اردو
امام مالک رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کو یہ حدیث پہنچی ہے کہ حضرت ابن
عمر رضی اللہ عنہما سے یہ سوال کیا جاتا تھا کہ کیا کوئی شخص دوسرے کی جانب سے (فرض) روزہ رکھ سکتا
ہے یا کوئی شخص کسی دوسرے کی جانب سے (فرض) نماز ادا کر سکتا ہے؟ تو حضرت ابن عمرؓ جواب دیا
کرتے تھے کہ کوئی شخص کسی شخص کی طرف سے نہ تو (فرض) روزے رکھ سکتا ہے اور نہ (فرض) نماز ادا
کر سکتا ہے۔ اس کی روایت امام مالک نے موطا میں کی ہے، اور امام مالک نے کہا ہے کہ میں نے
کسی صحابی سے اور کسی تابعی سے مدینہ میں یہ نہیں سنا کہ جو یہ کہتا ہو کہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ
رکھے یا کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھے۔
اور عبدالرزاق نے اپنی مصنف کے کتاب الوصایا میں حضرت ابن عمر رضی اللہ
عنہما سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا کہ کوئی شخص نہ تو کسی کی طرف سے روزہ رکھے اور نہ کسی کی
طرف سے نماز پڑھے (چنانچہ فتح القدیر میں مذکور ہے کہ اس بارے میں یہی آخری حکم ہے)۔
Possible references (unverified, pending editorial review)
- Candidate: Muwatta Malik 677 (unverified) 35% confidence
Confidence and text similarity are not editorial verification.
Commentary and footnotes (2)
Note 1
(1) The statement: “I have not heard…” This supports the view of abrogation, as it reflects the final ruling established by the Shariah. This is mentioned in Fath al-Qadir.
Note 1
(۱) قوله: لم أسمع إلخ : هذا مما يُؤيد النسخ، وإنه الأمر الذي استقر عليه الشرع آخر. قاله في «فتح القدير».