Explore Zujajah

Read. Reflect. Return.

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

Hadith 2333

(یہ باب سخاوت کی فضیلت اور بخل کی برائی کے بیان میں ہے)

In this book

Current reading

(اس کتاب میں زکات کا بیان ہے)

(یہ باب سخاوت کی فضیلت اور بخل کی برائی کے بیان میں ہے)

Zujajat al-Masabih 2333Volume 1

اردو

Urdu OCR, pending reviewNoor 2737
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! اپنی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کر دینا تیرے لئے بہتر ہے اور (ضرورت سے زائد) مال کو جمع رکھنا تیرے لئے برا ہے اور (بقدر ضرورت) مال جمع رکھنے پر تجھے ملامت کا خوف نہیں اور (خرچ کی) ابتداء اپنے اہل و عیال سے کرو (جن کی پرورش تمہارے ذمہ ہے) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
  • Candidate: Sahih Muslim 1036 (unverified) 99% confidence

Confidence and text similarity are not editorial verification.

Commentary and footnotes (3)

Note 1

Begin with those under your care.

(1) The statement: “Begin with those under your care.” In Rad Al-Muhtar: “Know that charity is recommended from what is surplus after one’s needs and the needs of those one supports. If one gives charity from what reduces the provision of those under his care, he sins.”

Note 1

قوله

(۱) قوله: بمن تعول وقال في رد المحتار: اعلم أن الصدقة تستحب بفاضل عن كفايته، وكفاية من يمونه، وإن تصدق بما ينقص مؤنة من يمونه أثم.

Note 1

ف: درالمنثور میں لکھا ہے کہ جو مال اپنی اور اپنے اہل و عیال کی کفالت سے زائد ہو، اس کا خیرات کرنا مستحب ہے البتہ اگر کسی نے وہ مال خیرات کر دیا جو اس کے اہل و عیال کی پرورش کے لئے تھا جس سے ان لوگوں کو تکلیف اٹھانی پڑی اور ان کو نقصان ہو تو ایسی خیرات پر وہ شخص گناہگار ہوگا۔12