English
Zaid ibn Aslam (may Allah be pleased with him) narrated: “Umar ibn Al-Khattab drank some milk and liked it. He asked the one who gave it to him where it came from. The man informed him that he had come to a watering place where some charity animals were grazing, and they milked some for him, which he put in his container. Umar immediately put his finger in his throat and vomited it.”
العربية
Typed, pending editorial approval
٢٣٠٢ - وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ (رضي الله عنه) قَالَ: شَرِبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَابِ لَبَنًا فَأَعْجَبَهُ، فَسَأَلَ الَّذِي سَقَاهُ مِنْ أَيْنَ هَذَا اللَّبَنُ؟ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ وَرَدَ عَلَى مَاءٍ قَدْ سَمَّاهُ، فَإِذَا نَعَمُ مِنْ نَعَمِ الصَّدَقَةِ وَهُمْ يَسْقُوْنَ فَحَلَبُوْا لِي مِنْ أَلْبَانِهَا فَجَعَلْتُهُ فِي سِقَائِي، فَهُوْ هَذَا، فَأَدْخَلَ عُمَرُ بْنُ الخَطَابِ يَدَهُ فَاسْتَقَاءَهُ. رَوَاهُ مَالِكُ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيْمَانِ».
اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2705
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (ایک مرتبہ دودھ پیا، وہ آپ کو اچھا معلوم ہوا تو آپ نے اس شخص سے
جس نے آپ کو یہ دودھ پلایا تھا دریافت کیا کہ یہ دودھ کہاں کا ہے تو انہوں نے کہا کہ پانی کی ایک
جگہ پر اترا تھا جس کا انہوں نے نام بھی بتایا اور (کہا کہ) وہاں زکات کے کچھ اونٹ آئے ہوئے
تھے اور لوگ ان کو پانی پلا رہے تھے تو اونٹ والوں نے ان کا دودھ نچوڑا یہی وہ دودھ ہے جس کو میں
نے اپنے مشکیزہ میں ڈال لیا (اور آپ کو پیش کیا ہوں۔ یہ سن کر) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے (حلق
میں) انگلی ڈال کر قے کر دی (اور دودھ نکال دیا)۔
اس کی روایت امام مالک نے کی ہے اور بیہقی نے بھی شعب الایمان میں اس کی روایت کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Mishkat al-Masabih 1835 (unverified) 50% confidence
- Candidate: Muwatta Malik 608 (unverified) 30% confidence
Mishkat (candidate) 1835
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قے کے ذریعہ دودھ جو نکال دیا آپ کا عمل تقویٰ اور پرہیزگاری کی بناء پر تھا۔ ورنہ اس طرح کا مال جو کسی فقیر کی جانب سے کسی غنی کو بطور ہدیہ دیا جائے، اس کا استعمال کرنا درست ہے۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث 66 میں گزر چکا ہے جو ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ ”لَهَا صَدَقَةٌ وَ لَنَا هَدِيَّةٌ“ (ان کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے)۔