اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2584
ام الدرداء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں ابوالدرداء رضی
اللہ عنہ سے سنی ہوں، ابوالدرداء کہتے تھے کہ میں حضرت ابوالقاسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
فرماتے سنا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ الصلاة والسلام سے
فرمایا: اے عیسیٰ میں تمہارے بعد ایک ایسی امت پیدا کروں گا کہ جب ان کو کوئی نعمت ملے گی تو وہ
”الْحَمْدُ لِلّٰهِ“ کہہ کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے گی اور جب ان پر کوئی (ناقابل برداشت)
مصیبت آئے گی جس سے ان کے ہوش وحواس اڑ جائیں گے اور سمجھ باقی نہ رہے تو باوجود اس کے وہ
ثواب کی نیت سے اس (مصیبت) پر صبر کریں گے تو حضرت عیسیٰ عرض کئے کہ اے میرے پروردگار
(مصیبت کی وجہ سے) جب ان کے ہوش وحواس اڑ جائیں اور سمجھ باقی نہ رہے تو وہ مصیبت پر کیسے
صبر کریں گے؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوا کہ (انسانی فطرت کے لحاظ سے مصیبت کی وجہ سے ہوش وحواس
اور سمجھ نہ رہے گی مگر) میں اپنے پاس سے ان کو علم لدنی اور سمجھ دوں گا (جس سے ان کو مصیبت پر صبر
کرنا آسان ہو جائے گا۔) اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔