایسے شخص سے بیزار ہوں (اور ناراض ہوں) جو
(میت کے غم میں جاہلیت کے طریقہ کے موافق) سر منڈھائے اور نوحہ کرے اور کپڑے پھاڑے
(اس لئے میں بھی ان سب چیزوں کو پسند نہیں کرتا ہوں تم کو چاہئے کہ ایسی چیزوں سے باز رہا
کریں۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: چار خصلتیں (زمانہ جاہلیت میں ہوا کرتی تھیں) میری
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 934 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
امت میں بھی وہ باقی رہیں گی:
(1) اپنے حسب پر فخر کرنا (یعنی اپنے اور اپنے آبا و اجداد کی خوبیوں کو اس طرح بیان کرنا کہ
جس سے دوسروں کی حقارت ہو)
(2) دوسروں کے نسب پر طعن کرنا (یعنی اپنے نسب کی بڑائی بیان کر کے دوسروں کے نسب کو
عیب لگا کر ان کے نسب کی تحقیر کرنا)
(3) تیسری بات یہ ہے کہ نجوم (جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12) کے قواعد کے
موافق یہ اعتقاد رکھنا کہ فلاں تارہ فلاں منزل میں آنے سے بارش ہوتی ہے (یہ اعتقاد حرام ہے، ہر
مسلمان کو یہ اعتقاد رکھنا چاہئے کہ تاروں کے لحاظ سے بارش نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے
بارش ہوتی ہے، جب اللہ تعالیٰ چاہیں بارش ہوتی ہے) اور جب اللہ تعالیٰ چاہیں بارش نہیں ہوتی اور
(4) چوتھی بات یہ ہے کہ میت پر نوحہ کرنا نوحہ کرنے والی عورت اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ
کر لے (تو چونکہ وہ کپڑے پھاڑتی تھی اور منہ نوچتی تھی) تو اس کے مناسب قیامت میں اس پر یہ
عذاب مسلط کیا جائے گا کہ ڈانبر کے مثل لباس پہنایا جائے گا (تاکہ دوزخ کی آگ اس پر بہت
زیادہ اثر کرے) اور مثل پیراہن کے ناقابل برداشت کھجلی اور خارش اس کے تمام جسم پر مسلط کی
جائے گی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نوحہ کرنے والے اور نوحہ سننے والے مردوں (جیسا کہ اشعۃ اللمعات میں مذکور
ہے۔12) اور عورتوں پر لعنت فرمائے ہیں۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہے کہ جب ام سلمہ
کے پہلے شوہر) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا (اور مجھے نوحہ کے ناجائز ہونے کا علم نہیں تھا) تو میں
نے اپنے دل میں کہا کہ ابوسلمہ بے وطن تھے ابھی ابھی اپنا وطن چھوڑ کر آئے تھے (یہاں ان کے کوئی
قرابت دار بھی نہیں، اگر کوئی ان کے قرابت دار ہوتے تو ان پر نوحہ کرتے) میں ان پر ایسا ماتم اور
نوحہ کروں گی جو یادگار رہے اور لوگ اس کا تذکرہ کرتے رہے، چنانچہ میں نے سیاہ کپڑے پہن کر)
ابوسلمہ پر ماتم اور نوحہ کرنے کی تیاری کی اتنے میں ایک عورت نوحے اور ماتم میں میرا ساتھ دینے کے
لئے آ رہی تھی کہ (راستہ میں) اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مل گئے اس کو (ماتمی لباس میں)
دیکھ کر فرمایا کہ کیا تم چاہتی ہو کہ (نوحہ اور ماتم کر کے) شیطان کو اس گھر میں داخل کر دو، کہ جس گھر
سے اللہ تعالیٰ نے شیطان کو (اسلام لانے کی وجہ سے) نکال دیا تھا (اس عورت کو متنبہ اور تاکید کرنے
کی غرض سے) حضور اس جملہ کو دو مرتبہ فرمائے (حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب مجھے حضور کے
اس ارشاد کی خبر ملی) تو میں ماتم اور نوحہ کرنے سے رک گئی اور آہ و بکا کرنے سے باز آ گئی۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو عورتیں (جمع ہوئیں اور
بغیر نوحہ اور چیخ و پکار کے آنسوؤں سے) رونے لگیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ (میت پر صرف آنکھوں
سے رونے کو بھی برا سمجھتے تھے اس لئے اٹھے اور عورتوں کو رونے سے منع کرنے لگے، مگر عورتیں
حضرت عمر کے منع کرنے سے نہ رکیں تو حضرت عمر کو یہ خوف ہوا کہ یہ رونا بڑھتے بڑھتے کہیں نوحہ تک
نہ پہنچ جائے، اس لئے) کوڑے مارنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عمر کو عورتوں
کے پاس سے اپنے دست مبارک سے ہٹائے اور ارشاد فرمائے: ٹھہرو عمر! اتنی سختی مت کرو (ابھی تو
عورتیں آنکھوں سے رو رہی تھیں گو تم اس کو برا سمجھتے ہو مگر یہ جائز ہے، حضرت عمر کو جو خوف تھا کہ
کہیں عورتیں روتے روتے نوحہ کرنا شروع کر دیں، اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتوں
کی طرف متوجہ ہو کر فرمائے (قاعدہ ہے کہ رونا بڑھتے بڑھتے نوحہ تک پہنچ جاتا ہے) تم نوحہ کی
نوبت نہ آنے دو (اس لئے کہ) نوحہ شیطان کی طرف سے ہے، اس سے بچتے رہنا، پھر رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (عورتوں سے مخاطب ہو کر) ارشاد فرمائے سنو! (کسی کے مرنے پر غم کرنا کئی
قسم کا ہوتا ہے بعض جائز ہے اور بعض ناجائز ہے) جب آنکھوں سے آنسو بہا کر غم کیا جائے اور دل
غمگین رہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے اور رحمت کا باعث ہے (اللہ تعالیٰ اس طرح غم کا
اظہار کرنے سے ناراض نہیں ہوتے ہیں) اور جب (غم کا اظہار) ہاتھ سے ہو (مثلاً منھ پیٹنا،
کپڑے پھاڑنا اور بال نوچنا) زبان سے ہو (جیسے چلانا اور بیان کر کے رونا) اور ایسے الفاظ کہہ کر
رونا جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتے ہیں) یہ سب شیطان کے بہکانے کی وجہ سے ہے (شیطان اس
سے خوش ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ (جنازہ کے ساتھ
جانا تو سنت ہے) مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے جنازہ کے ساتھ چلنے سے منع فرمائے ہیں
جس کے ساتھ پکار کر رونے والی اور نوحہ کرنے والی عورتیں ہوں۔
اس حدیث کی روایت امام احمد اور ابن ماجہ نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Ibn Majah 1583 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Prohibited following.
(1) The statement: "Prohibited following." In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "It is disliked (Makruh Tahrimi) for women to go out (to funerals), and the wailing woman should be reprimanded. However, the funeral should not be abandoned because of her." In Radd Al-Muhtar, it is said, quoting Abu As-Su'ud: "The apparent meaning is that following her refers to walking with her in general, not specifically walking behind her. Rather, one should avoid walking behind her if she is wailing, as mentioned in Al-Ikhtiyar. This reconciles the matter."
Note 1
قوله
(۱) قوله: أن تتبع: وفي الدر المختار»: ويكره خروجهن تحريمها، وتزجر النائحة، ولا يترك اتباعها لأجلها. وقال في رد المحتار» ناقلا عن أبي السعود والظاهر أن المراد باتباعها المشي معها مطلقا، لا خصوص المشي خلفها، بل يترك المشي خلفها إذا كانت النائحة؛ لما مر عن الاختيار»، وبه يحصل التوفيق.
Note 1
ف: درمختار میں لکھا ہے کہ عورتوں کا جنازہ کے ساتھ جانا مکروہ تحریمی ہے، خاص کر نوحہ کرنے
والی اور پکار کر رونے والی عورتوں کو ⟦?⟧ سے روک دیا جائے اور مردوں کو جنازہ کے پیچھے چلنا چاہئے، اگر
عورتیں جنازہ کے ساتھ ہوں تو مردوں کو عورتوں کی وجہ سے جنازہ کے ساتھ چلنا ترک نہیں کرنا چاہئے
بلکہ جنازہ کے آگے آگے چلنا چاہئے۔12
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ (ایک بار) حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک عورت کی طرف سے گزرے جو ایک قبر کے پاس (بیٹھی) آواز سے رو رہی
تھی، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ارشاد فرمائے کہ (تو آواز سے رو رہی ہے اور نوحہ کر رہی
ہے یہ ناجائز ہے) خدا سے ڈر (اور اس طرح کا نوحہ چھوڑ دے) اور صبر کر (تاکہ تجھے اس صبر کا
ثواب ملے) اس عورت نے جواب دیا، جاؤ صاحب اپنا کام کرو (آپ کو میری مصیبت کی کیا خبر
آپ میری جیسی مصیبت میں گرفتار نہیں ہوئے ہیں (یہ عورت جب یہ کہہ رہی تھی تو اس وقت اس کو
معلوم نہیں تھا کہ یہ نصیحت فرمانے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، حضور جب وہاں سے
تشریف لے گئے تو پھر اس عورت سے کہا گیا کہ تجھے کچھ خبر بھی ہے یہ نصیحت فرمانے والے کون تھے؟
سنو! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے جو تمہیں نصیحت فرما رہے تھے (وہ عورت، بہت نادم ہوئی)
اور وہاں سے اٹھی تو سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دولت خانہ پر پہونچی، وہ سمجھ رہی تھی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر دربان ہوں گے، جیسے بادشاہوں کے دروازے پر
ہوتے ہیں، یہاں آ کر اس نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہاں نہ تو دربان ہیں اور نہ تو کوئی تکلیف
ہے (گھر کے اندر گئی) اور عرض کی: یا رسول اللہ میں آپ کو پہچانی نہیں (میرا قصور معاف کیجئے)
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ صبر کا ثواب تو ابتداء مصیبت کے وقت ہی ملتا ہے (اور
آخر میں تو خود بخود صبر آ جاتا ہے یعنی دراصل صبر وہ ہے جو صدمہ کے شروع وقت کیا جائے، ورنہ بعد
میں تو ہر ایک کو صبر خود بخود آ ہی جاتا ہے، لہذا شروع مصیبت کے وقت صبر کرنا چاہئے کیونکہ اس پر
ثواب ملتا ہے۔) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم فرمائے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے ہیں کہ اے ابن آدم (جب تجھ پر کوئی مصیبت آئے
مثلاً کوئی مر جائے یا ناقابل برداشت رنج کی خبر پہنچے تو) مصیبت آتے ہی ابتدائے مصیبت کے
وقت ثواب کی نیت سے اگر تو صبر کرے (اور ”إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ کہے اور رونا پیٹنا اختیار
نہ کرے اور نہ کوئی ایسے حرکات کرے کہ جس سے بے صبری کا اظہار ہو اور نہ زبان سے ایسے الفاظ
کہے جو اللہ کی مرضی کے خلاف ہوں تو اسی طرح ابتدائے مصیبت کے وقت صبر کرنے کے بدلہ میں)
تجھ کو جنت ہی عطا کروں گا۔ (اگر تو ابتدائے مصیبت کے وقت رویا، پیٹا اور بعد کو صبر کیا تو اس کا کچھ
فائدہ نہیں، کیونکہ رونے پیٹنے کے بعد تو صبر آ ہی جاتا ہے ہاں صرف آنکھ سے آنسو بہیں تو کچھ
مضائقہ نہیں۔) اس حدیث کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اگر کسی مسلمان کے تین بچے مر جائیں تو وہ جہنم میں ہرگز داخل
نہیں ہوگا، البتہ قسم پوری ہونے کے لئے (دوزخ پر سے بجلی کی طرح فوری گزر جائے گا۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1251 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 2632a (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: جس آیت میں دوزخ پر سے گزرنے کا ذکر ہے وہ آیت یہ ہے: ”وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا
وَارِدُهَا كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَقْضِيًّا“۔
(سورہ مریم، پ:16، ع:5، آیت نمبر:71) اور اے اولاد آدم تم میں سے کوئی بشر ایسا
نہیں جو جہنم پر سے ہو کر نہ گزرے، یعنی ہر انسان پل صراط پر سے جو دوزخ پر رکھی گئی ہے ضرور گزرے
گا، یہ ایک قطعی اور فیصل شدہ وعدہ ہے جس کا پورا کرنا تمہارے پروردگار نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے،
اس آیت کا عطف اس سے پہلے کی آیت ”فَوَ رَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ“ (سورہ مریم، پ:16،
ع:5، آیت نمبر:68) پر ہے، اس لئے یہ آیت بھی پہلے کی آیت کے قسم کے تحت میں ہے، گویا اس
آیت کے پہلے قسم کے الفاظ ”فَوَ رَبِّكَ“ محذوف ہیں، اس لئے یہ آیت بھی قسم کی آیت ہے۔
(مرقات)12
ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابیہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیں: یا رسول اللہ مرد لوگ آپ کے احادیث کو
آپ سے سن کر یاد کرتے جا رہے ہیں، ہم عورتوں کے لئے بھی ایک دن مقرر فرما دیجئے کہ آپ کی
خدمت میں حاضر ہو کر ان دینی معلومات کو حاصل کریں جنہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو معلوم کرایا ہے،
حضورؐ ارشاد فرمائے کہ فلاں دن، فلاں وقت، فلاں جگہ جمع ہو جایا کرو (حسب ارشاد) عورتیں وہاں
جمع ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں ان چیزوں کی تعلیم
فرمائی جن کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو معلوم کرایا، پھر حضور ارشاد فرمائے کہ جس عورت کے تین بچے اس
کی زندگی میں مر جائیں تو یہ بچے اس عورت کے لئے آتش دوزخ سے آڑ بن جائیں گے (یعنی یہ
بچے اس کو دوزخ میں جانے سے بچائیں گے) یہ سن کر ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ اگر کسی
کے دو بچے مرے ہوں تو (ان کا کیا حکم ہے، حضورؐ وحی کے انتظار میں کچھ دیر توقف فرمائے تھے کہ)
اتنے میں وہ عورت اس جملہ کو دوبارہ دہرائی، حضور ارشاد فرمائے: ہاں ہاں اگر کسی کے دو بچے بھی
مریں ہوں تو اس کا بھی یہی حکم ہے اس جملہ کو حضور دو مرتبہ دہرائے، اس طرح (تین دفعہ فرمانے
سے اچھی طرح تاکید ہوگئی اور سننے والوں کو کوئی شک باقی نہ رہا۔)
اس حدیث کی روایت بخاری نے کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ (اتفاق سے) انصار
کی چند عورتیں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھیں) ان سے حضور
ارشاد فرمائے: تم عورتوں میں سے کسی عورت کے تین بچے مر جائیں (بالغ ہوں یا نابالغ) اور وہ
عورت (ثواب ملنے کے لئے ان کی موت پر) صبر کی تو وہ ضرور جنت میں جائے گی، ان میں سے
ایک عورت نے عرض کیا: یا رسول اللہ اگر کسی کے دو بچے مر جائیں (تو اس کا کیا حکم ہے؟) حضور ارشاد
فرمائے: ہاں اگر کسی کے دو بچے بھی مر جائیں تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔
اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
اور بخاری اور مسلم کی ایک روایت میں اس طرح آیا ہے کہ اگر وہ بچے جو
مرے ہیں نابالغ ہوں تو ان کا یہ حکم ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2632c (unverified) 70% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
(اس روایت میں نابالغ کی قید ضروری نہیں ہے بلکہ جس روایت میں حضور نے عورتوں سے یہ
فرمایا تھا کہ جس عورت کے تین نابالغ بچے فوت ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگی، اس وقت وہاں
ایسی ہی عورتیں موجود تھیں کہ جن کے نابالغ بچے فوت ہوئے تھے تو حضور نے ان کی تسکین اور تسلی
کے لئے نابالغ کا ذکر فرمایا ہے، اس سے معلوم ہوا کہ نابالغ کی یہ قید ضروری نہیں بلکہ اتفاقی ہے، اس
لئے فوت شدہ بچے بالغ ہوں یا نابالغ سب کا یہی حکم ہے۔ (مرقات)12
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: جس شخص کے تین نابالغ بچے اس کی زندگی میں فوت ہوئے
ہوں (نابالغ کی قید اتفاقی ہے، اگر بالغ تین بچے بھی فوت ہوئے ہوں تو - مرقات میں ایسا ہی لکھا
ہے۔12- اس کا بھی یہی حکم ہے) تو یہ بچے اس کو دوزخ سے ضرور بچا لیں گے (یہ سن کر) حضرت
ابوذر عرض کئے: یا رسول اللہ! میرے دو بچے فوت ہوئے ہیں (اس کا کیا حکم ہے؟) حضور ارشاد
فرمائے: جس کے دو بچے فوت ہوئے ہوں تو اس کے دو بچے بھی ضرور اس کو دوزخ سے بچا لیں
گے، پھر حضرت ابی بن کعب ابو المنذر سید القراء نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرا تو ایک ہی بچہ فوت
ہوا ہے (اس کا کیا حکم ہے) حضور ارشاد فرمائے: جس کا ایک بچہ فوت ہوا ہو تو اس کا یہ ایک بچہ بھی
ضرور اس کو دوزخ سے بچائے گا۔
اس کی روایت ترمذی اور ابن ماجہ نے کی ہے۔12
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جس مسلمان ماں باپ کے تین بچے (بالغ ہوں یا نابالغ)
مر جائیں (اور ثواب کی نیت سے وہ صبر کریں) تو اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت سے ان دونوں کو جنت
میں داخل کریں گے، صحابہ عرض کئے: یا رسول اللہ! اگر کسی کے دو بچے مر جائیں (تو اس کا کیا حکم
ہے؟) تو حضور ارشاد فرمائے کہ: ہاں اگر دو بچے مر جائیں تو بھی (اس کا یہی حکم ہے) صحابہ پھر عرض
کئے: یا رسول اللہ! اگر ایک بچہ مر جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ حضور ارشاد فرمائے: اگر ایک بچہ مر جائے
تو اس کا بھی یہی حکم ہے پھر حضور ارشاد فرمائے: (تم بار بار سوال کر کے تین، دو اور ایک بچے کے
مرنے کا ثواب دریافت کئے تو کامل بچوں کے مرنے کا ثواب ہے کہ ان کے ماں باپ ضرور جنت
میں داخل ہوں گے) اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر کسی کا حمل
گر جائے اور اس کو ناقص بچہ پیدا ہو (اور حمل گر جانے پر وہ ثواب کی نیت سے صبر کرے تو یہ) ناقص
بچہ بھی اپنی ماں کو اپنی آنول کے ذریعہ (جو مثل رسی کے کام دے گی) کھینچتا ہوا جنت میں داخل کرے
گا۔) (یعنی ایسا ناقص بچہ بھی اپنی ماں کو ضرور جنت میں داخل کرے گا۔)
اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اسی کے قریب قریب روایت
کی ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا حمل گر جائے اور اس کو ناقص بچہ پیدا ہو (اور قیامت
کے دن جب اللہ تعالیٰ اس بچے کے ماں باپ کو دوزخ میں داخل کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو یہ بچہ
(اپنے ماں باپ کو دوزخ سے بچانے کے لئے بہت کوشش کرے گا اور) اَڑ جائے گا تو اللہ تعالیٰ
فرمائیں گے: اے اَڑنے والے بچے (ہم کو تیری خاطر منظور ہے) اچھا اپنے ماں باپ کو جنت میں
لے جا تو یہ بچہ اپنے ماں باپ کو اپنی آنتوں کے ذریعہ (جو مثل رسی کے کام دے گی) کھینچتا ہوا جنت
میں داخل کرے گا۔ اس کی روایت ابن ماجہ نے کی ہے۔ 12
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، آپ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ میری امت میں سے کسی شخص کے دو نابالغ بچے اس کی زندگی
میں انتقال کر گئے ہوں (اور وہ ثواب کی نیت سے اس پر صبر کیا) تو اللہ تعالیٰ (اس شخص کے صبر کی وجہ
اور ان کی شفاعت کی وجہ سے) اس شخص کو جنت میں داخل کریں گے (یہ سن کر) حضرت عائشہ
دریافت کیں: یا رسول اللہ اگر کسی شخص کا ایک نابالغ بچہ فوت ہوا ہو (تو اس کا کیا حکم ہے) حضور
فرمائے: ہاں جس کا ایک ہی (نابالغ) بچہ فوت ہوا ہو (تو اس کا بھی یہی حکم ہے) عائشہ! اللہ تعالیٰ
اس سے زیادہ تم کو توثیق دے، تمہارے سوال سے میری امت پر آسانیاں اور زیادہ ہو رہی ہیں
حضرت عائشہ نے دوبارہ دریافت کیا: یا رسول اللہ اگر آپ کی امت کے کسی شخص کا ایک بچہ بھی فوت
نہ ہوا ہو تو اس کا کیا حکم ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: سنو عائشہ! بچوں کے
مرنے سے ان کے والدین کو یہ جو ثواب مل رہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں کے مرنے کا ماں باپ کو
بے حد صدمہ ہوتا ہے، اس کے صلہ میں جنت ملتی ہے، میرا دنیا سے جانا (امت کے لئے) سب
مصیبتوں سے بڑی مصیبت ہے (جیسا میرے دنیا سے جانے کا رنج اُمت کو ہوگا، اس کے مقابلہ
میں اس کو کوئی اور رنج نہیں، میرے جانے کے رنج و مصیبت کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اس کو جنت عطا
فرمائے گا، جیسے بچے ماں باپ کے لئے ”فرط“ شفاعت کا ذریعہ ہوتے ہیں اور راحت کا سامان
فراہم کرتے ہیں، اسی طرح میری امت میں جس کسی کا کوئی بچہ فوت نہ ہوا ہو تو ایسے لوگوں کے لئے
میں فرط رہوں گا، ان کے لئے راحت کا سامان جمع کروں گا، اور ان کی شفاعت کروں گا۔)
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک شخص نے کہا کہ میرا ایک
بچہ مر گیا ہے مجھے اس کا بے حد رنج ہے کیا آپ اپنے دلی دوست حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنے ہیں جس سے (بچوں کے مرنے پر والدین کو جو ثواب ملتا ہے وہ معلوم
ہوتا کہ) ہمارا رنج دور ہو اور ہمارے دل کو تسکین ہو جائے، حضرت ابو ہریرہ فرمائے: جیسا تم کہہ
رہے ہو، میں نے ایسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ ارشاد فرمائے ہیں کہ مسلمانوں
کے چھوٹے بچے جو مر جاتے ہیں (وہ جنت میں حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نگرانی میں رہتے
ہیں اور) وہ ہر جگہ جاتے ہیں (لیکن ان کو کوئی روکنے والا نہیں، پھر جب قیامت قائم ہوگی تو سب
میدان قیامت میں جمع ہو جائیں گے، چھوٹے بچے بھی اور ان کے والدین بھی) جب یہ چھوٹے
بچے اپنے (ماں) باپ کو دیکھیں گے تو (ماں) باپ کا دامن پکڑ کر جنت میں پہونچائے بغیر دم نہیں
لیں گے۔ اس کی روایت مسلم اور امام احمد نے کی ہے۔
قرۃ المزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، (وہ فرماتے ہیں) کہ ایک صاحب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ہمیشہ اپنے (ایک کم سن) بچے کو ساتھ لے کر
حاضر ہوا کرتے تھے، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے فرمائے: (بچے کو تم ہمیشہ ساتھ
رکھتے ہو) کیا اس بچے سے تم کو بہت محبت ہے، تو وہ صاحب عرض کئے: یا رسول اللہ کیا کہوں (مجھے
اس بچے سے بے حد محبت ہے، میری محبت اس بچے سے جیسی ہے اس کو سمجھانے کے لئے عرض کرتا
ہوں) کہ مجھے اس بچے سے ایسی محبت ہے جیسے اللہ تعالیٰ کو آپ سے محبت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنی محبت
کو آپ سے اور زیادہ کرے (جب بچہ کا انتقال ہو گیا تو وہ صاحب حضور کی خدمت میں تنہا آنے
لگے) ان کو تنہا آتے ہوئے دیکھ کر حضور دریافت فرمائے: ان کا بچہ کیا ہوا؟ صحابہ عرض کئے: وہ بچہ تو
مر گیا یا رسول اللہ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچے کے والد کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمائے:
(گو تم کو رنج بے حد ہوا ہے مگر اخروی خوش خبری سن لو) تمہارا بچہ (کرامت سے) جنت کے ہر
دروازے پر نظر آئے گا اور تمہارا انتظار کرتا رہے گا، جس دروازے سے تم جاؤ گے وہ بچہ تمہارا استقبال
کر کے تم کو جنت میں لے جائے گا (یہ سن کر) ایک صحابی عرض کئے: یا رسول اللہ یہ خوش خبری صرف
انہی کے لئے مخصوص ہے یا سب مسلمانوں کے لئے ہے، حضور ارشاد فرمائے: یہ خوش خبری ہر (اس)
مسلمان کے لئے ہے (جس کا بچہ اس کی زندگی میں مر گیا ہے۔)
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کسی مسلمان کا کمسن بچہ مر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ملک الموت اور ان کے ساتھ
کے فرشتوں سے فرماتے ہیں کہ کیا تم میرے بندہ کے بچے کی روح نکالے، فرشتے عرض کرتے ہیں:
جی ہاں! پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا تم اس لخت جگر کو لے لئے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں: جی ہاں!
تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے نے (بچہ کی موت کی رنج و غم کی حالت میں) کیا کہا؟
فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس نے (اپنے رنج و غم کے باوجود اس مصیبت پر اس کو صبر کی جو توفیق ملی
اس پر) ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہہ کر شکر ادا کیا اور ”اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ“ بھی کہہ کر (اپنی موت
کو اور اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونے کو یاد کیا اور جزع فزع اور بے قراری ظاہر نہیں کیا) تو اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس نے مصیبت میں صبر اور تسلیم و رضا اختیار کیا ہے اور ”اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہا ہے
اس کے بدلے میں) اس کے لئے جنت میں ایک محل بناؤ اور اس کا نام ”بَيْتُ الْحَمْدِ“ رکھو۔
اس کی روایت امام احمد اور ترمذی نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے ہیں
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس مسلمان کو کسی مسلمان سے دنیوی تعلقات ہوں اور اس کو اس سے بیحد
محبت ہو (جیسے ماں، باپ، بیٹا، بھائی، بیوی وغیرہ) اور اس کا انتقال ہو جائے اور وہ ثواب کی نیت
سے اس پر صبر کرے تو میں اس کے صلہ میں اس کو ضرور جنت دوں گا (اور اللہ تعالیٰ کے واسطے کسی سے
تعلق ہو اور ان سے اس کو بیحد محبت ہے جیسے استاد و مرشد اگر ان کا انتقال ہو جائے اور وہ ثواب کی
نیت سے صبر کرے تو اس کی جزا کا کیا کہنا جنت اور جنت کے اعلیٰ مراتب اس کو دوں گا۔)
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
ارشاد فرمائے ہیں کہ جب کسی مسلمان مرد یا مسلمان عورت پر مصیبت آئے (اور اس سے وہ غمگین رہا
اور اس مصیبت پر تھوڑی مدت گزری یا زیادہ) جب کبھی وہ مصیبت یاد آئے اس سے اس کا غم پھر
تازہ ہو گیا ایسے وقت وہ ”إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ پڑھ کر صبر کیا تو شروع مصیبت میں اس کے
صبر کی وجہ سے اس کو جو اجر ملا تھا، اس کو دوبارہ مصیبت یاد کر کے صبر کرنے پر ویسے ہی اجر ملے گا۔
(جیسے اس کو پہلی مرتبہ صبر کرنے پر ملا تھا۔) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے اور بیہقی نے
اس کی روایت شعب الایمان میں کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے ہیں کہ (جیسے کوئی بڑی مصیبت آئے تو اس پر ”إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ پڑھ کر صبر
کرے تو اس پر اجر ملتا ہے، ایسے ہی چھوٹی سی چھوٹی مصیبت ہو جیسے) اگر تم میں سے کسی کے نعلین کا
تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ ”إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ پڑھ لیا کرے، اس لئے کہ یہ بھی ایک مصیبت
ہے (اس چھوٹی مصیبت کے وقت بھی ویسے ہی اجر ملے گا جیسا کہ بڑی مصیبت کے وقت ”إِنَّا لِلّٰهِ
وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“ پڑھنے سے ملا تھا۔) اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں ابوالدرداء رضی
اللہ عنہ سے سنی ہوں، ابوالدرداء کہتے تھے کہ میں حضرت ابوالقاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
فرماتے سنا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلاة والسلام سے
فرمایا: اے عیسیٰ میں تمہارے بعد ایک ایسی امت پیدا کروں گا کہ جب ان کو کوئی نعمت ملے گی تو وہ
”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گی اور جب ان پر کوئی (ناقابل برداشت)
مصیبت آئے گی جس سے ان کے ہوش وحواس اڑ جائیں گے اور سمجھ باقی نہ رہے تو باوجود اس کے وہ
ثواب کی نیت سے اس (مصیبت) پر صبر کریں گے تو حضرت عیسیٰ عرض کئے کہ اے میرے پروردگار
(مصیبت کی وجہ سے) جب ان کے ہوش وحواس اڑ جائیں اور سمجھ باقی نہ رہے تو وہ مصیبت پر کیسے
صبر کریں گے؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ (انسانی فطرت کے لحاظ سے مصیبت کی وجہ سے ہوش وحواس
اور سمجھ نہ رہے گی مگر) میں اپنے پاس سے ان کو علم لدنی اور سمجھ دوں گا (جس سے ان کو مصیبت پر صبر
کرنا آسان ہو جائے گا۔) اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: "Indeed, the deceased is punished by the wailing of his family over him." In Ad-Durr Al-Mukhtar, it is said: "The deceased is only punished by the wailing of his family if he had instructed them to do so." In Radd Al-Muhtar, it is said: "The interpretation of this Hadith is that people at that time used to instruct others to wail, so the Prophet (ﷺ) said this." This is mentioned in Al-Bahr, quoting Az-Zahirah.
Note 1
(۱) قوله: إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه: وفي الدر المختار»: إنما يعذب الميت ببكاء أهله إذا أوصى بذلك. وقال في رد المحتار»: وتأويل الحديث أنهم في ذلك الزمان كانوا يوصون بالنوح، فقال له ذلك. «بحر» عن «الظهيرية».