Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2302

(اس باب میں ان لوگوں کا بیان ہے جن کو زکات اور صدقۂ فطر لینا جائز نہیں)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(اس باب میں ان لوگوں کا بیان ہے جن کو زکات اور صدقۂ فطر لینا جائز نہیں)

Zujajat al-Masabih 2302Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2705
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ دودھ پیا، وہ آپ کو اچھا معلوم ہوا تو آپ نے اس شخص سے جس نے آپ کو یہ دودھ پلایا تھا دریافت کیا کہ یہ دودھ کہاں کا ہے تو انہوں نے کہا کہ پانی کی ایک جگہ پر اترا تھا جس کا انہوں نے نام بھی بتایا اور (کہا کہ) وہاں زکات کے کچھ اونٹ آئے ہوئے تھے اور لوگ ان کو پانی پلا رہے تھے تو اونٹ والوں نے ان کا دودھ نچوڑا یہی وہ دودھ ہے جس کو میں نے اپنے مشکیزہ میں ڈال لیا (اور آپ کو پیش کیا ہوں۔ یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (حلق میں) انگلی ڈال کر قے کر دی (اور دودھ نکال دیا)۔ اس کی روایت امام مالک نے کی ہے اور بیہقی نے بھی شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Mishkat al-Masabih 1835 (unverified) 50% confidence
  • Candidate: Muwatta Malik 608 (unverified) 30% confidence

Mishkat (candidate) 1835

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (1)

Note 1

ف: مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قے کے ذریعہ دودھ جو نکال دیا آپ کا عمل تقویٰ اور پرہیزگاری کی بناء پر تھا۔ ورنہ اس طرح کا مال جو کسی فقیر کی جانب سے کسی غنی کو بطور ہدیہ دیا جائے، اس کا استعمال کرنا درست ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث 66 میں گزر چکا ہے جو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ ”لَهَا صَدَقَةٌ وَ لَنَا هَدِيَّةٌ“ (ان کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے)۔