اردو
Urdu OCR, pending reviewNoor 2721
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (کچھ مال) مانگا آپ نے مجھے عطا فرمایا۔ میں نے (دوسری بار) پھر
سوال کیا تو آپ نے (دوبارہ بھی) عطا فرمایا (میں نے تیسری بار سوال کیا) تو حضورؐ ارشاد فرمائے
اے حکیم (دنیا کا) یہ مال ومتاع خوشنما اور لذیذ معلوم ہوتا ہے، پس جو کوئی اس کو (بے مانگے) اور
بغیر طمع کے حاصل کرے تو اس مال میں اس کو برکت دی جائے گی اور جو کوئی لالچ اور حرص کے ساتھ
حاصل کرے تو اس کو ایسے مال میں برکت نہیں دی جائے گی اور اس کا ایسے شخص کا سا حال ہوگا جو
کھائے اور (بے برکتی کے سبب) سیر نہ ہو (اور یہ بھی ارشاد فرمایا اے حکیم) اوپر کا ہاتھ نیچے کے
ہاتھ سے بہتر ہے (یہ سن کر) حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات عالی کی قسم یا
جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب اس کے بعد کسی سے سوال نہیں کروں گا، یہاں تک کہ دنیا
سے رخصت ہوجاؤں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Sahih al-Bukhari 1472 (unverified) 99% confidence
- Candidate: Sahih Muslim 1035a (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.