قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک
قرضہ کی ادائی کی ضمانت اپنے اوپر لی تھی (جو ایک دیت یعنی خونبہا کے سلسلہ میں تھی، چونکہ مصرف
زکات میں قرض کی ادائی بھی شامل ہے اس لئے) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت
اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ قرض کی ادائی کے لئے کچھ مرحمت فرمائیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے: کچھ دن ٹھہر جاؤ۔ یہاں تک کہ ہمارے پاس زکات کا مال آ جائے اور ہم اس میں
سے تم کو دلوا دیں۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: اے قبیصہ! (یاد رکھو) سوال کرنا
صرف تین آدمیوں کے لئے جائز ہے۔ (ایک) اس شخص کے لئے جو کسی قرضہ کا ضامن ہو تو اس کے
لئے اسی حد تک مانگنا جائز ہے کہ اس سے اس قرضہ کی ادائی ہو جائے (بشرطیکہ وہ اس کی ادائی سے
قاصر ہو) اور پھر اس کے بعد نہ مانگے۔ (دوسرے) اس شخص کو سوال کرنا جائز ہے جس کا مال و
اسباب کسی آفت ناگہانی کے تحت تباہ و برباد ہو گیا ہو) جیسے کھیتی گھر دار وغیرہ تو ایسے شخص کو) اس حد
تک (مانگنا جائز ہے) جس سے اس کے کھانے اور کپڑے کی ضرورت پوری ہو جائے یا اس حد تک
کہ وہ اپنا کاروبار سنبھار لے سکے (تیسرے) اس شخص کو (بھی) سوال کرنا جائز ہے جو ایسے
فقر و فاقہ میں مبتلا ہو گیا ہو کہ جس کی تصدیق ایسے تین سمجھدار آدمی کرتے ہوں جو اس کو جانتے
پہچاننے والے ہوں (تو اس کو) اس حد تک (مانگنا جائز ہے) کہ جس سے اس کی خوراک اور لباس کی
ضرورت پوری ہو جائے یا اس حد تک کہ وہ اپنی زندگی کو سنبھال لے سکے۔ اے قبیصہ! ان تینوں کے
سوا کسی کو سوال کرنا جائز نہیں ہے (اگر کوئی شخص ان تینوں صورتوں کے سوا سوال کرے گا) تو ایسا
سوال اس کے لئے حرام ہوگا اور (اس سوال کے ذریعہ سے) وہ حرام مال کھائے گا۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1044 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Until he obtains enough to sustain himself.
(1) The statement: “Until he obtains enough to sustain himself.” Al-Tahawi said: “The Messenger of Allah (ﷺ) permitted the needy to ask until he obtains enough to sustain himself. This indicates that charity is not prohibited for the healthy if the giver intends to relieve his poverty. It is only prohibited if the recipient intends something else, such as increasing his wealth. Whoever seeks it for other than the three reasons mentioned by the Messenger of Allah (ﷺ) in the hadith of Qabisah ibn Mukhariq is consuming it unlawfully.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: يصيب قواما إلخ : وقال الطحاوي: فأباح رسول الله ﷺ في هذا الحديث لذي الحاجة أن يسأل لحاجته حتى يصيب قوامًا من عيش أو سدادًا من عيش. فدل ذلك أن الصدقة لا تحرم بالصحة إذا أراد بها الذي تصدق بها عليه سد فقره، وإنما تحرم عليه إذا كان يريد بها غير ذلك من التكثر ونحوه. ومن يريد بها ذلك فهو ممن يطلبها لسوى المعاني الثلاثة التي ذكرها رسول الله ﷺ في حديث قبيصة بن مخارق الذي ذكرنا: «فهو عليه سحت».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ حاجت مند اپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے سوال
کر سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل کے سوال کرنے کے لئے معذوری اور بیماری شرط نہیں
ہے۔ تندرست آدمی جو فقر و فاقہ میں مبتلا ہوا، اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے سوال کر سکتا ہے اور یہی
مذہب حنفی ہے جیسا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔
حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ غنی کے لئے سوال کرنا جائز نہیں ہے (یعنی ایسے شخص کے لئے جس
کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو) اور نہ اس شخص کے لئے (سوال کرنا جائز ہے) جو تندرست اور
طاقت ور ہو (اور کمانے پر قادر ہو) ہاں اس شخص کو (سوال کرنا جائز ہے) جس کو فقر و فاقہ نے زمین
پر گرا دیا ہو، یا زیادہ قرضدار ہو گیا اور جو شخص اپنے مال کو بڑھانے کے لئے لوگوں سے سوال کرتا
پھرے تو یہ (سوال) قیامت کے دن اس کے چہرے پر زخم کی صورت میں نمودار ہوگا اور (اس طرح
کے سوال سے حاصل کیا ہوا مال قیامت کے دن) جہنم کے گرم پتھروں کی شکل میں ہوگا جن کو یہ کھائے
گا (چہرے پر زخم کا عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف غیر اللہ کی طرف
توجہ کی اور سوال کیا اور گرم پتھروں کے کھانے کا عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ اس نے اپنی زبان اور منہ
سے سوال کر کے اللہ تعالیٰ کی شکایت مخلوق سے کی ہے) (جیسا کہ مرقات میں مذکور ہے۔12) تو جو
چاہے اس کو (یعنی ایسے ناجائز سوال کے عذاب کو) کم کرے اور جو چاہے اس کو بڑھا لے۔
اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 653 (unverified) 94% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 2
Asking is not permissible for the wealthy.
(2) The statement: “Asking is not permissible for the wealthy.” In Al-Durr Al-Mukhtar: “It is not permissible to ask for sustenance if one has enough for the day, whether in actuality or potentially, such as a healthy person who can earn.”
Note 2
قوله
(۲) قوله: إن المسألة لا تحل إلخ: وقال في الدر المختار: ولا يحل أن يسأل شيئًا من القوت من له قوت يومه بالفعل، أو بالقوة كالصحيح المكتسب.
Note 1
ف: حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ غنی کے لئے سوال جائز نہیں ہے، اس بارے میں درمختار
میں لکھا ہے جس کسی کے پاس ایک دن کی خوراک موجود ہو تو ایسے شخص کے لئے سوال کرنا جائز نہیں
ہے اور اس شخص کے لئے بھی سوال کرنا جائز نہیں ہے جس کے پاس ایک دن کی خوراک تو موجود نہیں،
لیکن وہ صحیح اور تندرست ہے اور کمانے پر قادر ہے۔12
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (لوگوں سے ان کے مال کا) سوال کرنا زخم ہے کہ آدمی سوال
کر کے اپنے چہرہ کو زخمی کر لیتا ہے (یعنی انسان سوال کر کے اپنے آپ کو بے آبرو کر لیتا ہے) پس جو
شخص چاہے (سوال نہ کر کے اپنی آبرو کو) اپنے چہرہ پر باقی رکھے اور جو چاہے اس کو چھوڑ دے (یعنی
سوال کر کے اپنی عزت اور آبرو کو برباد کر دے) البتہ آدمی حاکم سے (اپنے حق کے لئے) سوال
کرے یا کسی ایسے کام کے لئے جس کے لئے سوال کرنا ناگزیر ہے (لوگوں سے سوال کرے، جیسے
کسی کے پاس ایک دن کی بھی خوراک نہ ہو تو ایسا سوال چہرہ پر زخم کا سبب نہ بنے گا)۔
اس حدیث کی روایت ابوداؤد، ترمذی اور نسائی نے کی ہے۔
ابن الفراسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ان کے والد) فراسی رضی اللہ عنہ
نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا میں لوگوں سے سوال کروں
تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: نہیں (سوال نہ کرو) اور اگر سوال کرنا ضروری ہو تو نیک
لوگوں سے سوال کیا کرو (اس لئے کہ نیک لوگوں کے پاس حلال رزق ہوتا ہے اور وہ کریم ہوتے ہیں
کہ دے کر احسان نہیں جتاتے)۔
اس حدیث کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی (حاجتمند ہواور وہ سوال سے بچنے کے لئے) اپنی
رسی اپنے ہاتھ میں لے اور (جنگل سے) جلانے کی لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لائے اور اس کو بیچ
دے اور اس (معاش) کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اس کی آبرو کو برقرار رکھیں (اور اس کو سوال کی ذلت
سے بچالیں) تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے بھیک مانگتا پھرے، خواہ لوگ اسے دیں یا نہ
دیں۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1471 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ سائل کو لوگ دیں یا نہ دیں دونوں صورتیں اس کے
لئے بہتر نہیں، سائل کو لوگ اگر دیدیں تو یہ اس لئے بہتر نہیں کہ وہ ان کا احسان مند ہوگا اور اس کو مانگنے
کی عادت ہوجائیگی اور اگر سائل کو لوگ نہ دیں تو یہ چیز اس کے لئے اس وجہ سے بہتر نہیں کہ اس نے
سوال کر کے خود کو ذلیل کیا، اور سوال کے باوجود اس کو کچھ ملا بھی نہیں۔
(یہ اشعۃ اللمعات سے ماخوذ ہے)12
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
خدمت اقدس میں حاضر ہوکر کچھ مانگنے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان سے دریافت فرمائے کہ کیا
تمہارے گھر میں کچھ بھی نہیں؟ تو انھوں نے جواب دیا: جی ہاں میرے پاس ایک موٹی کمبل ہے جس
کا ایک حصہ تو ہم اوڑھ لیتے ہیں اور ایک حصہ بچھا لیتے ہیں، اور لکڑی کا ایک چھوٹا پیالہ ہے جس میں
ہم پانی پیتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ تم وہ دونوں چیزیں میرے پاس لاؤ تو وہ
انصاری دونوں چیزیں آپ کی خدمت میں لے آئے، ان دونوں چیزوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
اپنے دست مبارک میں لے کر فرمائے: ان کو کون خریدتا ہے؟ ایک صاحب نے کہا کہ میں ان دونوں
کو ایک درہم میں لیتا ہوں۔ پھر آپ فرمائے کہ اس کو ایک درہم سے زیادہ میں کون خریدتا ہے؟ اس کو
آپ دو یا تین بار فرمائے! اس پر ایک صاحب نے کہا کہ میں ان دونوں کو دو درہم میں لیتا ہوں تو
حضور ان دونوں چیزوں کو ان کے حوالہ فرمائے اور درہم لے لئے اور ان کو انصاری کو دے کر ارشاد
فرمائے کہ ایک درہم کا غلہ لے کر گھر والوں کو دیدو اور دوسرے درہم کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس
لے آؤ تو وہ انصاری کلہاڑی خرید کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم نے اس کلہاڑی میں لکڑی (کا دستہ) اپنے دست مبارک سے لگادی اور فرمایا کہ جاؤ اور لکڑیاں
کاٹ کر فروخت کرو اور پندرہ دن تک تم مجھ سے نہ ملنا (اور اسی کام میں مشغول رہنا) چنانچہ وہ
انصاری چلے گئے (روزانہ) لکڑیاں کاٹتے اور فروخت کیا کرتے، پھر جب وہ آپ کی خدمت میں
حاضر ہوئے تو ان کے پاس دس درہم تھے تو (انھوں نے اس میں سے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ
(یہ دیکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان صاحب سے ارشاد فرمایا کہ یہ کام تمہارے لئے
مانگنے سے بہتر ہے کہ جس کی وجہ سے قیامت کے دن تمہارے چہرہ پر ایک داغ ہوجائے، کیونکہ
مانگنا صرف تین ہی آدمیوں کے لئے جائز ہے: (ایک) اس شخص کے لئے جو فقر و فاقہ سے خاک
آلودہ ہوچکا ہو یا (دوسرے) اس شخص کے لئے جو بہت قرض دار ہو اور (قرض کے بار سے) پریشان
ہو، یا (تیسرے) اس شخص کے لئے جس پر خون بہا واجب ہو اور (اس کو ادا نہ کرسکنے کی وجہ سے)
بہت پریشان ہو۔
اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے اور ابن ماجہ نے بھی اسی کے قریب قریب روایت کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو لوگوں سے اس غرض سے سوال کرتا ہے کہ وہ خوب مالدار بن جائے
تو وہ حقیقت میں (جہنم کے) انگارے مانگتا ہے اب اسے اختیار ہے کہ چاہے وہ اپنے لئے آگ کے
شعلہ کم جمع کرے یا زیادہ (جس میں سے جلنا ہوگا)۔ اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جو شخص لوگوں سے (بغیر استحقاق کے) مانگتا رہتا ہے تو قیامت کے
دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرہ پر ذرہ برابر بھی گوشت نہیں رہے گا۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ مانگنے میں اصرار کر کے زچ نہ کیا کرو۔ کیوں کہ خدا کی قسم اگر کسی کے
مانگنے کی وجہ سے میں بادل ناخواستہ کچھ دے دیتا ہوں تو اس کو میں نے جو مال دیا ہے اس میں برکت
نصیب نہ ہوگی۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں: جو کوئی فاقہ کشی میں مبتلا ہوگیا ہو، یعنی کوئی سخت حاجت درپیش ہوگئی
ہو اور اس نے (بطور شکایت) لوگوں پر ظاہر کر کے ان سے حاجت روائی کی خواہش کی ہو تو اس کی
حاجت پوری نہیں ہوگی اور جو اپنی حاجت کو (بجائے مخلوق کے) اللہ تعالیٰ کے آگے پیش کیا ہو تو اللہ
تعالیٰ اس کی حاجت بقدر کفایت جلد پوری فرما دیں گے وہ اس طرح کہ یا تو اس کو غنی کر دیں گے یا
اس کو موت سے ہمکنار کر دیں گے۔ اس کی روایت ابوداؤد اور ترمذی نے کی ہے۔
ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص مجھ سے اس بات کا عہد کرے کہ وہ لوگوں سے سوال نہ کرے گا
میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوتا ہوں تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم) میں (اس بات کا عہد کرتا ہوں کہ کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کروں گا) اس کے بعد حضرت
ثوبان کا یہ حال رہا کہ وہ کسی سے بھی کسی چیز کا سوال نہیں کرتے تھے۔
اس کی روایت ابوداؤد اور نسائی نے کی ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم مجھے اس بات پر عہد لینے کے لئے بلائے کہ میں لوگوں سے کبھی کسی چیز کے لئے سوال نہ
کروں، میں نے عرض کیا: جی ہاں (میں اس کا اقرار کرتا ہوں کہ کبھی کسی سے کوئی چیز نہیں مانگوں گا)
اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم (تاکیداً) ارشاد فرمایا کہ اگر تمہارے ہاتھ سے چابک بھی گر جائے (تو
کسی سے نہ مانگنا) بلکہ سواری سے اتر کر خود اس کو اٹھا لیا کرنا۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ عرفہ کے دن
(مقام عرفات میں) ایک شخص کو سوال کرتے ہوئے سن کر فرمایا: کیا اس (مبارک) دن میں اور
اس (مبارک) جگہ میں تو غیر اللہ سے سوال کر رہا ہے؟ (یہ فرماتے ہوئے) آپ نے اس کو درہ سے
مارا (اس لئے کہ اس مبارک مقام میں اللہ تعالیٰ اپنے ہر بندہ کی دعا، قبول فرماتے ہیں، ایسے موقع پر
اللہ ہی سے دعا، کرنی چاہئے)۔ اس حدیث کی روایت رزین نے کی ہے۔
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں کہ لوگو!
جان لو کہ لالچ (حقیقت میں) محتاجی ہے اور (لوگوں سے اپنے آپ کو) بے پروا کر لینا تو نگری ہے
اور انسان جب کسی چیز (کے حاصل کرنے) سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس سے بے پروا ہوجاتا
ہے۔ اس کی روایت رزین نے کی ہے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم (ایک مرتبہ) منبر پر تشریف فرما تھے اور (اس وقت) صدقہ لینے اور سوال سے باز رہنے کا
ذکر فرما رہے تھے (اسی سلسلہ میں ارشاد فرمایا کہ) اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے، بہتر ہے، اس لئے کہ
اوپر کا ہاتھ دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے کا ہاتھ لینے والا ہاتھ ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (کچھ مال) مانگا آپ نے مجھے عطا فرمایا۔ میں نے (دوسری بار) پھر
سوال کیا تو آپ نے (دوبارہ بھی) عطا فرمایا (میں نے تیسری بار سوال کیا) تو حضورؐ ارشاد فرمائے
اے حکیم (دنیا کا) یہ مال ومتاع خوشنما اور لذیذ معلوم ہوتا ہے، پس جو کوئی اس کو (بے مانگے) اور
بغیر طمع کے حاصل کرے تو اس مال میں اس کو برکت دی جائے گی اور جو کوئی لالچ اور حرص کے ساتھ
حاصل کرے تو اس کو ایسے مال میں برکت نہیں دی جائے گی اور اس کا ایسے شخص کا سا حال ہوگا جو
کھائے اور (بے برکتی کے سبب) سیر نہ ہو (اور یہ بھی ارشاد فرمایا اے حکیم) اوپر کا ہاتھ نیچے کے
ہاتھ سے بہتر ہے (یہ سن کر) حکیم کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس ذات عالی کی قسم یا
جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اب اس کے بعد کسی سے سوال نہیں کروں گا، یہاں تک کہ دنیا
سے رخصت ہوجاؤں۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ انصار کے چند
آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (کچھ مال) مانگا تو آپ نے دے دیا۔ انہوں نے
پھر مانگا آپ نے پھر دیدیا یہاں تک کہ جو کچھ آپ کے پاس تھا وہ ختم ہوگیا اس کے بعد حضور ارشاد
فرمائے: مال میں سے جو چیز میرے پاس ہوگی میں اس کو تم سے (بچا کر) جمع نہیں رکھوں گا اور جو
سوال کرنے سے بچے اللہ اس کو بچاتا ہے (اور اس کو کسی کا محتاج نہیں رکھتا) اور جو (لوگوں کے اموال
سے) استغناء ظاہر کرتا ہے (اور اپنے کو سوال سے بے نیاز کرلیتا ہے) اللہ تعالیٰ اس (کے دل) کو غنی
بنا دیتے ہیں (اور لوگوں سے بے نیاز کردیتے ہیں) اور جو شخص (اللہ سے) صبر (کی توفیق) طلب
کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر صبر آسان کردیتے ہیں، اور کسی کو صبر سے بہتر اور وسیع نعمت نہیں دی گئی۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
امیر المومنین حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ کو (زکات وصول کرنے کا) معاوضہ مرحمت فرماتے تو میں عرض کرتا کہ حضور
اس کو مجھ سے زیادہ حاجت مند کو سرفراز فرمائیں تو آپ فرماتے کہ اس کو لے لو اور اپنے مال میں
شامل کرلو اور (اگر تم کو ضرورت نہیں ہے تو) اس کو خیرات کردو، اور (یاد رکھو) کہ جو چیز بغیر سوال اور
طمع کے ملے تو تم اس کو لے لو اور جو چیز اس طرح نہ ملے اس کی خواہش نہ کرو۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابن الساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ
عنہ نے مجھے عامل زکات مقرر فرمایا جب میں (زکات وصول کرنے سے) فارغ ہوگیا اور زکات کا
مال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالہ کردیا تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ مجھ کو میری خدمت کا معاوضہ
دیدیا جائے تو میں نے عرض کیا کہ میں نے تو یہ کام اللہ کے لئے کیا ہے اور میرا اجر اللہ تعالیٰ دیں گے
تو حضرت عمر فرمائے: جو کچھ تم کو دیا جا رہا ہو وہ لے لو۔ میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کے زمانہ میں (زکات وصول کرنے کی) خدمت انجام دی تھی تو حضور ﷺ نے بھی مجھ کو اس کا
معاوضہ دیا تو میں نے بھی وہی کہا تھا جو تم نے کہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے ارشاد
فرمائے کہ جب تم کو کوئی چیز بغیر سوال کے دی جائے (تو اس کو لے لو، اگر حاجت ہو) تو اس کو
استعمال کرلو، اور (اگر غنی ہو تو) خیرات کردو۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1647 (unverified) 90% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: صاحب مرقات نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بیت المال سے عام
کاموں کا معاوضہ لینا جائز ہے جیسے قضاوت، احتساب اور تدریس، بلکہ امام پر واجب ہے کہ بیت
المال سے اس قسم کے کام کرنے والوں کی کفالت کرے۔
سہل بن الحنظلیۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ جس کسی نے (ظَہْرِ غِنًی) تونگری کے باوجود لوگوں
سے سوال کیا تو وہ حقیقت میں جہنم کے انگارے زیادہ سے زیادہ جمع کرلیتا ہے اس پر میں نے عرض
کیا: یا رسول اللہ ’’ظہر غنی‘‘ سے کیا مراد ہے؟ حضور ﷺ ارشاد فرمائے ’’ظہر غنی‘‘ یہ ہے کہ وہ جانتا ہے
کہ اس کے گھر والوں کے لئے ایک دن کی غذا موجود ہے جو ان کے لئے صبح اور شام کفایت کرسکتی
ہے۔ اس کی روایت طحاوی نے کی ہے۔
Enough to feed his family in the morning and evening.
(1) The statement: “Enough to feed his family in the morning and evening.” In Al-Muhit: “Wealth is of three types: wealth that obligates Zakat, which is owning the nisab for a full year; wealth that prohibits charity but obligates the charity of Fitr and the sacrifice, which is owning the value of the nisab from surplus wealth beyond one’s basic needs; and wealth that prohibits asking but not charity, which is having enough for the day and something to cover oneself.” This is mentioned in Al-Mirqat. It also states: “Whoever owns two hundred dirhams is prohibited from taking charity, and whoever has enough for the day is prohibited from asking, but not from taking charity. There is a distinction between taking and asking.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: ما يغديهم وما يعشيهم في المحيط»: الغنى على ثلاثة أنواع، غنّى : يوجب الزكاة، وهو ملك نصاب حولي تام وغنى: يحرم الصدقة ويوجب صدقة الفطر والأضحية، وهو ملك ما يبلغ قيمة نصاب من الأموال الفاضلة عن حاجته الأصلية. وغنى: يحرم السؤال دون الصدقة، وهو أن يكون له قوت يومه وما يستر عورته. قاله في «المرقاة». وقال فيه أيضًا: إن من ملك مائتي درهم يحرم عليه أخذ الصدقة، ومن ملك قوت يومه يحرم عليه السؤال، لا أخذ الصدقة. ففرق بين الأخذ وبين السؤال.
سہل بن الحنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کسی نے ایسی حالت میں سوال کیا کہ اس وقت اس کے
پاس اتنا مال موجود ہے جو اس کو سوال سے بے نیاز کر دیتا ہے (اس کے باوجود وہ سوال کرے تو) وہ
حقیقت میں اپنے لئے (جہنم میں) آگ ہی کو زیادہ جمع کر رہا ہے۔
اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sunan Abi Dawud 1629 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: محیط میں مذکور ہے کہ غنی یعنی تونگری کی تین قسمیں ہیں: ایک غنی وہ ہے جو آدمی پر زکات
واجب کرتی ہے یعنی وہ ایسے مال کا مالک ہے جو نصاب کو پہنچتا ہو (ایسے شخص پر سوال کرنا اور دوسروں
کی زکات لینا حرام ہے)۔
غنی کی دوسری قسم وہ ہے کہ اس پر زکات تو واجب نہیں البتہ صدقہ فطر اور قربانی واجب ہے
(ایسے شخص پر بھی سوال کرنا اور دوسروں کی زکات لینا حرام ہے)۔
غنی کی تیسری قسم وہ ہے کہ آدمی کے پاس ایک دن کا خوراک اور اتنا کپڑا موجود ہو جس سے وہ
اپنا ستر چھپا لے تو ایسے شخص پر بھی سوال حرام ہے، البتہ وہ دوسروں سے زکات اور خیرات لے سکتا
ہے۔ یہ مرقات میں مذکور ہے۔
Commentary and footnotes (3)
Note 1
(1) The statement: “Until he obtains enough to sustain himself.” Al-Tahawi said: “The Messenger of Allah (ﷺ) permitted the needy to ask until he obtains enough to sustain himself. This indicates that charity is not prohibited for the healthy if the giver intends to relieve his poverty. It is only prohibited if the recipient intends something else, such as increasing his wealth. Whoever seeks it for other than the three reasons mentioned by the Messenger of Allah (ﷺ) in the hadith of Qabisah ibn Mukhariq is consuming it unlawfully.”
Note 1
(۱) قوله: يصيب قواما إلخ : وقال الطحاوي: فأباح رسول الله ﷺ في هذا الحديث لذي الحاجة أن يسأل لحاجته حتى يصيب قوامًا من عيش أو سدادًا من عيش. فدل ذلك أن الصدقة لا تحرم بالصحة إذا أراد بها الذي تصدق بها عليه سد فقره، وإنما تحرم عليه إذا كان يريد بها غير ذلك من التكثر ونحوه. ومن يريد بها ذلك فهو ممن يطلبها لسوى المعاني الثلاثة التي ذكرها رسول الله ﷺ في حديث قبيصة بن مخارق الذي ذكرنا: «فهو عليه سحت».
Note 1
ف: اس حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ حاجت مند اپنی ضرورت کی تکمیل کے لئے سوال کر سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل کے سوال کرنے کے لئے معذوری اور بیماری شرط نہیں ہے۔ تندرست آدمی جو فقر و فاقہ میں مبتلا ہوا، اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے سوال کر سکتا ہے اور یہی مذہب حنفی ہے جیسا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے۔