ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر میرے پاس اُحد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے یہ بات پسند نہ
ہوگی کہ اس پر تین راتیں گزر جائیں اور اس میں سے میرے پاس کچھ باقی رہے، ہاں صرف اتنا رکھ
چھوڑوں گا کہ جس سے قرض ادا ہو جائے۔ اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
And the words of Allah, the Almighty: “And spend from what We have provided you before death comes to one of you, and he says, ‘My Lord, if only You would delay me for a brief term so I would give charity and be among the righteous.’” (Al-Munafiqun 63:10).
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 2389 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih al-Bukhari 6445 (unverified) 96% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے
حاضر ہونے کی اجازت چاہی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اجازت دیدی اور حضرت ابوذر
رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں (اس وقت) ایک لاٹھی تھی، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کعب الاحبار سے
(جو اس وقت وہاں موجود تھے) پوچھا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اور کثیر مال
چھوڑ گئے ہیں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے (کہ انہوں نے اس قدر جو کثیر مال چھوڑا ہے
اس سے ان پر کیا کچھ وبال ہوگا) کعب رضی اللہ عنہ نے (یہ سن کر) جواب دیا کہ (میری رائے میں)
اگر وہ اس مال سے خدا کا حق یعنی زکات نکالتے تھے تو اس سے ان پر کوئی وبال نہ آئے گا (یہ سن کر)
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ (جو وہاں موجود تھے ان کو غصہ آیا اور) انہوں نے اپنی لاٹھی سے کعبؓ کو)
مارتے ہوئے فرمایا میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر
میرے پاس یہ (احد) پہاڑ سونے کا بن جائے اور اس کو میں راہِ خدا میں خرچ کر دوں اور وہ قبول بھی
ہو جائے تو میں اس بات کو ہرگز پسند نہ کروں گا کہ چھ اوقیہ سونا بھی اس میں سے اپنے پیچھے (بچا کر)
چھوڑ جاؤں (یہ کہتے ہوئے) حضرت ابوذرؓ نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا کہ اے عثمانؓ! میں تم کو خدا
کی قسم دیتا ہوں کہ کیا آپ نے بھی ان کلمات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرماتے نہیں سنا
ہے (اور اس سوال کو تین دفعہ دہرایا تو حضرت عثمانؓ نے جواب دیا) ہاں میں نے بھی حضور صلی اللہ علیہ
وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے۔ اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
عقبہ بن الحارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ
پاک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز عصر پڑھی۔ آپ نے سلام پھیرا اور فوراً تیزی
سے اٹھے اور لوگوں کی گردنیں پھاندتے ہوئے ازواج مطہرات کے حجروں میں سے ایک کے حجرہ
کی طرف تشریف لے گئے۔ صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس طرح تیزی سے تشریف
لے جانے سے پریشان ہو گئے۔ جب آپ واپس تشریف لائے اور ملاحظہ فرمایا کہ لوگ آپ کی
اس تیزی سے حیران ہیں تو فرمایا، مجھ کو سونے کی ایک چیز یاد آ گئی جو گھر میں رہ گئی تھی تو مجھے یہ اچھا
نہ معلوم ہوا کہ کہیں یہ مجھے تقرب الہی سے روک دے۔ پس میں نے اس کو تقسیم کر دینے کا حکم دے دیا۔
اس کی روایت بخاری نے کی ہے۔
اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے کہ گھر میں سونے کا ایک ڈلّہ جو زکات کا تھا چھوڑ آیا تھا تو میں نے اس کو برا سمجھا کہ
ایک رات بھی اس کو اپنے پاس رکھوں۔
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے آپ فرماتی ہیں کہ رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی علالت کے زمانہ میں چھ یا سات اشرفیاں میرے پاس تھیں اور حضور صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں ان اشرفیوں کو لوگوں میں تقسیم کر دوں لیکن آپ کی
علالت نے مجھے (ایسا) مشغول رکھا (کہ میں ان کو تقسیم نہ کر سکی) پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
خود ہی مجھ سے دریافت فرمایا کہ ان اشرفیوں کا کیا ہوا؟ میں عرض کی: واللہ! آپ کی علالت نے مجھے
(ایسا) مشغول کر دیا (کہ میں ان کو بروقت تقسیم نہ کر سکی) تو آپ ان اشرفیوں کو طلب فرمائے اور
اپنے ہاتھ میں لے کر ارشاد فرمائے کہ (اللہ تعالیٰ) کیا خیال فرماتے اپنے نبی کے متعلق اگر وہ اس
حال میں اللہ سے ملاقات کرتے کہ یہ اشرفیاں ان کے پاس ہوتیں (کیونکہ مال کا چھوڑ جانا نبوت
کے کمال کے منافی ہے (مرقات، اشعۃ اللمعات) اس حدیث کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کوئی دن ایسا نہیں کہ جس میں صبح کے وقت دو فرشتے (آسمان سے) نہ
اترتے ہوں جن میں سے ایک تو یہ کہتا رہتا ہے کہ اے اللہ (نیک کاموں میں) خرچ کرنے والے
(سخی) کو اس کا بدل (دنیا اور آخرت میں) عطا کر (اور اس کے مال میں زیادتی کر) اور دوسرا یوں
کہتا رہتا ہے کہ اے اللہ بخیل کا مال ضائع کر دے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے
روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک
شخص جنگل میں کھڑا تھا اس نے ابر میں سے ایک آواز سنی کہ (کوئی کہہ رہا تھا) فلاں شخص کے باغ کو
سیراب کر تو وہ ابر ایک جانب کو بڑھا اور اک پتھریلی زمین پر پانی برسایا، وہ پانی چھوٹی چھوٹی نالیوں
سے ایک بڑے نالے میں جمع ہو کر آگے بڑھا وہ شخص (جو اس منظر کو دیکھ رہا تھا یہ معلوم کرنے کے
لئے کہ پانی کہاں جاتا ہے) پانی کے ساتھ ساتھ چلا، ناگہاں اس نے ایک شخص کو دیکھا جو اپنے باغ
میں کھڑا ہوا اپنے بیلچے سے پانی کو ادھر اُدھر پھیلا رہا تھا۔ اس شخص نے (باغ والے سے) پوچھا کہ
اے بندۂ خدا آپ کا نام کیا ہے؟ تو اس شخص نے (جواب میں) وہی نام بتلایا جو اس نے ابر میں سے
سنا تھا (تو باغ والے نے) اس شخص سے پوچھا کہ تم نے میرا نام کیوں دریافت کیا ہے؟ تو اس شخص
نے جواب دیا کہ میں نے اس ابر میں سے جس کا یہ پانی ہے یہ آواز سنی تھی کہ فلاں شخص کے باغ کو
سیراب کر (یعنی) تیرا نام لیا۔ پس بتا کہ تو اپنے باغ میں (ایسا) کونسا نیکی کا کام کرتا ہے (کہ جس کی
وجہ سے مجھ پر یہ مہربانی ہوئی) باغ والے نے جواب دیا (میں نہیں چاہتا تھا کہ اپنے اس راز کو فاش
کروں) لیکن اب جبکہ تم پوچھ ہی رہے ہو تو (تم کو بتاتا ہوں) کہ میرے باغ میں جو کچھ پیداوار
ہوتی ہے اس کا ایک تہائی تو میں خیرات کر دیتا ہوں اور ایک تہائی اپنے اور اپنے اہل و عیال پر خرچ
کرتا ہوں اور ایک تہائی کو (کاشت کے لئے باغ میں) لگا دیتا ہوں۔
اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 2984a (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: تحفۃ الاخیار میں لکھا ہے مستحب یہ ہے کہ منافع میں ایک تہائی مال خدا کی راہ میں خرچ
کریں اور حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے بحکم الٰہی پانی برساتے ہیں اور یہ حکم نام و
نشان کے ساتھ ہوتا ہے کہ فلاں ملک، فلاں شخص کے کھیت میں پانی برساؤ اور اسی طرح دنیا کے سب
کام فرشتے حسب الحکم کرتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ جو نعمت ان کو ملے خواہ وہ مال کی ہو یا جان
کی، اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرے اور اس کو اتفاقی نہ سمجھے۔
اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (اللہ کی خوشنودی میں مال) خرچ کرتی جاؤ اور گنتی مت رکھو (کہ کیا دی اور
کتنا دی، اگر گنتی رکھو گی تو آئندہ دینے سے تم رک جاؤ گی اور) اللہ تعالیٰ بھی تم کو شمار کر کے دے گا،
اور (فقیر سے مال کو) مت روکو، کیونکہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے (مال کو) روک دے گا (کم زیادہ کا خیال
مت کرو) تم سے جتنا بھی ہو سکے دیدیا کرو۔ اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ (ایک حدیث قدسی میں اس طرح) سے روایت ہے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ابن آدم تو خرچ کرتا جا، میں
تجھ کو دیتا جاؤں گا، (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اس لئے کہ خرچ کرنا مالی نعمت کا شکر ادا کرنا ہے
اور شکر زیادتی نعمت کا سبب ہوتا ہے) (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔)
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفق طور پر کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایک
دفعہ) حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے، اس وقت ان کے پاس کھجوروں کا ایک
ڈھیر لگا ہوا تھا (یہ دیکھ کر) حضور صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرمائے کہ یہ کیا ہے اے بلال! تو حضرت
بلال نے عرض کیا: یہ کھجوریں، جس کو میں نے آئندہ کے لئے جمع کیا ہے (یہ سن کر) آپ ارشاد
فرمائے: اے بلال! کیا تم اس سے نہیں ڈرتے کہ یہ (کھجور کا ڈھیر) کل قیامت کے دن دوزخ کی
آگ کا دھواں بن کر تم کو آ لپیٹے (اور مزید یہ بھی فرمائے) اے بلال! خرچ کرتے جاؤ اور عرش
(عظیم) کے مالک سے افلاس اور فقر کا اندیشہ مت رکھو (یہ ارشاد مقام توکل اور حق سبحانہٗ و
تعالیٰ پر کمال اعتماد کی تعلیم کے لئے ہے، ورنہ اہل و عیال کے لئے ایک سال کا مال جمع
کرنا جائز ہے (جیسا کہ مرقات اور اشعۃ اللمعات میں مذکور ہے۔12)
اس حدیث کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ اے ابن آدم! اپنی ضرورت سے زائد مال کو خرچ کر دینا تیرے لئے
بہتر ہے اور (ضرورت سے زائد) مال کو جمع رکھنا تیرے لئے برا ہے اور (بقدر ضرورت) مال جمع
رکھنے پر تجھے ملامت کا خوف نہیں اور (خرچ کی) ابتداء اپنے اہل و عیال سے کرو (جن کی پرورش
تمہارے ذمہ ہے) اس حدیث کی روایت مسلم نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih Muslim 1036 (unverified) 99% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (3)
Note 1
Begin with those under your care.
(1) The statement: “Begin with those under your care.” In Rad Al-Muhtar: “Know that charity is recommended from what is surplus after one’s needs and the needs of those one supports. If one gives charity from what reduces the provision of those under his care, he sins.”
Note 1
قوله
(۱) قوله: بمن تعول وقال في رد المحتار: اعلم أن الصدقة تستحب بفاضل عن كفايته، وكفاية من يمونه، وإن تصدق بما ينقص مؤنة من يمونه أثم.
Note 1
ف: درالمنثور میں لکھا ہے کہ جو مال اپنی اور اپنے اہل و عیال کی کفالت سے زائد ہو، اس کا
خیرات کرنا مستحب ہے البتہ اگر کسی نے وہ مال خیرات کر دیا جو اس کے اہل و عیال کی پرورش کے لئے
تھا جس سے ان لوگوں کو تکلیف اٹھانی پڑی اور ان کو نقصان ہو تو ایسی خیرات پر وہ شخص گناہگار
ہوگا۔12
امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ فرماتے ہیں رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ (بیمار ہونے یا موت سے پہلے) صدقہ دینے میں جلدی
کرو، اس لئے کہ (صدقہ دینے سے) بلاء آتی نہیں (یا اگر آئی ہے تو دفع ہوجاتی ہے)۔
اس حدیث کی روایت رزین نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ بخیل اور سخی کی مثال ان دو آدمیوں جیسی ہے جو لوہے کے دو زرہیں پہنے
ہوئے ہوں (اور جو اس قدر تنگ ہوں) کہ ان کے دونوں ہاتھ ان کے سینے اور ہنسلی کی ہڈیوں تک
جکڑے گئے ہوں۔ پس جب کبھی سخی خیرات کا ارادہ کرتا ہے اور خیرات دینے لگتا ہے تو اس کے (دونوں
جکڑے ہوئے ہاتھ کشادہ ہوجاتے ہیں) اور زرہ کھل جاتی ہیں، اور بخیل جب کبھی خیرات کرنے کا
ارادہ کرتا ہے تو اس کے (دونوں) ہاتھ (اور) سکڑ جاتے ہیں اور زرہ کی ہر کڑی اپنی اپنی جگہ تنگ
ہوجاتی ہے (یعنی سخی جب خیرات کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ کھل جاتا ہے اور وہ خیرات کر دیتا
ہے، اس کے برخلاف بخیل جب کسی کو کچھ دینے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا سینہ اور تنگ ہوجاتا ہے اور
وہ دینے سے رک جاتا ہے) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ جو شخص اپنی موت کے وقت خیرات کرے یا غلام باندی آزاد کرے،
اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کسی کو ایسے وقت تحفہ دے جبکہ (لینے والے کا) پیٹ بھرا ہوا ہو (یعنی
جس طرح کسی پیٹ بھرے ہوئے کو کھانا دینے سے اتنا ثواب نہیں ہے جتنا کہ بھوکے کو کھانا کھلانے
میں ہے، اسی طرح مرتے وقت خیرات کرنے میں اتنا ثواب نہیں ہے جتنا زندگی میں خیر خیرات
کرنے سے ثواب ملتا۔ اس حدیث کی روایت امام احمد، نسائی، دارمی اور ترمذی نے کی ہے اور ترمذی
نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ سخاوت جنت میں ایک درخت (کے مانند) ہے (جس کی شاخیں دنیا
میں پھیلی ہوئی ہیں تو جو کوئی سخی ہوگا وہ اس (درخت) کی کسی ایک شاخ کو پکڑے گا اور یہ شاخ اس
شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک کہ اس کو جنت میں داخل نہ کرے، اور بخل (بھی) دوزخ
میں ایک جھاڑ (کے مانند) ہے، جس کی شاخیں بھی دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں تو جو کوئی بخیل ہوگا وہ اس
(جھاڑ) کی کسی ایک شاخ کو پکڑے گا اور یہ شاخ اس شخص کو اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک کہ
اس کو جہنم میں داخل نہ کر دے۔
اس کی روایت بیہقی نے شعب الایمان میں کی ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ظلم کرنے سے بچتے رہو کہ ظلم قیامت کے روز بہت تاریکیوں کا سبب ہوگا اور
شُح سے بچو (شُح یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے مال کا ذمہ دار ہو، اور کوشش یہ کرتا ہو کہ اس دوسرے کا
مال بھی خرچ نہ ہو، اور یہ بخل کی ایک قسم ہے) کیوں کہ شُح نے تم سے پہلے کی امتوں کو ہلاک کر دیا کہ
ان کو خونریزی پر اور حرام کو حلال کرنے پر تک آمادہ کر دیا تھا۔ اس کی روایت مسلم نے کی ہے۔
ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں (ایک دفعہ) نبی کریم
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کعبۃ اللہ کے
سایہ میں تشریف فرما تھے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: (اے ابوذر!) ربّ کعبہ کی قسم وہ لوگ سخت نقصان
اور خسارہ میں ہیں۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! وہ کون لوگ ہیں؟ یا رسول
اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے کہ زائد مال جمع کرنے والے۔ مگر وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں
جنہوں نے (اپنے اموال کی) یوں داد و دہش کر دی۔ یہ فرماتے ہوئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے
دست مبارک سے اپنے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں جانب اشارہ فرمایا اور (یہ بھی ارشاد فرمایا کہ)
اس طرح دینے والے بہت کم لوگ ہیں۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ بنی اسرائیل میں تین آدمی تھے (ایک) کوڑھی (دوسرا) گنجا (تیسرا)
اندھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو آزمانے کا ارادہ فرمایا (کہ وہ نعمت کا شکر ادا کرتے ہیں یا نہیں) چنانچہ ان
کے پاس ایک فرشتہ کو (ایک مسکین آدمی کی صورت میں) روانہ کیا۔ فرشتہ پہلے کوڑھی کے پاس آیا اور
اس سے پوچھا کہ تجھ کو کونسی چیز زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا: خوش رنگ اور خوب صورت جلد
اور یہ بات (بھی پسند ہے) کہ میرا یہ مرض دور ہو جائے جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے
ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ فرشتے نے اس پر ہاتھ پھیرا تو اس کا کوڑھ جاتا رہا اور
اس کو اچھا رنگ اور خوب صورت جلد دیدی گئی۔ فرشتے نے (پھر) اس سے پوچھا کہ تجھ کو کونسا مال
زیادہ پسند ہے تو اس نے جواب دیا اونٹ یا گائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کو
گابھن اونٹیاں دیدی گئیں اور فرشتے نے کہا: اللہ تعالیٰ تم کو اس مال میں برکت دے۔ حضور صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ اس کے بعد وہ فرشتہ گنجے کے پاس آیا اور اس سے دریافت کیا کہ تجھ کو
کونسی چیز زیادہ پسند ہے تو اس نے جواب دیا خوب صورت بال اور یہ بات کہ یہ گنجاپن دور ہو جائے
جس کی وجہ سے لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمائے کہ فرشتے نے
اس (کے سر) پر ہاتھ پھیرا اور اس کا گنجاپن جاتا رہا اور اس کو خوب صورت بال دیدیئے گئے۔ (پھر)
فرشتے نے اس سے پوچھا: کونسا مال تجھے زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا: گائے، اس کو حاملہ گائیں
عطا کی گئیں۔ فرشتے نے (اس سے کہا) اللہ تعالیٰ تم کو اس میں برکت عطا فرمائے! حضور صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ فرشتہ (پھر) نابینا کے پاس پہنچا اور پوچھا کہ تم کو کونسی چیز زیادہ پسند ہے تو
اس (نابینا) نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ میری بینائی مجھے دوبارہ عطا فرمائیں تاکہ میں لوگوں کو دیکھ
سکوں۔ حضور فرمائے کہ فرشتے نے اس (کی آنکھوں) پر ہاتھ پھیرا، اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بینائی
اس کو واپس دیدی۔ پھر فرشتے نے پوچھا کہ تم کو کونسا مال زیادہ پسند ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بکریاں
تو اس کو بچے دینے والی بکریاں دیدی گئیں۔ چنانچہ ان دونوں یعنی اونٹ والے کی اونٹنیوں نے اور
گائے والی کی گائیوں نے بچے دیئے۔ اور اس بکری والے کی بکریوں نے بھی بچے دیئے، تو (اونٹ
والے کی) اونٹنیوں سے ایک وادی اور گائے والے کی گائیوں سے ایک وادی اور بکری والے کی
بکریوں سے ایک وادی بھرگئی۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ پھر وہی فرشتہ اپنی اسی
(پہلی) صورت اور ہیئت میں کوڑھی کے پاس آیا اور اس سے کہا کہ میں ایک مسکین اور نادار شخص
ہوں، میرے ذرائع سفر ختم ہوگئے ہیں، اب اللہ کی مدد کے بغیر منزل مقصود تک پہنچنا ممکن نہیں (اور
اللہ کے بعد) پھر تیرا ذریعہ ہے۔ پس میں تجھ سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تجھے اچھا رنگ
اور اچھی جلد اور مال دیا ہے، ایک اونٹ کا سوال کرتا ہوں کہ جس کے ذریعہ سے میں اپنا سفر طے کر
سکوں، اس (کوڑھی) نے جواب دیا کہ مجھ پر بہت حقوق ہیں (ان کی موجودگی میں تجھے کوئی حق نہیں
پہونچتا یہ سن کر) پھر فرشتہ نے کہا میرا خیال ہے کہ تو وہی کوڑھی تو نہیں جس سے لوگ نفرت کرتے
تھے اور تو نادار تھا۔ پس اللہ نے تجھے مال دیا۔ کوڑھی نے (اس کے جواب میں) کہا: یہ مال مجھے اپنے
بڑوں سے نسلاً بعد نسلٍ ملا ہے (یہ سن کر) فرشتہ نے کہا: اگر تو (اپنے قول میں) جھوٹا ہے تو اللہ تجھے اپنی
پہلی حالت میں پلٹا دے، (یعنی تجھے کوڑھی اور نادار کردے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد
فرمائے کہ وہ فرشتہ اپنی اسی (پہلی) شکل میں گنجہ کے پاس پہونچا اور اس سے بھی ایسا ہی سوال و
جواب ہوا جیسا کہ کوڑھی سے ہوا تھا، اور اس نے بھی ویسا ہی جواب دیا جیسا کوڑھی نے جواب دیا تھا
(یہ سن کر) فرشتہ نے اس سے کہا: اگر تو جھوٹ کہہ رہا ہے تو اللہ تجھے پھر ویسا ہی (گنجا اور نادار)
کردے جیسا کہ تو پہلے تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے کہ وہ فرشتہ (اب) نابینا کے پاس اپنی اسی (پہلی)
شکل اور حالت میں پہونچا اور اس سے کہا: میں ایک مسکین آدمی اور مسافر ہوں میرا سامان سفر جاتا رہا
اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر منزل مقصود تک پہونچنا ممکن نہیں (یا اللہ کے بعد) پھر تیرا ذریعہ ہے۔ پس
میں تجھ سے اس ذات کا واسطہ دے کر جس نے تجھے دوبارہ بینائی بخشی ایک بکری کا سوال کرتا ہوں
جس کے ذریعہ سے میں اپنا سفر طے کرسکوں۔ نابینا نے یہ سن کر کہا: بے شک میں نابینا تھا اللہ تعالیٰ
نے مجھے بینائی بخشی تو جس قدر چاہے مال لے جا اور جس قدر تیرا جی چاہے چھوڑ جا۔ اللہ کے لئے جس
قدر مال آج تم لوگے میں تمہیں (اس کی واپسی کی) تکلیف نہیں دوں گا (یہ سن کر) فرشتہ نے کہا: تم
اپنا مال اپنے پاس ہی رکھو تم (تین لوگوں کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ) آزمائش کی گئی تھی کہ تم سچے ہو
یا جھوٹے، مخلص ہو، یا منافق اور شکر گزار ہو یا ناشکرے) پس اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوا اور تمہارے
دونوں ساتھیوں (کوڑھی اور گنجا) سے ناراض ہوا (کہ ان کو اپنی اصلی حالت پر ⟦?⟧ لوٹا دیا گیا)۔
اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایک آزاد کردہ غلام سے روایت ہے وہ کہتے
ہیں کہ (ایک دفعہ ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس (پکے ہوئے) گوشت کا ایک ٹکڑا تحفۃً بھیجا
گیا تھا، چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت پسند تھا اس لئے ام المؤمنین نے خادمہ سے کہا
کہ اس کو گھر میں رکھ دو، ممکن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو تناول فرمائیں تو خادمہ نے
اس گوشت کو گھر کے ایک طاقچے میں رکھ دیا (اس کے بعد) ایک سائل آیا اور دروازہ پر کھڑے ہو کر
سوال کیا: (گھر والو! کچھ) خیرات کرو، اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے، گھر والوں نے سائل کو جواب دیا
کہ خدا تجھے بھی برکت دے تو (یہ سن کر) سائل چلا گیا، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں
تشریف لائے اور فرمایا: ام سلمہ! تمہارے پاس کوئی چیز کھانے کو ہے؟ ام المؤمنین نے عرض کیا کہ
جی ہاں (ہے) تو خادمہ سے کہا کہ جاؤ اور وہ گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لاؤ۔
خادمہ وہاں گئیں (تو دیکھا) کہ (گوشت کی بجائے گارے کے پتھر کا ایک ٹکڑا وہاں رکھا ہے (حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جب یہ واقعہ کا علم ہوا) تو حضورؐ ارشاد فرمائے کہ وہی گوشت، گارے کا پتھر بن گیا
ہے، اس لئے کہ تم نے اسے سائل کو نہیں دیا۔
اس کی روایت بیہقی نے دلائل النبوۃ میں کی ہے۔
حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ خیرات کیا کرو (اور خیرات کرنے کو غنیمت جانو، جب تک
کہ تمہارے پاس مال موجود ہے اور مستحقین بھی مل جاتے ہوں) کیونکہ آئندہ ایک ایسا زمانہ آنے
والا ہے کہ انسان اپنی خیرات کو لے کر پھرے گا لیکن کوئی اس کو قبول کرنے والا نہ ملے گا ہر شخص اس
سے یہی کہے گا اگر تم اس (خیرات) کو کل لاتے تو میں لے لیتا۔ آج مجھے اس کی حاجت نہیں۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Sahih al-Bukhari 1411 (unverified) 98% confidence
Candidate: Sahih Muslim 1011 (unverified) 95% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مرقات اور اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ وہ زمانہ جس میں خیرات کو قبول کرنے والا نہ
ملے گا وہ آخری زمانہ ہوگا جس میں حضرت مہدی ہوں گے اور حضرت عیسیٰ علیہما الصلوٰۃ والسلام نزول
فرمائیں گے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی نے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ کونسی خیرات ہے جس میں زیادہ اجر ملتا ہے؟ تو
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائے کہ ایسی حالت میں خیرات کرے جبکہ تو تندرست ہو اور تجھے مال
جمع کرنے کی حرص ہو، اور تو افلاس سے ڈرتا ہو اور تو نگر بننے کی آرزو دل میں رکھتا ہے (تو ایسی
حالت میں خیرات کرنے میں بڑا اجر اور ثواب ہے) اور (حضور یہ بھی ارشاد فرمائے کہ) خیرات
کرنے میں اتنی سستی اور دیر نہ لگا کہ تمہاری جان کندنی کا وقت آپہونچے اور اس وقت تم یہ وصیت
کرنے لگو کہ اتنا مال فلاں کے لئے اور اتنا فلاں کے لئے، حالانکہ تم یہ جانتے ہو کہ یہ مال فلاں شخص
ہی کو ملے گا (یعنی وارث کو ملے گا) اس حدیث کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ انسان کا اپنی تندرستی کی حالت میں ایک درہم خیرات کرنا
مرتے وقت کے سو درہم خیرات کرنے سے بہتر ہے۔ اس کی روایت ابو داؤد نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ سخی نزدیک ہے اللہ سے نزدیک ہے جنت سے اور نزدیک ہے لوگوں
سے (یعنی لوگوں میں عزیز ہے) اور دور ہوتا ہے دوزخ سے، اور بخیل دور ہے اللہ سے، دور ہے جنت
سے اور دور ہے لوگوں سے اور نزدیک ہے دوزخ سے۔ اور جاہل سخی اللہ تعالیٰ کے پاس زیادہ محبوب
ہے بخیل عابد سے۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
25/2751۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت
ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیبیوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ
(آپ کی وفات کے بعد) ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے ملے گی۔ حضور ﷺ فرمائے کہ
تم میں سے جس کے ہاتھ سب سے بڑے ہوں! تو امہات المؤمنین ایک لکڑی لے کر اپنے ہاتھوں کو
ناپنے لگیں تو حضرت سودہ کا ہاتھ سب سے لمبا تھا (لیکن جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا پہلے
انتقال ہوا تو) ہم کو معلوم ہوا کہ لمبے ہاتھوں سے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی) مراد زیادہ خیرات
کرنے والے ہاتھ تھے، اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا سب سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جا
ملیں اور ان کو خیر خیرات سے بہت محبت تھی۔ اس کی روایت بخاری (اور مسلم) نے کی ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ مومن میں دو باتیں جمع نہیں ہوتیں (ایک) بخل (دوسرے) بد
اخلاقی۔ اس کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
Candidate: Jami al-Tirmidhi 1962 (unverified) 98% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: اشعۃ اللمعات میں لکھا ہے کہ بخل اور بد اخلاقی مومن کے شایان شان نہیں اگر کسی مسلمان
میں یہ خصلتیں موجود ہوں تو اس کو چاہئے کہ وہ ریاضت اور مجاہدہ سے ان کو دور کر دے، تاکہ مومن کامل
کہلانے کا مستحق ہو۔12
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ جنت میں نہ تو دغا باز داخل ہوگا اور نہ بخیل اور (خیرات دے کر) احسان
جتانے والا (بھی) جنت میں داخل نہ ہوگا (جب تک یہ ان برائیوں سے توبہ نہ کر لیں یا ان کی سزا
پا کر چھٹکارا نہ پا لیں یا پھر اللہ تعالیٰ خود اپنے فضل سے ان کو معاف نہ فرما دیں، اس لئے مسلمان کو ان
برائیوں سے بچتے رہنا چاہئے) اس حدیث کی روایت ترمذی نے کی ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ انسان میں دو خصلتیں بدترین ہیں: ایک ایسا بخل جو انسان کو مال کے
حاصل کرنے پر حریص بنا دے اور مال خرچ کرنے کے مواقع پر اس کو بے چین کر دے۔ دوسرے
ایسی بزدلی کہ جو اس کو مشرکین کے مقابلہ میں لڑنے سے روک دے اور ایسی بزدلی جو اس کو نیک کام
کرنے نہ دے۔ اس کی روایت ابوداؤد نے کی ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ کیا میں تم کو ایسا شخص نہ بتاؤں کہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس مرتبہ میں
سب سے برا ہے (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا گیا: جی ہاں! (ضرور بتائیے یا رسول
اللہ) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرمائے: وہ شخص (اللہ کے پاس مرتبہ کے لحاظ سے بدترین
ہے) ہے کہ جس سے اللہ کا واسطہ دے کر سوال کیا جائے، (اور وہ باوجود دینے کی قدرت رکھنے کے
اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ سائل واقعی مستحق ہے) اللہ کے نام پر نہ دے۔
اس کی روایت امام احمد نے کی ہے۔
Candidate: Musnad Ahmad 2918 (unverified) 20% confidence
Mishkat (candidate) 1893
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: مرقات میں لکھا ہے کہ جو شخص سائل کو دینے کی قدرت رکھتا ہو، اور یہ بھی جانتا ہو کہ سائل
واقعی محتاج ہے اور وہ اللہ کا واسطہ دے کر مانگ رہا ہے تو ایسی صورت میں سائل کے سوال کو رد کرنا گناہ
کبیرہ ہے، اگر مسئول حاجت اصلی سے زیادہ مال نہیں رکھتا تو ایسی صورت میں سائل کے سوال کو
رد کرنے سے گنہگار نہ ہوگا۔
الرحمۃ المہداة حاشیہ مشکوٰۃ میں مذکور ہے کہ اگر سائل واقعی احتیاج کے بغیر اللہ کا واسطہ دے کر
مانگے اور اس کو نہ دیا جائے تو ایسا سائل ہی اللہ کے پاس سب سے بدترین شخص ہوگا۔12
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وآلہ وسلم ارشاد فرمائے ہیں کہ (بنی اسرائیل میں سے) ایک شخص نے (اپنے ساتھیوں سے)
کہا: میں (آج کی رات) ضرور کچھ خیرات کروں گا۔ (رات میں خیرات کرنے سے اس شخص کا
مقصد چھپا کر خیرات کرنا تھا) چنانچہ وہ اپنی خیرات لے کر چلا اور (اندھیرے میں) ایک چور کے
ہاتھ دے آیا، جب صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج کی رات چور کو خیرات دی گئی۔ اس شخص
نے (یہ سن کر) کہا اے اللہ! تیرا شکر ہے (اگرچہ کہ میری خیرات) چور کو ملی۔ (اس کے بعد اس نے
کہا آج کی رات پھر) میں ضرور خیرات کروں گا، چنانچہ وہ اپنی خیرات لے کر نکلا اور (اندھیرے
میں) ایک زانیہ کے ہاتھ دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ آج کی رات ایک زانیہ کو
خیرات دی گئی، جب اس شخص نے سنا تو کہا کہ اے اللہ تیرا شکر ہے (کہ میری خیرات) زانیہ کو مل
گئی۔ اس شخص نے پھر کہا کہ میں (آج کی رات بھی) ضرور خیرات کروں گا۔ چنانچہ وہ اپنی خیرات
لے کر نکلا اور (اندھیرے میں) ایک غنی کے ہاتھ دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں میں چرچا ہوا کہ
آج کی رات غنی کو خیرات دی گئی (صدقہ دینے والے نے) کہا: اے اللہ! تیرا شکر ہے کہ (میری
خیرات) چور، زانیہ اور غنی پر خرچ ہوئی۔ پس اس کو خواب میں دکھایا گیا کہ (تیرے تمام صدقات
قبول ہوئے) جو صدقہ تو نے چور کو دیا ممکن ہے وہ اس کو چوری سے باز رکھے اور تو نے جو صدقہ زانیہ
کو دیا ہے ممکن ہے وہ اس کو زنا سے باز رکھے اور جو صدقہ تو نے غنی کو دیا ہے ممکن ہے اس کو عبرت اور
نصیحت ہو اور وہ بھی اس مال میں سے خیرات دینے لگے جو اللہ نے اس کو دیا ہے۔
اس کی روایت بخاری اور مسلم نے متفقہ طور پر کی ہے۔
ام بُجَیْد رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہے کہ میں نے (رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے) عرض کیا کہ یا رسول اللہ مسکین میرے دروازے پر (آ کر) کھڑا رہتا
ہے (اور بار بار سوال کرتا ہے) یہاں تک کہ مجھے شرم آتی ہے، کیونکہ میرے پاس اس کو دینے کے
لئے گھر میں کچھ بھی نہیں ہوتا ہے (ایسی صورت میں میں کیا کروں؟ یہ سن کر) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم ارشاد فرمائے: اگر تیرے پاس جلا ہوا کھر بھی موجود ہو تو وہی اس کے ہاتھ پر رکھ دے (یعنی اس
کو معمولی سے معمولی چیز ہی کیوں نہ ہو دے کر روانہ کر دے، خالی ہاتھ اسے واپس نہ کر)۔
اس حدیث کی روایت امام احمد، ابو داؤد اور ترمذی نے کی ہے۔
اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Commentary and footnotes (1)
Note 1
ف: تحفۃ الاخیار میں لکھا ہے مستحب یہ ہے کہ منافع میں ایک تہائی مال خدا کی راہ میں خرچ کریں اور حدیث شریف سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے بحکم الٰہی پانی برساتے ہیں اور یہ حکم نام و نشان کے ساتھ ہوتا ہے کہ فلاں ملک، فلاں شخص کے کھیت میں پانی برساؤ اور اسی طرح دنیا کے سب کام فرشتے حسب الحکم کرتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہئے کہ جو نعمت ان کو ملے خواہ وہ مال کی ہو یا جان کی، اس پر اپنے رب کا شکر ادا کرے اور اس کو اتفاقی نہ سمجھے۔